قومی زبان

پریتی

تم نہیں ہو مٹنے والی نہیں پاتی ہو جنم تم نئے نئے ہر نئی بہار کے پھولوں میں مانند حیات تمہارے پتے بھی پیلے پڑ جاتے ہیں مانند حیات تمہیں بھی ڈھک دیتی ہے برف پر تمہاری مٹی میں پریتی پکے بچنوں کے بیج دبے ہیں پورا ہونا ہے جن کو بسر اوے میں بھی پیت نہ کرنے کی یہ دھن بیکار ہے یہ مہکار ...

مزید پڑھیے

کھیل رتوں کا

اک رت آئے اک جائے ہم رت رت چونکیں کروٹ بدلیں سو جائیں معصوم گلاب پھواریں بے لفظ تحیر بادل چمکیلے سفینے میداں ٹھہرا ہوا پانی سائے وہ جزیرے دھانی اجلی شادابی آنکھیں بھونرا تو ہنسی فوارہ پھر دھول دھوئیں کا پردہ آنا جانا چونکانا اک کھیل رتوں کا اپنی نظروں سے اوجھل اک سیارہ دل ...

مزید پڑھیے

شہر نوا

اس گرد و نواح میں مہکی تھی وہ نغمہ بہ لب لالے کی کلی پتی پر لپٹی پتی سرکاتی آہستہ خرام سنہری دھوپوں میں اک پوری رت کا خم اس کے امرت سے بھرا اک پوری رت ڈنڈی ڈھلکانے پنکھڑیاں بکھرانے کو درکار ہوئی سب چمن چمن گل حوض لبالب سائے گھنے جھونکوں کی صورت کی رواں دواں افتادہ بظاہر سب ...

مزید پڑھیے

اسیر

افق کے سرخ کہرے میں کہستاں ڈوبا ڈوبا ہے پکھیرو کنج میں جھنکار کو اپنی سموتے ہیں تلاطم گھاس کے بن کا تھما تارے درختوں کی گھنی شاخوں کے آویزاں میں موتی سے پروتے ہیں سبھی سکھیاں گھروں کو لے کے گاگر جا چکیں کب کی دریچوں سے اب ان کے روشنی رہ رہ کے چھنتی ہے دھواں چولہوں کا حلقہ حلقہ ...

مزید پڑھیے

نظم

دغا نے مجھے تہ نشیں رکھا میرے حوصلے میری وفا مسرتیں عشق اور خواب تہوں کے بیچ راکھ ہو گئے میرے چاپ کی زبان دب گئی زندگی دبتی نہیں مجھے دھڑکا سا لگا ہے! دغا بازوں کو خدا کا بھی خدشہ نہیں وہ پانی سے مٹی سے ریت سے نہیں پانچوں وقت مکاری کی جھاگ سے وضو بناتے ہیں اور زندگی کے تانڈؤ ...

مزید پڑھیے

نظم

ایک روز میں نے سجدے سے سر اٹھایا وہ وہ تھا ہی نہیں جس کو میں پوج رہی تھی

مزید پڑھیے

نظم

وہ لوگوں کو روتا دیکھ کر ہنس پڑتی ہے اور جب اسے ہنسنا ہوتا ہے کسی کو بھی رلا دیتی ہے آج اس نے مجھے رلا دیا جب میری آنکھیں روتے روتے سوج گئیں تو کہنے لگی اب میں جی اٹھی ہوں تازہ ہو گئی ہوں میں لرز گئی اللہ تیرے بندے کیسی کیسی غذا لیتے ہیں خود کو زندہ رکھنے کے لیے

مزید پڑھیے

دل تڑپ جائے نہ کیوں سن کر فغان‌ اہل درد

دل تڑپ جائے نہ کیوں سن کر فغان‌ اہل درد ان سے پوچھو جو سمجھتے ہیں زبان‌ اہل درد ایک سے اک بڑھ کے ہے دلچسپ دل کش دل ستاں حال دل افسانۂ غم داستان اہل درد یہ تو کہئے منہ سے اک اف تک کسی نے کی کبھی لے چکے ہیں آپ اکثر امتحان اہل درد ہاتھ دھو لے جان سے کوئی تو جی بھر کر سنے جاں ستان‌ ...

مزید پڑھیے

محبت کی کرشمہ سازیاں آواز دیتی ہیں

محبت کی کرشمہ سازیاں آواز دیتی ہیں تری یادوں کی الھڑ شوخیاں آواز دیتی ہیں مسافر لوٹنا چاہو تو لمحوں میں پلٹ جاؤ تمہیں ساحل پہ ٹھہری کشتیاں آواز دیتی ہیں ذرا سی دیر میں موسم بدلنے کا زمانہ ہے ہوا کے بازوؤں کی چوڑیاں آواز دیتی ہیں خزاں کے خوف سے سہمے پرندو لوٹ بھی آؤ تمہیں پھر ...

مزید پڑھیے

اگر وہ ہم سفر ٹھہریں تو ہم کو ڈر میں رکھتے ہیں

اگر وہ ہم سفر ٹھہریں تو ہم کو ڈر میں رکھتے ہیں بکھر جائیں نہ ہم خود کو مقید گھر میں رکھتے ہیں ہمیں سیارگاں کی گردشیں معلوم ہیں لیکن ہم اپنی گردشوں کو اپنے ہی محور میں رکھتے ہیں سفر کے بعد رہتے ہیں تسلسل میں سفر کے ہم تلاش رزق کا جذبہ شکستہ پر میں رکھتے ہیں ہمارا حال دل اب تک کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1041 سے 6203