قومی زبان

نظم

کاش یوں ہوتا کہ وفا من کا فرن چاک کر کے فرار پاتی! بخیے ادھیڑ کر اودھم جوت کے من کو چھوڑ جاتی انتظار تمام کٹ جاتے من کی آنکھ لگ جاتی!

مزید پڑھیے

نظم

دعا کرنا میرے دوست ہم اپنے جنون کا خود ہی نوحہ نہ لکھیں دعا کرنا میرے دوست ایک دیوار جو اب بھی فصیل فتح ہے کوئی سیلاب بلا نہ بہا لے جائے دعا کرنا میرے دوست

مزید پڑھیے

نظم

اداسیوں نے من کے گرداگرد اک دھواں سا لپیٹ دیا ہے کالا دھواں روپہلا دھواں دھویں میں کچھ سوز ہے چھوٹے رشتوں کی صدا کا دھویں میں کچھ نور ہے پرائے اپنوں کے چہروں کا سوز و نور کی دھند میں جگر اپنی آنکھیں موند رہا ہے .....میں من بھر دھواں پی لیتی ہوں کسی چارہ ساز کی حاجت نہیں گاتی ہوں.....

مزید پڑھیے

نظم

میں کس کی بیٹی ہوں میری آنکھوں میں نہ کاجل ہے نہ کوئی سپنا سپنے لکس کی ٹکیا تھے جیون ساگر کی اگنی میں پگھل گئے کاجل میں نے کہاں رکھا؟ ماں نے اپنی شادی کی اک چاندی کی ڈبیہ دی تو تھی کاجل بھر کے یاد ہے مجھے ماں اکثر کپاس کے پھول سے روئی لے کر ہلدی اور بالنگو گوندھ کے اک باتی ...

مزید پڑھیے

نظم

عکس دل میں کیسا ہے کس کا ہے انتظار برسوں گزرے اس سائے میں رقصندہ ہوں رنگ چہرے کا چراغ آنکھوں کے دھندلے پڑ گئے کوئی خدا نہ ہم سایۂ خدا ہر لمحہ اک بار گراں دور تک سنسان راستہ گرد آلود

مزید پڑھیے

نظم

تم بار بار جینے کی خاطر میری من کی مٹی میں موت کیوں بوتے ہو؟ جو مٹی تخلیق کا دکھ سہتی ہو بانجھ نہیں ہوتی! تم مجھ سے اور کتنی نظمیں لکھواؤ گے؟ زندگی مجھے دستک دیتے دیتے دم توڑ رہی ہے اس کو جی لینا سب کچھ سہنے سے بہت آسان تھا بغیر تڑپے سب کچھ سہنا سب سے مشکل ہے خوشی کا مر جانا بھی مشکل ...

مزید پڑھیے

خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے

خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑے پر پھپھولوں میں الٰہی نہ مرے پھوٹ پڑے دن دو پہرے ہی شفق شام جہاں میں پھولے آسماں پر لب لعلیں کے اگر چھوٹ پڑے دم نکل جائے خفا ہو کے غم کاکل میں جو پڑے حلق میں پھندا وہ گلا گھوٹ پڑے ہجر ساقی میں دہن سے مرے اچھو ہو کر جو پیوں آب بقا بھی وہ نکل گھوٹ ...

مزید پڑھیے

نظروں سے گلوں کی نونہالو

نظروں سے گلوں کی نونہالو شبنم کی طرح گرا سنبھالو مانو رہ سرکشی نکالو پگڑی مہ و مہر کی اچھالو صیاد خفا ہے بلبل و کبک خاموش رہو نہ بولو چالو اصنام میں شان حق عیاں ہے آنکھیں ہیں تو ان کو دیکھو بھالو ٹھہرو کوئی دم کے مہمان ہیں چلتے تو ہیں ہم بھی چلنے والو مشتاق لقا ہے اک خدائی اب ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا

دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گا مرتے دم لے کے سنبھالا تو سنبھل جاؤں گا تن کفن پوش تو ہو اور ہی پیراہن میں اجلے کپڑے میں بدلتے ہی بدل جاؤں گا چمن دہر میں وہ برگ خزانی ہوں میں گر نہ برباد ہوا آگ میں جل جاؤں گا ہوں وہ ثابت قدم اے چرخ جو بھونچال بھی آئے چاہے ٹل جائے زمیں میں نہیں ...

مزید پڑھیے

شب میں جو زلف رخ پہ بکھر کر سمٹ گئی

شب میں جو زلف رخ پہ بکھر کر سمٹ گئی وہ نور بن کے دن کے اجالے میں بٹ گئی اتنی حسین آئی نہ آئے گی عمر بھر اک تیرے انتظار میں جو عمر کٹ گئی کھویا ہوا تھا تیرے تصور میں جس گھڑی تاریکی جتنی ذہن پہ چھائی تھی چھٹ گئی ہونٹوں پہ رقص کرتا رہا نام جب ترا ہر کامیابی بڑھ کے قدم سے لپٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1045 سے 6203