قومی زبان

دل کا ارماں اپنے اندر ہی چھپا رہ جائے گا

دل کا ارماں اپنے اندر ہی چھپا رہ جائے گا کاتب تقدیر کا آخر لکھا رہ جائے گا محفلوں میں دیکھ کے جو پھیرتا ہے اپنا رخ وہ اکیلے میں مجھے ہی سوچتا رہ جائے گا کہہ رہا تھا مجھ سے میرا دوست پیارا ایک دن تو جو بچھڑا زندگی میں اک خلا رہ جائے گا بن پڑا جب کچھ نہیں تو اس کو یہ کہنا پڑا جس دیے ...

مزید پڑھیے

روز خزاں چمن میں جو دیکھا ہزار کے

روز خزاں چمن میں جو دیکھا ہزار کے اک مشت پر پڑے تھے تلے شاخسار کے یاران ہم نشین و رفیقان دوست دار سب آشنا ہیں زندگئ مستعار کے جب مند گئی یہ آنکھ تو اے دوست بعد مرگ پھٹکے ہے پاس کون کسی کے مزار کے جو نقش پا رہے سو رہے پھر نہ اٹھ سکے واقفؔ کی طرح ہائے گرے کوئے یار کے

مزید پڑھیے

حکم کیا دے کسی کو وہ جس کی (ردیف .. ن)

حکم کیا دے کسی کو وہ جس کی عمر گزری ہے التجاؤں میں دکھ تو اس بات کا ہر اک کو ہے کیوں اثر اب نہیں دعاؤں میں ہے بہت ہی کٹھن وفا کی ڈگر دیکھ چھالے ہیں کتنے پاؤں میں کیا سہیں گے وہ دھوپ کی تیزی پاؤں جلتے ہیں جن کے چھاؤں میں اب نہ وہ سادگی نہ مہر و وفا کس قدر تھا خلوص گاؤں میں کتنی ...

مزید پڑھیے

پانی کو خون خون کو پانی لکھے گا کون

پانی کو خون خون کو پانی لکھے گا کون جب تم نہیں کبیر کی بانی لکھے گا کون بچپن کی من پسند کہانی لکھے گا کون راجہ تھا ایک ایک تھی رانی لکھے گا کون یکتا ہوں اپنے فن میں مگر اے مری غزل ہر شعر میں ہے کیسی روانی لکھے گا کون مرجھا چکے ہیں چہروں کے مانند لفظ بھی سیماؔ جی اب شگفتہ کہانی ...

مزید پڑھیے

ساتھ چھوٹے نہیں اب گوارا مجھے

ساتھ چھوٹے نہیں اب گوارا مجھے چاہے الزام دے جگ یہ سارا مجھے تیری چاہت نے ایسا نکھارا مجھے جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے تو نہ ہو پاس میرے تو اے جان جاں کوئی لگتا نہیں تجھ سا پیارا مجھے بے خودی میں چلی آئی تیری طرف تو نے جب جب کیا ہے اشارا مجھے پیار نے تیرے مسحور سا کر دیا تو نے ...

مزید پڑھیے

سوچا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا

سوچا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا ہم کو کہاں تھی تاب کسی انحراف کی تیرے کہے کو زیست کا عنواں بنا لیا پلکوں پہ تیری یاد کا تارا سجا لیا مٹھی میں اپنی جیسے کہ جگنو چھپا لیا

مزید پڑھیے

اب تجھ سے اپنے دل کو لگانے کا فائدہ

اب تجھ سے اپنے دل کو لگانے کا فائدہ یادوں کو تیری دل میں بسانے کا فائدہ ہنس ہنس کے آنسو اپنے چھپانے کا فائدہ اہل جہاں کے دل کو جلانے کا فائدہ کہہ تو دیا ہے میں نہیں آؤں گی پھر کبھی آنکھوں کو راستے میں بچھانے کا فائدہ تجھ کو پسند محفل عیش و نشاط ہے غم کے فسانے تجھ کو سنانے کا ...

مزید پڑھیے

تھا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں

تھا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں جس سمت اشارہ تھا ادھر آنے لگا ہوں جب تک تری آنکھوں میں نہیں تھا تو نہیں تھا اب دیکھنے والوں کو نظر آنے لگا ہوں مت کاٹنا رستہ مرا بن کر خط امکاں اے دربدری لوٹ کے گھر آنے لگا ہوں اک وہم سہی پھر بھی مری نفی ہے دشوار اے دوست ہر آہٹ پر اگر آنے لگا ...

مزید پڑھیے

ساعت آسودگی دیکھے ہوئے عرصہ ہوا

ساعت آسودگی دیکھے ہوئے عرصہ ہوا مفلسی کو میرے گھر ٹھہرے ہوئے عرصہ ہوا لمحۂ راحت رسا دیکھے ہوئے عرصہ ہوا ماں ترے شانے پہ سر رکھے ہوئے عرصہ ہوا ہجر کی تاریکیوں کا سلسلہ ہے دور تک چاندنی کو چاند سے بچھڑے ہوئے عرصہ ہوا زندگی بے خواب لمحوں میں سمٹ کر رہ گئی ہجر میں تیرے پلک جھپکے ...

مزید پڑھیے

گرمی پہلوئے دلدار نے سونے نہ دیا

گرمی پہلوئے دلدار نے سونے نہ دیا مجھ کو رنگینی افکار نے سونے نہ دیا یوں ہی تکتا رہا تاروں کو سحر ہونے تک رات بھر دیدۂ بیدار نے سونے نہ دیا رات بھر لذت قربت سے رہا محو کلام رات بھر مجھ کو مرے یار نے سونے نہ دیا رات بھر جاگا کئے پلکیں نہ جھپکیں ہم نے رات بھر عشق کے آزار نے سونے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1007 سے 6203