لے کے بے شک ہاتھ میں خنجر چلو
لے کے بے شک ہاتھ میں خنجر چلو اوڑھ کر اخلاص کی چادر چلو کوئی چنگاری نہ ہو اس ڈھیر میں سوچ کر ان خشک پتوں پر چلو حادثے باہر کھڑے ہیں گھات میں پھر پلٹ کر خول کے اندر چلو توڑ کر اس خاکداں کی سرحدیں بادلوں کی ٹھنڈی سڑکوں پر چلو فن کی خدمت روٹیاں دیتی نہیں فن کی خدمت چھوڑ کر دفتر ...