قومی زبان

لے کے بے شک ہاتھ میں خنجر چلو

لے کے بے شک ہاتھ میں خنجر چلو اوڑھ کر اخلاص کی چادر چلو کوئی چنگاری نہ ہو اس ڈھیر میں سوچ کر ان خشک پتوں پر چلو حادثے باہر کھڑے ہیں گھات میں پھر پلٹ کر خول کے اندر چلو توڑ کر اس خاکداں کی سرحدیں بادلوں کی ٹھنڈی سڑکوں پر چلو فن کی خدمت روٹیاں دیتی نہیں فن کی خدمت چھوڑ کر دفتر ...

مزید پڑھیے

اسی میں مست جوانی ہماری کھیلی تھی

اسی میں مست جوانی ہماری کھیلی تھی جو اب کھنڈر ہے وہ نغمات کی حویلی تھی تو جس پہ مہندی سے لکھتی تھی میرا نام اکثر یہی یہی وہ تری پھول سی ہتھیلی تھی ہوئی یہ مجھ پہ بھی مائل تو کیا تعجب ہے کہ شاعری مرے محبوب کی سہیلی تھی زمانہ کھیل عجب اس کے ساتھ کھیل گیا وہ بے وفا جو مری زندگی سے ...

مزید پڑھیے

دور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرف

دور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرف اب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہر طرف حادثے ہر موڑ پر ہیں گھات میں کیا کیجیے کس قدر ارزاں ہے مرگ ناگہانی ہر طرف جا چھپے اندھی گپھا میں جو قد آور لوگ تھے اور بونوں کی ہوئی ہے حکمرانی ہر طرف آگ کے چپو ہوا کے بادباں مٹی کی ناؤ اور تا حد نظر پانی ہی ...

مزید پڑھیے

چار سو بارود کی بو چار سو خوف و ہراس

چار سو بارود کی بو چار سو خوف و ہراس بند دروازوں کے پیچھے مرد و زن سب بد حواس اس کے وعدوں پر نہ کر تعمیر آشا کا محل ریت کے ٹیلے پہ کیوں رکھتا ہے اس گھر کی اساس سب امیر شہر کے ظلم و ستم سے جاں بہ لب سب امیر شہر کے آگے مگر محو سپاس یوں سیاسی فیصلوں نے عمر بھر روندا ہمیں اس زمین علم و ...

مزید پڑھیے

چاہ کر بھی نہ کوئی ان سے گلہ رکھتا ہوں

چاہ کر بھی نہ کوئی ان سے گلہ رکھتا ہوں اپنے جذبات کسی طرح دبا رکھتا ہوں اپنی تکلیف کا کرتا نہیں اظہار کبھی اشک آنکھوں میں تو غم دل میں چھپا رکھتا ہوں سرکشی اس کی بھلا کیسے سہوں میں ہر بار میں بھی انسان ہوں کچھ میں بھی انا رکھتا ہوں لذت درد ہے وہ جس نے مجھے روکا ہے ورنہ میں اپنے ...

مزید پڑھیے

یہ حقیقت ہے کہ وہ شخص وفادار نہ تھا

یہ حقیقت ہے کہ وہ شخص وفادار نہ تھا ہاں مگر میں بھی وفا کرنے کو تیار نہ تھا عرصۂ ہجر بڑا تھا پہ یہ دشوار نہ تھا دل تو خود ہی مرا آمادۂ دیدار نہ تھا شہر بے حس میں اسیران ہوس سب تھے مگر اے محبت ترا کوئی بھی گرفتار نہ تھا میرا گریہ مرے آنسو مری وحشت کے سوا ہجر کی رات کوئی میرا ...

مزید پڑھیے

مانگا تھا ہم نے دن وہ سیہ رات دے گیا

مانگا تھا ہم نے دن وہ سیہ رات دے گیا سورج ہمیں اندھیرے کی سوغات دے گیا سکے مرے خلوص کے لوٹا دیے مجھے اپنی سمجھ میں وہ مجھے خیرات دے گیا اس کو یہ زعم تھا کہ ہے وہ شوکت چمن جنگل کا ایک پھول اسے مات دے گیا اس کی ہنسی میں لے تھی کس جل ترنگ کی میرے لبوں کو پیار کے نغمات دے گیا مضمون ...

مزید پڑھیے

شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا

شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا میں تیرے سایۂ لطف و عطا میں بیٹھا تھا تمام عمر اسے ڈھونڈنے میں صرف ہوئی جو چھپ کے میرے بدن کی گپھا میں بیٹھا تھا نئی رتوں کی ہوا لے اڑی لباس اس کا وہ کل تلک تو حریم حیا میں بیٹھا تھا درون قافلہ آثار تھے بغاوت کے عجب سا خوف دل رہنما میں بیٹھا ...

مزید پڑھیے

آرزو ایک ندی ہو جیسے

آرزو ایک ندی ہو جیسے زندگی تشنہ لبی ہو جیسے یہ جوانی تری چاہت کے بغیر محض اک جام تہی ہو جیسے کل ہی بچھڑے تھے مگر لگتا ہے اک صدی بیت گئی ہو جیسے عمر بھر قرض چکایا اس کا زیست بننے کی بہی ہو جیسے فصل چاندی کی اگانا سر پر وقت کی جادوگری ہو جیسے ظلم سہہ کر بھی ہے خلقت خاموش مہر ...

مزید پڑھیے

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا لٹ گئی دولت احساس تو پھر کیا ہوگا کون تا صبح جلائے گا تمنا کے چراغ شام سے ٹوٹ گئی آس تو پھر کیا ہوگا جن کی دوری میں وہ لذت ہے کہ بیتاب ہے دل آ گئے وہ جو کہیں پاس تو پھر کیا ہوگا تم سے زندہ ہے تمنائے مذاق احساس تم ہوئے دشمن احساس تو پھر کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1087 سے 6203