قومی زبان

وصل کو اک سراب رہنے دیں

وصل کو اک سراب رہنے دیں کچھ تو آنکھوں میں خواب رہنے دیں عشق مہر و وفا نہیں آساں کر نہ پائیں گے آپ رہنے دیں ہر خوشی آپ کو مبارک ہو ہم کو خانہ خراب رہنے دیں روز و شب کا حساب رہنے دیں کیسے گزری جناب رہنے دیں

مزید پڑھیے

ہائیکو

پیار شرطوں پہ مل نہیں سکتا پھول ہوتا ہے بہت نازک سا شک کے کانٹوں پہ کھل نہیں سکتا

مزید پڑھیے

کسی کے ہاتھ پر تحریر ہونا

کسی کے ہاتھ پر تحریر ہونا مرا بھی صاحب تقدیر ہونا فقط اک خواب ہو کر رہ گیا ہے ادھورے خواب کی تعبیر ہونا نکلنا روح کی گہرائی سے اور دعا کا حامل تاثیر ہونا یہ ہونا تو ہے لیکن کب یہ ہوگا قبائے زر کا لیر و لیر ہونا حصار ضبط سے باہر تھا وہ اشک جسے تھا درد کی تفسیر ہونا شفیقؔ آخر ہے ...

مزید پڑھیے

وفا کے داغ کو دل سے مٹا نہیں سکتا

وفا کے داغ کو دل سے مٹا نہیں سکتا یہ وہ چراغ ہے طوفاں بجھا نہیں سکتا مجھے کچھ ایسی پلائی ہے چشم ساقی نے سرور جس کا کبھی دل سے جا نہیں سکتا کسی کی چین جبیں کو سمجھ دل مضطر خفا وہ ہیں کہ تو الفت چھپا نہیں سکتا قفس قفس ہے گلوں سے سجا کرے صیاد چمن کا لطف اسیری میں آ نہیں سکتا کبھی ...

مزید پڑھیے

چرچے ہر اک زبان پہ حسن بتاں کے ہیں

چرچے ہر اک زبان پہ حسن بتاں کے ہیں عنواں جدا جدا اسی اک داستاں کے ہیں پھولوں کے قہقہے ہوں کہ فریاد عندلیب دونوں ہی سوز و ساز اسی گلستاں کے ہیں رہزن اگر ہے گھات میں کیا شکوہ ہم صفیر خود اپنے راہبر ہی عدو کارواں کے ہیں کیا خاک ہوں گے عشق کی منزل سے آشنا کشتہ ہر اک قدم پہ جو سود و ...

مزید پڑھیے

کب مجھے طالع ناساز پہ رونا آیا

کب مجھے طالع ناساز پہ رونا آیا دل ناداں کی تگ و تاز پہ رونا آیا اس کی پرسش پہ جو دیکھا متبسم مجھ کو رازداں کو مرے انداز پہ رونا آیا آج صیاد کو بھی اپنے گرفتاروں کی جانے کیوں کوشش پرواز پہ رونا آیا آ گیا سامنے انجام تڑپ اٹھا دل اپنے افسانے کے آغاز پہ رونا آیا منحصر اشک کی دو ...

مزید پڑھیے

مہماں ہے کوئی دم کا زمانہ شباب کا

مہماں ہے کوئی دم کا زمانہ شباب کا رکتا ہے کارواں بھی کہیں انقلاب کا دور شگفتنی ہے یہ مانا مگر سنو میری نگاہ میں ہے ابھرنا حباب کا اعجاز ارتقا کا تماشا تو دیکھیے ذرہ بھی ہم رکاب ہے اب آفتاب کا سن کر وہ ماجرائے دل زار بول اٹھے یہ واقعہ نہیں ہے کرشمہ ہے خواب کا بیکار قادریؔ ...

مزید پڑھیے

ہم قوت جذب دل دکھائیں

ہم قوت جذب دل دکھائیں اور پھر وہ ہمارے گھر نہ آئیں کیا چیر کے سینۂ دل دکھائیں کچھ حال سنو تو ہم سنائیں اے بخت کہاں تلک برائی اے چرخ کہاں تلک جفائیں ہم سینہ سپر کئے کھڑے ہیں وہ شوق سے خنجر آزمائیں جو کام میں غیر کے ہوئیں صرف افسوس وہ دل ربا ادائیں شاید کہ ہے گرم نالہ ...

مزید پڑھیے

موسم گل آ گیا پھر دشت پیمائی رہے

موسم گل آ گیا پھر دشت پیمائی رہے اے جنوں لازم ہے شغل آبلہ پائی رہے لاکھ مضراب الم کی کار فرمائی رہے اے رباب عشق پھر بھی نغمہ پیرائی رہے دیکھنا ہے سوز و ساز موسم گل کی بہار امتزاج شعلہ و شبنم کی رعنائی رہے آ سکا لب تک کسی کے بھی نہ حرف مدعا ہم تمنائی رہے وہ بھی تمنائی رہے ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1027 سے 6203