قومی زبان

مرا قاتل تو میرا آشنا ہے

مرا قاتل تو میرا آشنا ہے مسلسل درد میں دل مبتلا ہے نہ اب کے ہو گئی شام غریباں نہ جانے کب مرا خیمہ جلا ہے بظاہر زندگی تو کٹ رہی ہے بسر کرنی عجب سا مسئلہ ہے میری پلکوں پہ ہے بے فیض دریا مگر چہرا تو دشت کربلا ہے بچھڑتے وقت مجھ پر ہنسنے والا ابھی کس غم میں اتنا رو رہا ہے تمہارے ...

مزید پڑھیے

یقیں کی ریت پہ خالی سراب بنتی ہوں

یقیں کی ریت پہ خالی سراب بنتی ہوں جھلکتی آنکھ میں ان دیکھے خواب بنتی ہوں مرے وجود کی ظلمت پہ بولنے والے میں دیدہ تر سے کئی آفتاب بنتی ہوں یہ دھوپ چاہ کی جھلسا نہ دے کہیں مجھ کو تمہاری یاد سے اکثر سحاب بنتی ہوں ہوں رسن و دار کے قابل ہے اعتراف مجھے کہ رتجگوں کی سفارش پہ خواب بنتی ...

مزید پڑھیے

یوں لگ رہا ہے میں بھی سمجھ دار ہو گئی

یوں لگ رہا ہے میں بھی سمجھ دار ہو گئی صحرا میں آندھیوں کی طرف دار ہو گئی دل کی زمیں نے معرکہ جھیلا نہ تھا کبھی دھڑکن سحر سے پہلے عزادار ہو گئی آواز دے کے روکنا چاہا اسے مگر میں بد نصیب آج ہی خوددار ہو گئی داغ جگر سے آنکھ کا کاجل بنا دیا میں اپنی داستاں کی اداکار ہو گئی دار و رسن ...

مزید پڑھیے

خود اپنی آنچ سے اک شخص جل گیا مجھ میں

خود اپنی آنچ سے اک شخص جل گیا مجھ میں یہ میں نہیں ہوں تو پھر کون ڈھل گیا مجھ میں یہ کس نے چھید کے رکھ دی مری انا کی سپر یہ کون تیر کی مانند چل گیا مجھ میں پھر اس کی یاد میں دل بے قرار رہنے لگا پھر ایک بار یہ پتھر پگھل گیا مجھ میں یہ آئنے میں مرے عکس کے سوا کیا تھا کہ ایک شخص اچانک ...

مزید پڑھیے

میں رتجگوں کا سفیر ٹھہرا تھا کتنی راتیں گزار آیا

میں رتجگوں کا سفیر ٹھہرا تھا کتنی راتیں گزار آیا ریاض تھا با رسوخ میرا مرے سخن میں نکھار لایا کوئی بھی حالت نہیں دوامی کوئی بھی صورت نہیں مدامی حیات اپنی ہے وہ خزانہ نہیں ہے جس میں قرار مایا نہ مجھ پہ لطف سحر ہوا ہے نہ مجھ پہ وا کوئی در ہوا ہے نہ میں نے دیکھی ہے رت سہانی نہ مجھ ...

مزید پڑھیے

ہر جانب سے آئے پتھر

ہر جانب سے آئے پتھر اشک آنکھوں میں لائے پتھر اذن ملا جب گویائی کا ہم بولے اور کھائے پتھر جب بھی کوئے یار کو نکلے استقبال کو آئے پتھر کیسی یہ تقریب ہے یارو تحفے میں تم لائے پتھر جب لوگوں سے میں اکتایا اپنے میت بنائے پتھر توڑ بھی دیتا ہے یہ ناقدؔ لیکن ٹوٹ بھی جائے پتھر

مزید پڑھیے

حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے ہر بشر مجھ کو

حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے ہر بشر مجھ کو زمانہ بولتا ہے تم بھی کہہ لو درد سر مجھ کو میں ہوں وہ شمع جس کی قدر و قیمت صرف اتنی ہے کسی نے طاق پر رکھا کسی نے قبر پر مجھ کو بھروسے کی سڑک پر بغض کے اتنے گڑھے دیکھے کہ اب اک شخص بھی لگتا نہیں ہے معتبر مجھ کو ہواؤں نے تو کشتی کا مری رخ موڑ ہی ...

مزید پڑھیے

عشق کی راہ میں مر جائے ضروری تو نہیں

عشق کی راہ میں مر جائے ضروری تو نہیں آدمی حد سے گزر جائے ضروری تو نہیں ہیں دعا گو جو ابھی ہاتھ پسارے اپنے ان کی تقدیر سنور جائے ضروری تو نہیں میں نے مانا کہ کٹھن راہ گزر ہے لیکن رائیگاں میرا سفر جائے ضروری تو نہیں نیک اعمال کی بتلائے فضیلت جو سدا خیر کا کار وہ کر جائے ضروری تو ...

مزید پڑھیے

ابھی ہے موسم غموں کا لیکن میں مسکراؤں تو حرج کیا ہے

ابھی ہے موسم غموں کا لیکن میں مسکراؤں تو حرج کیا ہے کہ نوحہ خوانی کے دور میں اک غزل سناؤں تو حرج کیا ہے دکھانا ہے آفتاب کو یہ کہ کون ہے میری شب کا ساتھی میں شام ہونے سے قبل ہی اک دیا جلاؤں تو حرج کیا ہے ہے دقتوں سے بھرا سفر جب نہیں ہے کوئی بھی ساتھ میرے تو اپنے سائے کو میں اگر ہم ...

مزید پڑھیے

لاکھ خشکی کھیت میں کھلیان میں موجود ہے

لاکھ خشکی کھیت میں کھلیان میں موجود ہے آس بارش کی دل دہقان میں موجود ہے بات سب کے فائدے کی ہے یہ کیسے مان لیں جب کہ دھمکی آپ کے اعلان میں موجود ہے منزل مقصود میں اس کی بدولت پاؤں گا اک عدد جو حوصلہ سامان میں موجود ہے ذکر میری ہر غزل میں چاہے اس کا ہو نہ ہو ہاں مگر اک دو جگہ دیوان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1058 سے 6203