قومی زبان

خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی

خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی خاموشیوں کی بھیڑ ہے گھر گھر لگی ہوئی سنگ و سگ و صدا سبھی پیچھے پڑے ہوئے اک دوڑ سی ہے ہم میں برابر لگی ہوئی صد اہتمام گریہ بھی آیا نہ اپنے کام بجھتی نہیں ہے آگ سی اندر لگی ہوئی آؤ کہ مطمئن کریں اپنے ضمیر کو مہر سکوت توڑ دیں لب پر لگی ہوئی لازم ہے ...

مزید پڑھیے

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے ادھر ادھر پڑے ہیں سب کٹے ہوئے ہزیمتوں کے کرب کی علامتیں چراغ طاق طاق ہیں بجھے ہوئے تمام تیر دشمنوں سے جا ملے کمان دار کیا کریں ڈٹے ہوئے وصال رت میں ہجر کی حکایتیں اداس کر گئی ہیں دل کھلے ہوئے گھروں کی رونقیں وہی جو تھیں کبھی مگر بھلا دیے گئے گئے ...

مزید پڑھیے

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے چھین ہی لے نہ کوئی آ کے یہ نعمت ہم سے بر سر عام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے ہم جو مظلوم ہیں اک طرح سے ظالم ہیں ہم ہر ستم گار کے بازو میں ہے طاقت ہم سے دیکھ پائے نہ تو آنکھیں ہی بجھا لیں ہم نے اور کیا چاہتا ہے لفظ ...

مزید پڑھیے

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے ہر سوال اس کے لیے ہے ہر جواب اس کے لیے ہجر کے لمحے شماریں یا لکیریں حرف ہم ہر حساب اس کے لیے ہے ہر کتاب اس کے لیے قرب اس کا ہے ہماری واپسی کا منتظر جھیلتے ہیں ہم بھی دوری کا عذاب اس کے لیے وہ ہمارے واسطے رہتا ہے ہر دم مضطرب ہم بھی ہیں آئے ...

مزید پڑھیے

سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا

سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا آج تک نہیں سوچا ہم نے گھر بنانے کا یوں نہ رینگتی رہتیں کاغذوں پہ تصویریں وقت جو ملا ہوتا بال و پر بنانے کا یوں کہاں بھٹکتے ہم خواہشوں کے صحرا میں فن اگر ہمیں آتا مال و زر بنانے کا چل دیے اکیلے ہی جستجوئے منزل میں کام خاصا مشکل تھا ہم سفر ...

مزید پڑھیے

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا خفا جو خود سے ہوئے آئنہ بھی ٹوٹ گیا فضائیں لاکھ بلائیں اڑان کیسے بھریں پروں کے ساتھ ہی جب حوصلہ بھی ٹوٹ گیا اس ایک پیڑ کے در پے تھیں آندھیاں کیا کیا کہ اس کے ٹوٹتے زور ہوا بھی ٹوٹ گیا پرندے ڈھونڈتے پھرتے ہیں پھر سے جائے اماں شجر کے ساتھ ہی ہر ...

مزید پڑھیے

اک پل بھی مرے حال سے غافل نہیں ٹھہرا

اک پل بھی مرے حال سے غافل نہیں ٹھہرا کیوں پھر وہ مرے درد میں شامل نہیں ٹھہرا حالات کے پالے ہوئے عفریت کے ہاتھوں سینے میں کبھی سانس کبھی دل نہیں ٹھہرا ہر خواہش جاں مار کے سب راحتیں تج کے جز میرے کوئی غم کے مقابل نہیں ٹھہرا جس شخص کو آتا تھا ہنر نوحہ گری کا وہ شخص بھی اب کے لب ...

مزید پڑھیے

ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے

ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے فاختاؤں کے لئے کوئی تو گھر باقی رہے ایک تارہ ایک دیپک ایک جگنو ہی سہی رات کی دیوار میں کوئی تو در باقی رہے چاند کی کشتی تہ دریا ہوئی تھی جس جگہ کچھ نشاں باقی رہے کوئی بھنور باقی رہے جانے والے کو کبھی بھی لوٹ کر آنا نہیں لوٹ آنے کی بہر صورت ...

مزید پڑھیے

گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر

گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر قریہ قریہ پھیل رہا ہے تنہائی کا زہر مجھ کو ڈستا رہتا ہے بس ہر دم یہی خیال ایک ہی رخ پر کیوں بہتا ہے دریا آٹھوں پہر کون سا بھولا بسرا غم تھا جو آیا ہے یاد رہ رہ کر پھر دل میں اٹھے درد کی میٹھی لہر میرا جیتے رہنا بھی تو بن گیا ایک عذاب لیکن میرا ...

مزید پڑھیے

کنج تنہائی بسائے ہجر کی لذت میں ہوں

کنج تنہائی بسائے ہجر کی لذت میں ہوں سب سے دامن جھاڑ کر بس اک تری چاہت میں ہوں کون سا سودا ہے سر میں کس کے قابو میں ہے دل ہر قدم صحراؤں میں ہے ہر گھڑی وحشت میں ہوں میں اناؤں کا تھا پروردہ تو پھر دست سوال کس طرح پھیلا کسی کے سامنے حیرت میں ہوں یہ بھی کیا بے چارگی ہے کاغذی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1025 سے 6203