نافہم کہوں میں اسے ایسا بھی نہیں ہے
نافہم کہوں میں اسے ایسا بھی نہیں ہے کیا شے ہے محبت وہ سمجھتا بھی نہیں ہے مانا کہ بہت رابطۂ عشق ہے نازک ہم توڑ سکیں جس کو وہ رشتا بھی نہیں ہے ہر شے سے جدا ہے دل برباد کی فطرت جب تک نہ ہو برباد سنورتا بھی نہیں ہے امید ہے وابستہ مری ابر کرم سے اور ابر کرم ہے کہ برستا بھی نہیں ...