دل کا ارماں اپنے اندر ہی چھپا رہ جائے گا
دل کا ارماں اپنے اندر ہی چھپا رہ جائے گا کاتب تقدیر کا آخر لکھا رہ جائے گا محفلوں میں دیکھ کے جو پھیرتا ہے اپنا رخ وہ اکیلے میں مجھے ہی سوچتا رہ جائے گا کہہ رہا تھا مجھ سے میرا دوست پیارا ایک دن تو جو بچھڑا زندگی میں اک خلا رہ جائے گا بن پڑا جب کچھ نہیں تو اس کو یہ کہنا پڑا جس دیے ...