قومی زبان

رہ گزر شیشے کی ہے نہ اس کا در شیشے کا ہے

رہ گزر شیشے کی ہے نہ اس کا در شیشے کا ہے در حقیقت اپنا ہی رخت سفر شیشے کا ہے چلتا پھرتا بولتا سنتا سمجھتا ہے مگر لگنے کو کچھ بھی لگے ہر اک بشر شیشے کا ہے آدم و ابلیس کا کردار دیتا ہے سبق خیر ہے فولاد کی مانند شر شیشے کا ہے بے سبب ٹکراؤ مت تہذیب کے رسم و رواج کچھ ادھر شیشے کا ہے تو ...

مزید پڑھیے

تخت چاہا نہ کبھی مسند شاہی چاہی

تخت چاہا نہ کبھی مسند شاہی چاہی ہم نے ظالم سے فقط خیر نگاہی چاہی دار کا خوف نہیں پھر بھی زمیں والوں سے جو صداقت پہ ہو مبنی وہ گواہی چاہی جھوٹ کے بل پہ کوئی وقت کا فرزند ہوا ہم نے سچ بول کہ بس اپنی تباہی چاہی عشق کی رہ میں ظفر یابی کی حسرت لے کر ہم نے ہر دور میں تائید الٰہی ...

مزید پڑھیے

اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر

اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کر آسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کر بھوکیں محلوں پہ نہ منعم سگ دنیا ہو کر ہڈیاں قبر میں رہ جائیں گی چونا ہو کر وہ جلے تن ہوں مرے پر بھی جو مٹی میں ملوں گرد باد اٹھنے لگیں آگ بگولا ہو کر مے کشی میں جو ہوا چشم خماری کا خیال رہ گیا جام ہتھیلی کا ...

مزید پڑھیے

میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے

میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہے جو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہے اس قدر رنج سیہ بختی سے ہوں زار و نحیف دو قدم چلنا بھی جس کو ایک کالے کوس ہے آسماں نان جویں بھی دے تو نعمت جانیے پاؤ روٹی بھی جو ہاتھ آئے سمجھے توس ہے غیر کے خاطر دھرا جاتا ہوں میں مفت خدا کوئی ملزم ہو ...

مزید پڑھیے

کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر

کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کر اللہ اللہ اے برہمن کر ہوگا برباد مثل کاغذ باد سر کو کھینچا فلک پہ گر تن کر خنجر و تیغ کر گلے پہ رواں پھیر کر آنکھ کج نہ چتون کر اے تری شان ہو گیا انساں ایک مشت غبار بن ٹھن کر پاک دامن ہے مریم ثانی چشم تر طفل اشک کو جن کر دل کے ڈسنے میں ہے یہ کالا ...

مزید پڑھیے

ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف

ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرف آنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرف ابرو سے ہم شہید مژہ سے رقیب ہوں تلوار ادھر لگائیے بان اور کی طرف صید زبوں وہ ہوں جو رواں تیر ادھر ہوا اس کی قضا نے بولی کمان اور کی طرف ہم بیکسوں کی قبر سوا ہرگز اے فلک نم گیر کو نہ ابر کے تان اور کی طرف یا ...

مزید پڑھیے

جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم

جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہم برسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہم محروم چمن مرغ قفس بند ازل ہیں صیاد کے پنجرے میں ہیں بچپن سے پلے ہم جب غیر سے ہوتا ہے وہ سفاک بغل گیر تیغ صفہانی کو لگاتے ہیں گلے ہم چکی کی طرح چرخ نے پیسا تو ہمیں کو دانا ہیں زمانے کے گئے اس سے ولی ہم یہ ...

مزید پڑھیے

جان یا دل نذر کرنا چاہئے

جان یا دل نذر کرنا چاہئے کچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئے دل شگافی چاہئے مثل قلم زخم سینے کا نہ سینا چاہئے کاٹ کر سر پار بیڑا کیجیئے تیغ کے گھاٹوں اتارا چاہئے میں فدا ہوں گر تمہیں باور نہ ہو آزما دیکھو اسے کیا چاہئے کشتیٔ مے کا لب جو دور ہو کھیلنا مستوں نواڑا چاہئے مست سر جوش ...

مزید پڑھیے

بوسہ زلف دوتا کا دو

بوسہ زلف دوتا کا دو روحوں بلائیں صدقہ دو رد و بدل کیا بوسہ دو لیتا ایک نہ دیتا دو زلف سیہ کے مجرم ہیں کالے پانی بھجوا دو یہ جائیں گے مثل حباب چھوٹنے دل کا چھالا دو مشرک کیا ہو وحدت میں ایک کو دیکھے جھٹکا دو گھر میں بلا کے قتل کرو دروازے میں تیغا دو ہم پہ کھلا ہے راز کمر اور ...

مزید پڑھیے

ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی

ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی پھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانی میرے رونے سے دل سنگ جو آب آب نہ ہو کوہساروں سے گرے پھر نہ دھڑا دھڑ پانی یہ اندھیرا یہ شب تار کہاں جاؤ گے دن ہیں برسات کے گلیوں میں ہے کیچڑ پانی برق انداز نہ کس طرح کروں نالۂ گرم جان بیتاب ہے بجلی کی طرح تڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1046 سے 6203