وصل کو اک سراب رہنے دیں
وصل کو اک سراب رہنے دیں کچھ تو آنکھوں میں خواب رہنے دیں عشق مہر و وفا نہیں آساں کر نہ پائیں گے آپ رہنے دیں ہر خوشی آپ کو مبارک ہو ہم کو خانہ خراب رہنے دیں روز و شب کا حساب رہنے دیں کیسے گزری جناب رہنے دیں
وصل کو اک سراب رہنے دیں کچھ تو آنکھوں میں خواب رہنے دیں عشق مہر و وفا نہیں آساں کر نہ پائیں گے آپ رہنے دیں ہر خوشی آپ کو مبارک ہو ہم کو خانہ خراب رہنے دیں روز و شب کا حساب رہنے دیں کیسے گزری جناب رہنے دیں
پیار شرطوں پہ مل نہیں سکتا پھول ہوتا ہے بہت نازک سا شک کے کانٹوں پہ کھل نہیں سکتا
مسکرانا سکھا دیا ہم کو دے دیا حرف جوڑنے کا ہنر شعر کہنا سکھا دیا ہم کو شکریہ آپ کی محبت کا درد سہنا سکھا دیا ہم کو
کسی کے ہاتھ پر تحریر ہونا مرا بھی صاحب تقدیر ہونا فقط اک خواب ہو کر رہ گیا ہے ادھورے خواب کی تعبیر ہونا نکلنا روح کی گہرائی سے اور دعا کا حامل تاثیر ہونا یہ ہونا تو ہے لیکن کب یہ ہوگا قبائے زر کا لیر و لیر ہونا حصار ضبط سے باہر تھا وہ اشک جسے تھا درد کی تفسیر ہونا شفیقؔ آخر ہے ...
وفا کے داغ کو دل سے مٹا نہیں سکتا یہ وہ چراغ ہے طوفاں بجھا نہیں سکتا مجھے کچھ ایسی پلائی ہے چشم ساقی نے سرور جس کا کبھی دل سے جا نہیں سکتا کسی کی چین جبیں کو سمجھ دل مضطر خفا وہ ہیں کہ تو الفت چھپا نہیں سکتا قفس قفس ہے گلوں سے سجا کرے صیاد چمن کا لطف اسیری میں آ نہیں سکتا کبھی ...
چرچے ہر اک زبان پہ حسن بتاں کے ہیں عنواں جدا جدا اسی اک داستاں کے ہیں پھولوں کے قہقہے ہوں کہ فریاد عندلیب دونوں ہی سوز و ساز اسی گلستاں کے ہیں رہزن اگر ہے گھات میں کیا شکوہ ہم صفیر خود اپنے راہبر ہی عدو کارواں کے ہیں کیا خاک ہوں گے عشق کی منزل سے آشنا کشتہ ہر اک قدم پہ جو سود و ...
کب مجھے طالع ناساز پہ رونا آیا دل ناداں کی تگ و تاز پہ رونا آیا اس کی پرسش پہ جو دیکھا متبسم مجھ کو رازداں کو مرے انداز پہ رونا آیا آج صیاد کو بھی اپنے گرفتاروں کی جانے کیوں کوشش پرواز پہ رونا آیا آ گیا سامنے انجام تڑپ اٹھا دل اپنے افسانے کے آغاز پہ رونا آیا منحصر اشک کی دو ...
مہماں ہے کوئی دم کا زمانہ شباب کا رکتا ہے کارواں بھی کہیں انقلاب کا دور شگفتنی ہے یہ مانا مگر سنو میری نگاہ میں ہے ابھرنا حباب کا اعجاز ارتقا کا تماشا تو دیکھیے ذرہ بھی ہم رکاب ہے اب آفتاب کا سن کر وہ ماجرائے دل زار بول اٹھے یہ واقعہ نہیں ہے کرشمہ ہے خواب کا بیکار قادریؔ ...
ہم قوت جذب دل دکھائیں اور پھر وہ ہمارے گھر نہ آئیں کیا چیر کے سینۂ دل دکھائیں کچھ حال سنو تو ہم سنائیں اے بخت کہاں تلک برائی اے چرخ کہاں تلک جفائیں ہم سینہ سپر کئے کھڑے ہیں وہ شوق سے خنجر آزمائیں جو کام میں غیر کے ہوئیں صرف افسوس وہ دل ربا ادائیں شاید کہ ہے گرم نالہ ...
موسم گل آ گیا پھر دشت پیمائی رہے اے جنوں لازم ہے شغل آبلہ پائی رہے لاکھ مضراب الم کی کار فرمائی رہے اے رباب عشق پھر بھی نغمہ پیرائی رہے دیکھنا ہے سوز و ساز موسم گل کی بہار امتزاج شعلہ و شبنم کی رعنائی رہے آ سکا لب تک کسی کے بھی نہ حرف مدعا ہم تمنائی رہے وہ بھی تمنائی رہے ہم ...