شاعری

ابتدا تھی نہ انتہا کچھ دیر

ابتدا تھی نہ انتہا کچھ دیر درمیاں تھی مگر صدا کچھ دیر وہ مرے ساتھ ساتھ چلتا تھا میں جسے پوچھتا رہا کچھ دیر اس کا دھیان اس کی یاد جیسے گلاب ناز پروردۂ صبا کچھ دیر اجنبی شکل پر پڑی تھی نظر آئی ہے بوئے آشنا کچھ دیر اور کیا تھی حقیقت دنیا ہاتھ پر ہاتھ تھا دھرا کچھ دیر گہر خستہ آب ...

مزید پڑھیے

کوئی بے جاں کوئی بے گھر نہیں دیکھا جاتا

کوئی بے جاں کوئی بے گھر نہیں دیکھا جاتا روز طرارۂ محشر نہیں دیکھا جاتا چھین لے حیرت نظارہ یہ بینائی بھی آنکھ ہوتی ہے تو منظر نہیں دیکھا جاتا بے حسی شرط ہے جینے کے لئے یہ دنیا خم ابرو ہے کہ خنجر نہیں دیکھا جاتا دیکھیے خسروی و منصفی و دادرسی تاج و تخت و زر و لشکر نہیں دیکھا ...

مزید پڑھیے

وجود کو جگر معتبر بناتے ہیں

وجود کو جگر معتبر بناتے ہیں علم پہ ہاتھ تو نیزوں پہ سر بناتے ہیں چمن بھی ہو کوئی انبوہ خار و خس جیسے یہ کارخانے تو برگ و ثمر بناتے ہیں ہوا کا تبصرہ یہ ساکنان شہر پہ تھا عجیب لوگ ہیں پانی پہ گھر بناتے ہیں قرین عقل ہے کیا کوئی سوچتا ہی نہیں خبر اڑانے سے پہلے خبر بناتے ہیں نہیں یہ ...

مزید پڑھیے

پھینکی کسی نے کنکری دل یک بیک دریا ہوا

پھینکی کسی نے کنکری دل یک بیک دریا ہوا دریا میں اک سیلاب تھا سیلاب تھا امڈا ہوا دل میں کوئی آزار تھا وہ مجھ سے یوں گویا ہوا آزردۂ تاثیر ہوں دل دے دیا اچھا ہوا گاہے برنگ مہرباں گاہے خیال بد گماں وہ بھی تو آخر پھول ہے کانٹوں میں ہے الجھا ہوا اس طرح چشم نیم وا غافل بھی تھی بیدار ...

مزید پڑھیے

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہے

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہے نہ ہو سودا تو سر کچھ بھی نہیں ہے چمک ساری درون شاخ گل ہے نہال و شاخ پر کچھ بھی نہیں ہے خلا میں بال و پر مائل بہ پرواز زمیں پر گھر شجر کچھ بھی نہیں ہے حقیقت بھی ہے پابند تغیر جہاں میں معتبر کچھ بھی نہیں ہے سہم جاتا ہوں لطف دوستاں سے کہ دشمن ہو تو ڈر ...

مزید پڑھیے

کہیں شعلہ کہیں خاکستر تازہ نظر آیا

کہیں شعلہ کہیں خاکستر تازہ نظر آیا وہاں میں تھا جہاں پھولوں کا دروازہ نظر آیا بہکتی ہیں ہوائیں پھول بے موسم بھی کھلتے ہیں جہان آب و گل ہم کو بہ اندازہ نظر آیا ہوا کی زہر ناکی ابر نارفتہ کی سفاکی مجھے اکثر وداع گل کا خمیازہ نظر آیا اداسی تھی کہ تھا اک جلوۂ صد رنگ و بو شاید دل بے ...

مزید پڑھیے

بے لطف ہے یہ سوچ کہ سودا نہیں رہا

بے لطف ہے یہ سوچ کہ سودا نہیں رہا آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشا نہیں رہا دنیا کو راس آ گئیں آتش پرستیاں پہلے دماغ لالہ و گل تھا نہیں رہا فرصت کہاں کہ سوچ کے کچھ گنگنایئے کوئی کہیں ہلاک تمنا نہیں رہا اونچی عمارتوں نے تو وحشت خرید لی کچھ بچ گئی تو گوشۂ صحرا نہیں رہا دل مل گیا تو وہ ...

مزید پڑھیے

کہیں شعلہ کہیں شبنم، کہیں خوشبو دل پر

کہیں شعلہ کہیں شبنم، کہیں خوشبو دل پر وہ سمن بو ہے بہر رنگ بہر سو دل پر چمن روح سے خوشبوئے بدن آتی ہے جان پر موجۂ لب نفحۂ گیسو دل پر دل کو خود حوصلۂ کار فسوں سازی ہے کہ چلا تھا نہ چلا ہے کوئی جادو دل پر لذت دید خدا جانے کہاں لے جائے آنکھ ہوتی ہے تو ہوتا نہیں قابو دل پر یہ تحیر ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے نام سے روشن تھا گوشوارۂ شب

یہ کس کے نام سے روشن تھا گوشوارۂ شب کہ آسماں پہ لرزتا رہا ستارۂ شب تمام روئے نگاریں دل و در و دیوار کہ یاد مہر نظر حاصل خسارۂ شب خوشا وہ سر خوشیٔ ساعت شب دیدار کجا فروغ مہ و مے کجا نظارۂ شب شب غم و بر شیرین جاں سلام تجھے خیال ابر سے نکلا ہے ماہ پارۂ شب نظر الجھتی رہی خال و زلف سے ...

مزید پڑھیے

سامان فراغ جل رہا ہے

سامان فراغ جل رہا ہے صحرا ہو کہ باغ جل رہا ہے ہے شاخ نہال پر سمیٹے بلبل ہو کہ زاغ جل رہا ہے ہاتھوں میں دہک رہا ہے پیالہ ہونٹوں میں ایاغ جل رہا ہے جو فصل جنوں میں کھل رہا تھا وہ قرعۂ داغ جل رہا ہے وحشت بھی فسون شترک ہے دل ہو کہ دماغ جل رہا ہے پھر بھی ہے چہار سو اندھیرا صدیوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 97 سے 5858