کب سے اس دنیا کو سرگرم سفر پاتا ہوں میں
کب سے اس دنیا کو سرگرم سفر پاتا ہوں میں پھر بھی ہر منزل کو پہلی رہ گزر پاتا ہوں میں مرشد مے خانہ کے قدموں پہ سر پاتا ہوں میں اب دماغ مے پرستی عرش پر پاتا ہوں میں ہر طرف ساقی ترا فیض نظر پاتا ہوں میں خانقاہوں میں بھی مستی کا اثر پاتا ہوں میں دم بدم اس رخ پہ اک حسن دگر پاتا ہوں ...