ابتدا تھی نہ انتہا کچھ دیر
ابتدا تھی نہ انتہا کچھ دیر درمیاں تھی مگر صدا کچھ دیر وہ مرے ساتھ ساتھ چلتا تھا میں جسے پوچھتا رہا کچھ دیر اس کا دھیان اس کی یاد جیسے گلاب ناز پروردۂ صبا کچھ دیر اجنبی شکل پر پڑی تھی نظر آئی ہے بوئے آشنا کچھ دیر اور کیا تھی حقیقت دنیا ہاتھ پر ہاتھ تھا دھرا کچھ دیر گہر خستہ آب ...