قومی زبان

میری قسمت کا بلندی پہ ستارہ ہوتا

میری قسمت کا بلندی پہ ستارہ ہوتا اپنا کہہ کر جو مجھے تم نے پکارا ہوتا ایک دوجے پہ اگر ہوتا بھروسہ ہم کو فاصلہ آج ہمارا نہ تمہارا ہوتا قید سے اپنی کبھی میں نہیں باہر آتا نام لے کر نہ اگر مجھ کو پکارا ہوتا میری مٹی یوں ہی مٹی میں ہی رہنے دیتے کاش تم نے نہ مجھے پھر سے سنوارا ...

مزید پڑھیے

نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسم

نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسم مرے یار کو مجھ سے نہ کیجو جدا تجھے سرور ہر دوسرا کی قسم وہ صنم کئی دن سے ہے مجھ سے خفا نہیں آتا ادھر کو خدا کی قسم دل مشفق من اسے کھینچ تو لا تجھے جذبۂ کاہ ربا کی قسم یہی چاہے ہے جی کہ گلے سے لگو ذرا میرے دہن سے دہن تو ملو نہیں ...

مزید پڑھیے

زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا

زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا زور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیا تار مژگاں پر چلا جاتا ہے اشک کام پر لڑکا یہ نٹ کا لگ گیا چشم و ابرو پر نہیں موقوف کچھ جان من دل جس کا اٹکا لگ گیا جام گل میں کیوں نہ دے شبنم گلاب صبح دم غنچے کو چٹکا لگ گیا منزل گم کردہ اک میں ہوں نصیرؔ راہ سے جو کوئی بھٹکا لگ ...

مزید پڑھیے

تجھے سناؤں غزل یا سناؤں اپنا غم

تجھے سناؤں غزل یا سناؤں اپنا غم ذرا ارادہ بتا تو بھی کچھ اے میرے صنم میں شاہزادی ہوں الفاظ کے ریاست کی خزانہ شعر و سخن کا کبھی نہ ہوگا کم نبھا رہے ہیں سبھی سے خلوص کے رشتے اسی سے باقی ہے دنیا کے بازووں میں دم جو ہم سے رات میں تنہائی ہم کلام ہوئی سنور گیا مرے جذبوں کا آج سارا ...

مزید پڑھیے

ہمارے اپنے ہمیں شرمسار کرنے لگے

ہمارے اپنے ہمیں شرمسار کرنے لگے ہمیں خبر بھی نہیں ہم سے پیار کرنے لگے وفا ہے آپ کی جھوٹی یہ مانا ہم نے مگر بغیر سوچے ہی ہم اعتبار کرنے لگے بیچارہ دل بھی تھا مجبور اور کیا کرتا ترے خیال اسے بے قرار کرنے لگے ذرا سی گفتگو ہم نے بھی ان سے کیا کر لی وہ رشتہ ایک نیا اختیار کرنے ...

مزید پڑھیے

تمہیں تم سے چرانے آ گئے ہیں

تمہیں تم سے چرانے آ گئے ہیں محبت کو بڑھانے آ گئے ہیں ہنسی کو قید سے آزاد کر دو یہ دیکھو مسکرانے آ گئے ہیں ابھی تو ہم سے ملنے تم چلے آؤ کہ اب موسم سہانے آ گئے ہیں غزل لکھی ہے یادوں میں تمہاری وہی شب بھر سنانے آ گئے ہیں گلے شکوے بہت تھے درمیاں تو کہ اب سارے مٹانے آ گئے ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں میں بے حد پیار تھا اور تم کہیں گم تھے

مری آنکھوں میں بے حد پیار تھا اور تم کہیں گم تھے لبوں پر شعلۂ اظہار تھا اور تم کہیں گم تھے مرے سینے میں طوفان محبت رقص کرتا تھا جگر میں عشق کا آزار تھا اور تم کہیں گم تھے تمہارا ساتھ سارے دنیا والوں کو کھٹکتا تھا ہمارے دل میں غم کا بار تھا اور تم کہیں گم تھے غزل کی صورتوں میں ...

مزید پڑھیے

جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا

جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا دوست افسوس نہ سمجھا مجھے دشمن سمجھا ناتواں وہ ہوں کہ بستر پہ مجھے دیکھ کے آہ تار بستر کوئی سمجھا کوئی سوزن سمجھا تیغ قاتل جو محبت سے لگی آ کے گلے تاب کو اس کی میں اپنی رگ گردن سمجھا اپنے پاجامۂ کمخواب کی ہر بوٹی کو شمع رو شب کو چراغ تہہ دامن ...

مزید پڑھیے

جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقف

جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقف وہ مطلب دل خود کام سے نہیں واقف ہنسا چمن میں جو دل دیکھ صورت صیاد یہ مرغ دانے سے اور دام سے نہیں واقف تمام شہر میں جس کے لیے ہوئے بد نام وہ اب تلک بھی مرے نام سے نہیں واقف ہر ایک عشق کے کب قاعدے سے محرم ہے ہنوز شیخ الف لام سے نہیں واقف ہزار حیف ...

مزید پڑھیے

ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ

ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ نہیں دیکھے آج تک ابر میں مجھے اب دکھانے کو اختر آ شب وعدہ تو اگر آئے ہے تو درنگ کیا ہے مرے گھر آ کہ یہ آنکھیں لگ رہی در سے ہیں شب رشک مہ بخدا در آ مرے سر پہ ہر گھڑی فاختہ کرے کام کیونکہ نہ ارے کا قد دل ربا کے حضور تو نہ چمن میں بن کے صنوبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1016 سے 6203