رہ گزر شیشے کی ہے نہ اس کا در شیشے کا ہے
رہ گزر شیشے کی ہے نہ اس کا در شیشے کا ہے در حقیقت اپنا ہی رخت سفر شیشے کا ہے چلتا پھرتا بولتا سنتا سمجھتا ہے مگر لگنے کو کچھ بھی لگے ہر اک بشر شیشے کا ہے آدم و ابلیس کا کردار دیتا ہے سبق خیر ہے فولاد کی مانند شر شیشے کا ہے بے سبب ٹکراؤ مت تہذیب کے رسم و رواج کچھ ادھر شیشے کا ہے تو ...