قومی زبان

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی دیا پہنچا نہیں تھا آگ پہنچی تھی گھروں تک پھر ...

مزید پڑھیے

اوپر جو پرند گا رہا ہے

اوپر جو پرند گا رہا ہے نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے مٹی کا بنایا نقش اس نے اب نقش کا کیا بنا رہا ہے گھر بھر کو یہ طاقچہ مبارک خود چل کے چراغ آ رہا ہے اب دوری حضوری کیا ہے صاحب بس جسم کو جسم کھا رہا ہے یہ وقت کا خاص آدمی تھا بے وقت جو گھر کو جا رہا ہے اب میں نہیں راہ میں تو رستہ میری ...

مزید پڑھیے

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے مگر گرفت میں آتا نہیں کہ سایہ ہے جھلس رہے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے کہ رات بھر بڑے زوروں کا ابر برسا ہے ابھی تو کل کی تھکن جسم سے نہیں نکلی ستم کہ آج کا دن بھی پہاڑ جیسا ہے سمجھ رہے تھے جسے ایک مہرباں بادل وہ آگ بن کے ہری کھیتیوں پہ برسا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

یاد نہیں ہے کب اترے تھے خوف سمندر میں

یاد نہیں ہے کب اترے تھے خوف سمندر میں لیکن صدیوں سے ہیں ڈیرے خوف سمندر میں انجانی طاقت کے جتنے روپ ہیں دنیا میں ہم سے سارے ملنے آئے خوف سمندر میں زرد رتوں کے پھول کھلے ہیں ہر اک چہرے پر سارے چہرے ایک سے چہرے خوف سمندر میں مستقبل کی سوچ میں گم ہیں نجم و مہر و ماہ ہر اک شے ہی ڈوبی ...

مزید پڑھیے

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے کچھ درد تھے چن لائے کچھ اشک تھے رو آئے کچھ پاس نہ تھا اپنے بس آس لیے گھومے اک عمر کی پونجی تھی سو اس کو بھی کھو آئے توہین انا بھی کی تحسین ریا بھی کی یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے اک کار نمو برسوں کرتے رہے بن سوچے ہم بیج محبت کے ...

مزید پڑھیے

جاری تھی ابھی دعا ہماری

جاری تھی ابھی دعا ہماری اور ٹوٹ گئی صدا ہماری یاں راکھ سے بات چل رہی ہے تو شعلگی پر نہ جا ہماری جھونکا تھا گریز کے نشے میں دیوار گرا گیا ہماری دنیا میں سمٹ کے رہ گئے ہیں بس ہو چکی انتہا ہماری میں اور الجھ گیا ہوں تجھ میں زنجیر کھلی ہے کیا ہماری آ دیکھ جو ہم دکھا رہے ہیں آ بانٹ ...

مزید پڑھیے

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا میں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا چلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا نشان ہجر بھی ہے وصل کی نشانیوں میں کہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا وہ اس طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرا میں اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے ...

مزید پڑھیے

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ جو تھا تسکین جاں تنہائیوں میں کون تھا وہ مری آواز جیسی اور بھی آواز تھی اک یقیناً تھا کوئی تو پربتوں میں کون تھا وہ جو میرے ساتھ پہنچا منزلوں تک کون ہے یہ جسے میں چھوڑ آیا راستوں میں کون تھا وہ بہت ملتا تھا مجھ سے وار کرنے کا طریقہ جو اک ...

مزید پڑھیے

سوال کرتا نہیں اور جواب اس کی طلب

سوال کرتا نہیں اور جواب اس کی طلب کہ ان کہی کا بھی دہرہ عذاب اس کی طلب زمین شور سے کونپل نمو کی مانگتا ہے نہال خشک سے تازہ گلاب اس کی طلب وہ آنکھ کھلنے کا بھی انتظار کرتا نہیں درون خواب ہی تعبیر خواب اس کی طلب وصال رت کا ہر اک لمحہ اس کے نام کیا مگر ہے گزرے دنوں کا حساب اس کی ...

مزید پڑھیے

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا پہلے خاک کر دینا اور پھر اڑا جانا جسم سے جدا رہنا روح میں سما جانا کوئی آپ سے سیکھے جان پر بنا جانا بے شعور ساتھی نے ساحلوں کے باسی نے ہم کو سر پھرا سمجھا دشت کی ہوا جانا اور گر قریب آتے نقش اور دھندلاتے قربتوں کی دوری کو تم نے فاصلہ جانا بے ضمیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1024 سے 6203