کیوں ہمیں موت کے پیغام دئے جاتے ہیں
کیوں ہمیں موت کے پیغام دئے جاتے ہیں یہ سزا کم تو نہیں ہے کے جیے جاتے ہیں ہم ہیں ایک شمع مگر دیکھ کے بجھتے بجھتے روشنی کتنے اندھیروں کو دئے جاتے ہیں نشہ دونوں میں ہے ساقی مجھے غم دے کے شراب مے بھی پی جاتی ہے آنسو بھی پئے جاتے ہیں ان کے قدموں پہ نہ رکھ سر کے ہے یہ بے ادبی پائے نازک ...