قومی زبان

نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں

نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں حدیث یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں برنگ طوق قمری ہم خط پیمانہ رکھتے ہیں خیال آنکھوں کا تیری جبکہ اے جانانہ رکھتے ہیں تو جوں نرگس ہر اک انگشت بر پیمانہ رکھتے ہیں نمایاں زلف کے حلقے میں کر ٹک خال ...

مزید پڑھیے

زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا

زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا گھر کو بے شام نہیں صبح کا بھولا پھرتا دیکھنے کو جو مرا تو نہ تماشا پھرتا تو میں جوں شعلۂ جوالہ نہ چلتا پھرتا کب جفاؤں سے تری دل ہے ہمارا پھرتا شک اگر تجھ کو ہے ظالم تو دوبارہ پھرتا بخت برگشتۂ مجنوں ابھی سیدھے ہو جائیں دشت میں آئے اگر ناقۂ ...

مزید پڑھیے

جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا

جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا جامۂ عریانی اپنا زعفرانی ہو گیا بے تکلف ہو جو بیٹھا کھول چھاتی کے کواڑ آئینہ ہو منفعل دیکھ اس کو پانی ہو گیا کیا ہوا بہکائے سے تیرے بھلا اب اے رقیب آخرش اس نے ہماری بات مانی ہو گیا جاگ اے غافل کہ پیری کی ہوئی تیری سحر کٹ گئی غفلت کی شب عہد ...

مزید پڑھیے

مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں

مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں کیا جانے تم کہاں ہو کوئی دم کو ہم کہاں کوچے سے تیرے اٹھ کے بھلا جائیں ہم کہاں جز نقش پا ہے رہبر ملک عدم کہاں دامن کشاں پھرے ہے مری خاک سے ہنوز رکھتا ہے آہ وہ سر مرقد قدم کہاں اس کے صف مژہ سے لڑاوے نشان آہ اے فوج اشک جائے ہے لے کر علم کہاں میرا ہی ...

مزید پڑھیے

خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر

خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر زاغ کو بہر تصدق رکھ سر بیمار پر مجھ کو رحم آتا ہے دست نازک دل دار پر میں ہی رکھ دوں گا گلا اے ہمدمو تلوار پر بے سویدا ہاتھ دل مت ڈال زلف یار پر ماش پہلے پڑھ کے منتر پھینک روئے یار پر گر حفاظت رخ کی ہے منظور تو مٹوا نہ خط باغباں رکھتا ہے کانٹے باغ ...

مزید پڑھیے

میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا

میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا بیٹھا ہوں سر خاک پہ جم اٹھ نہیں سکتا اے اشک رواں ساتھ لے اب آہ جگر کو عاشق کہیں بے فوج و علم اٹھ نہیں سکتا سقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں اے ضعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا سر معرکۂ عشق میں آساں نہیں دینا گاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں ...

مزید پڑھیے

واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرف

واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرف یاں صف عشاق ہیں زیر و زبر دونوں طرف زلف کا سربستہ کوچہ مانگ کا رستہ ہے تنگ دل تری شامت ہے مت جا بے خطر دونوں طرف دیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے شاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف ہے وہ دریا میں نہاتا میں ہوں غرق آب شرم کچھ عجب اک ...

مزید پڑھیے

خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا

خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا یہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھا یہ کون بادہ پرستی ہے اے بت بد مست اٹھا جو بزم سے تیری سو ہو کباب اٹھا مطالعے سے ترے بیت ابروؤں کے شوخ رکھی ہے شیخ نے اب طاق پر کتاب اٹھا بسان نقش قدم جس نے پا تراب کیا وہ راہ عشق میں مٹ کر غرض شتاب اٹھا بہ چشم تر ہی ...

مزید پڑھیے

دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا

دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا شیشہ یہ ایک دم میں پری خانہ ہو گیا شب کیوں کہ سلطنت نہ کرے تاج زر سے شمع رشک پر ہما پر پروانہ ہو گیا کیفیتوں سے گردش چشم بتاں کی دل شیشہ کبھی بنا کبھی پیمانہ ہو گیا طغیانی سرشک سے اپنی بھی بعد قیس دریا کا پاٹ دامن ویرانہ ہو گیا زنجیر کیوں نہ اس کی ...

مزید پڑھیے

دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا

دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا کیوں سگ یار سے خجل مجھ کو پس از فنا کیا کھا گیا استخواں مرے تو نے یہ کیا ہما کیا زخم جگر سے دم بدم کب نہیں خوں بہا کیا تو بھی نہ قاتل اپنے سے دعویٔ خوں بہا کیا اس بت رشک گل نے جب بند قبا کو وا کیا اپنی نظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1017 سے 6203