قومی زبان

نافہم کہوں میں اسے ایسا بھی نہیں ہے

نافہم کہوں میں اسے ایسا بھی نہیں ہے کیا شے ہے محبت وہ سمجھتا بھی نہیں ہے مانا کہ بہت رابطۂ عشق ہے نازک ہم توڑ سکیں جس کو وہ رشتا بھی نہیں ہے ہر شے سے جدا ہے دل برباد کی فطرت جب تک نہ ہو برباد سنورتا بھی نہیں ہے امید ہے وابستہ مری ابر کرم سے اور ابر کرم ہے کہ برستا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا جس جام کا طالب ہوں وہ جام نہیں آتا مے خواروں کی لغزش پر دنیا کی نگاہیں ہیں نافہمیٔ واعظ پر الزام نہیں آتا اللہ رے مجبوری اللہ رے محرومی یا بارش صہبا تھی یا جام نہیں آتا بیتابیٔ دل راز تسکین محبت ہے اچھے ہیں وہی جن کو آرام نہیں آتا یا دل کے ...

مزید پڑھیے

گل خوش نما کے لباس میں کہ شعاع نور میں ڈھل کے آ

گل خوش نما کے لباس میں کہ شعاع نور میں ڈھل کے آ تجھے ڈھونڈھ لے گی مری نظر تو ہزار رنگ بدل کے آ ترے دل کی آگ حقیقتاً ترے حق میں فصل بہار ہے جو بجھائے سے بھی نہ بجھ سکے اسی دل کی آگ میں جل کے آ تری جستجو بھی حجاب ہے تری آرزو بھی حجاب ہے کبھی دام عقل و شعور سے جو نکل سکے تو نکل کے آ یہ ...

مزید پڑھیے

غم ہے کانٹوں کا نہ اندیشہ بیابانوں کا

غم ہے کانٹوں کا نہ اندیشہ بیابانوں کا عشق ہے راہنما آج بھی دیوانوں کا روح تاریک نظر کور محبت سے گریز کیا فرشتوں میں ہے شہرا انہیں انسانوں کا لفظ جذبات کی تصویر نہیں بن سکتے شکر کیسے ہو ادا حسن کے احسانوں کا دل برباد سے کرتے ہیں جسے ہم تعبیر اسی ویرانے میں اک شہر تھا ارمانوں ...

مزید پڑھیے

وسعت کون و مکاں میں وہ سماتے بھی نہیں

وسعت کون و مکاں میں وہ سماتے بھی نہیں جلوہ افروز بھی ہیں سامنے آتے بھی نہیں پارسائی کا ہماری نہیں دنیا میں جواب وقت آ جائے تو دامن کو بچاتے بھی نہیں ہم وہ میکش ہیں کی ساقی کی نظر پھرتے ہی جام کی سمت نگاہوں کو اٹھاتے بھی نہیں خود ہی رنگ رخ محبوب اڑا جاتا ہے ہم تو روداد غم عشق ...

مزید پڑھیے

وہ بے وفا ہی سہی اس کو بے وفا نہ کہو

وہ بے وفا ہی سہی اس کو بے وفا نہ کہو ادب کی حد میں رہو حسن کو برا نہ کہو شراب عشق کی عظمت سے جو کرے انکار وہ پارسا بھی اگر ہو تو پارسا نہ کہو پڑا ہے کام اسی خود پرست کافر سے جسے یہ ضد ہے کسی اور کو خدا نہ کہو مرا خلوص محبت ہے قدر کے قابل زباں پہ ذکر وفا ہے اسے گلا نہ کہو یہ کیا کہا ...

مزید پڑھیے

اتنے چپ کیوں ہو ماجرا کیا ہے

اتنے چپ کیوں ہو ماجرا کیا ہے آج شاعرؔ تمہیں ہوا کیا ہے واقعہ یہ ہے تھے اسی قابل ہم جو رسوا ہوئے برا کیا ہے حاصل کائنات ہے اس میں میرے ساغر کو دیکھتا کیا ہے دل کی باتیں سنو نگاہوں سے یہ نہ پوچھو کہ مدعا کیا ہے تیری اک اک ادا نے لوٹ لیا ہے وفائی ہے کیا وفا کیا ہے سامنے اپنے آئنہ ...

مزید پڑھیے

سر تسلیم خم کرنا پڑا تقصیر سے پہلے

سر تسلیم خم کرنا پڑا تقصیر سے پہلے محبت کی سزا مجھ کو ملی تعزیر سے پہلے برا ہوگا ہماری راہ میں آیا اگر کوئی کہ ہم شمشیر بن جائیں گے خود شمشیر سے پہلے محبت کی نظر اک اک نفس پر کام کرتی ہے تجھے ہم دیکھ لیتے ہیں تری تصویر سے پہلے محبت کا زمانہ بھی عجب دل کش زمانہ تھا اسیری میری ...

مزید پڑھیے

فسانۂ ستم کائنات کہتے ہیں

فسانۂ ستم کائنات کہتے ہیں یہ اشک غم تو مرے دل کی بات کہتے ہیں وہی نگاہ کہ جس سے جہاں لرزتا ہے ہم اس نگاہ کو راز حیات کہتے ہیں طلوع مہر مبیں تک نظر نہیں جاتی جو بے خبر ہیں وہ دن کو بھی رات کہتے ہیں گل و بہار کا انجام ہے جنہیں معلوم چمن کو دام گہہ حادثات کہتے ہیں ہم اہل عشق ہیں ...

مزید پڑھیے

یاد کر کر کے آہیں بھرتے ہیں

یاد کر کر کے آہیں بھرتے ہیں ان کے کوچے سے جب گزرتے ہیں عشق تو آپ ہی سے کرتے ہیں پھر بھی اظہار سے وہ ڈرتے ہیں زخم الفت مگر نہیں بھرتے چارہ گر تو علاج کرتے ہیں آئنہ ان میں ڈوب جاتا ہے آئنے میں جو وہ سنورتے ہیں میری فطرت میں ہے وفاداری اور مجھ سے گلا وہ کرتے ہیں عشق میں ہائے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1064 سے 6203