نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں
نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں حدیث یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں برنگ طوق قمری ہم خط پیمانہ رکھتے ہیں خیال آنکھوں کا تیری جبکہ اے جانانہ رکھتے ہیں تو جوں نرگس ہر اک انگشت بر پیمانہ رکھتے ہیں نمایاں زلف کے حلقے میں کر ٹک خال ...