قومی زبان

دیکھ کر اس کو مجھے دھچکا لگا

دیکھ کر اس کو مجھے دھچکا لگا مثل دریا تھا مگر پیاسا لگا نفرتوں کی دھند میں لپٹا لگا آئنے کا نقش بھی جھوٹا لگا سخت جاں تھے بچ گئے اس بار بھی زخم اب کے بھی ہمیں گہرا لگا پورے قد سے ایستادہ جب ہوئے شہر کا ہر شخص پھر بونا لگا کس کی چھاؤں سائباں کرتے شفیقؔ ہر شجر پر خوف کا سایہ لگا

مزید پڑھیے

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دیے ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا خون کی سرخی اندھیروں میں اجالا بن گئی ہم نے ہر صورت چراغوں ...

مزید پڑھیے

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھلسنا برسات رتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے سایا سا مرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے ہونٹوں پہ لرزتی ہوئی خاموش صدا کا آنکھوں کے دریچوں سے گزر کیسا لگا ...

مزید پڑھیے

بجا کہ ہر کوئی اپنی ہی اہمیت چاہے

بجا کہ ہر کوئی اپنی ہی اہمیت چاہے مگر وہ شخص تو ہم سے مصاحبت چاہے گزر رہے ہیں عجب جاں کنی میں روز و شب کہ روح قریۂ تن سے مہاجرت چاہے کماں میں تیر چڑھا ہو تو بے اماں طائر سلامتی کو کوئی کنج عافیت چاہے نکل پڑے ہیں گھروں سے تو سوچنا کیسا اب آئے رہ میں عذابوں کی سلطنت چاہے انا کے ...

مزید پڑھیے

تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا

تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا اس مہیب جنگل میں حوصلہ جواں رکھنا کیا پتا ہوائیں کب مہربان ہو جائیں پانیوں میں جب اترو ساتھ بادباں رکھنا رنجشیں بھلا دینا فاصلے مٹا دینا اک مہین سا پردہ پھر بھی درمیاں رکھنا ہم بھی ہونٹ سی لیں گے جی سکے تو جی لیں گے کیا کوئی ضروری ہے ...

مزید پڑھیے

صاحب زر نہ سہی صاحب عزت ہیں ابھی

صاحب زر نہ سہی صاحب عزت ہیں ابھی اور اک سنگ ملامت کہ سلامت ہیں ابھی یوں تو بے قفل ہیں لب اور صدائیں آزاد پھر بھی الفاظ کہ محروم سماعت ہیں ابھی پر تأثر تھی بہت ان کی خطابت لیکن چند باتیں ہیں کہ مرہون وضاحت ہیں ابھی سچ کے خیمے میں رہیں جھوٹ کی بیعت کر لیں کتنے ہی لوگ کہ پابند ...

مزید پڑھیے

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا

اب جا کر احساس ہوا ہے پیار بھی کرنا تھا پیار جو کرنا تھا اس کا اظہار بھی کرنا تھا اول اول کشتیٔ جاں غرقاب بھی ہونا تھی آخر آخر سانسوں کو پتوار بھی کرنا تھا سب کچھ پانا بھی تھا ہم کو سب کچھ کھونا بھی جیت بھی جانا تھا پھر جیت کو ہار بھی کرنا تھا صحراؤں کی خاک اڑاتے اندھے رستوں ...

مزید پڑھیے

جو بھی ہم سے بن پڑا کرتے رہے

جو بھی ہم سے بن پڑا کرتے رہے رت بدلنے کی دعا کرتے رہے کیسی کیسی چاہتوں کے تھے چراغ جن کو ہم برد ہوا کرتے رہے ٹانک کر خوش رنگ امیدوں کے پھول خشک ٹہنی کو ہرا کرتے رہے رنگ خوشبو سے الگ ہوتے نہ تھے لفظ معنی سے جدا کرتے رہے جانتے تھے چاپلوسی کا ہنر کام پھر بھی دوسرا کرتے رہے خوف ...

مزید پڑھیے

جوں قدم یار نے گھر سے مرے در پر رکھا

جوں قدم یار نے گھر سے مرے در پر رکھا سر رکھا زانو پہ میں ہاتھ جگر پر رکھا ہم کو صیاد نے رکھا جو قفس میں تو آہ دست شفقت کبھی ظالم نے نہ سر پر رکھا سنگ رہ اس کی گلی کا جو کوئی ہاتھ آیا مثل گل میں نے اٹھا کر اسے سر پر رکھا بیٹھے بیٹھے تجھے کون آ گیا یاد آج کمالؔ تو نے رومال جو لے دیدۂ ...

مزید پڑھیے

موسم تھا خوش گوار تمہیں سوچتے رہے

موسم تھا خوش گوار تمہیں سوچتے رہے بے کل و بے قرار تمہیں سوچتے رہے روئے کبھی فضول کبھی یوں ہی ہنس دئے دانستہ بار بار تمہیں سوچتے رہے آنکھیں دھری رہیں تیرے رستے پہ رات بھر ہم کیف انتظار تمہیں سوچتے رہے تم پھر الجھ کے رہ گئے لوگوں کی بھیڑ میں ہم زلف کو سنوار تمہیں سوچتے رہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1026 سے 6203