شاعری

کیوں ہمیں موت کے پیغام دئے جاتے ہیں

کیوں ہمیں موت کے پیغام دئے جاتے ہیں یہ سزا کم تو نہیں ہے کے جیے جاتے ہیں ہم ہیں ایک شمع مگر دیکھ کے بجھتے بجھتے روشنی کتنے اندھیروں کو دئے جاتے ہیں نشہ دونوں میں ہے ساقی مجھے غم دے کے شراب مے بھی پی جاتی ہے آنسو بھی پئے جاتے ہیں ان کے قدموں پہ نہ رکھ سر کے ہے یہ بے ادبی پائے نازک ...

مزید پڑھیے

اف یو کال آئی ول کم

میں پہنچ جاؤں اگر آپ مجھے یاد کریں میری رفتار تخیل کی بھی رفتار سے تیز قلب مضطر سے پکاری ہوئی آواز سے تیز آپ کی نظروں کے تیر اثر انداز سے تیز میں پہنچ جاؤں اگر آپ مجھے یاد کریں تیز تر آہوئے صحرا سے ہو رفتار میری تیز پرواز میں شاہیں سے بھی رفتار میری گرچہ راہیں ہو بہت مشکل و دشوار ...

مزید پڑھیے

الفت میں بگڑ کر بھی اک وضع نکالی ہے

الفت میں بگڑ کر بھی اک وضع نکالی ہے دیوانے کی سج دھج ہی دنیا سے نرالی ہے ڈالی ہے دو عالم پر مٹی ابھی ڈالی ہے بس کچھ نہیں اب ہم میں یا ہمت عالی ہے ملتی ہے بڑی راحت اک خاک نشینی میں میں نے تو طبیعت ہی مٹی کی بنا لی ہے اس گھر میں بہت کم ہے اب آمد و رفت اس کی دنیا کی طرف ہم نے دیوار ...

مزید پڑھیے

جاتے کہاں جنون کے طوفاں میں آ گئے

جاتے کہاں جنون کے طوفاں میں آ گئے آخر کو چارہ گر مرے زنداں میں آ گئے وہ شور و غل وہ شہر کا طوفان زندگی اچھے رہے وہی جو بیاباں میں آ گئے وہ ان کی سیر باغ وہ ذوق بہار ناز پھول آپ ٹوٹ ٹوٹ کے داماں میں آ گئے اس گل کی آرزو میں خلش اس قدر ہے کیوں کانٹے کہاں سے حسرت و ارماں میں آ گئے جو ...

مزید پڑھیے

با وفائی کی ادا پانے لگا ہوں تجھ میں

با وفائی کی ادا پانے لگا ہوں تجھ میں اے جفا دوست یہ کیا دیکھ رہا ہوں تجھ میں تو نے اب تک مجھے کانٹوں کے سوا کچھ نہ دیا میں تو اک پھول کی مانند کھلا ہوں تجھ میں تو وہ دریا ہے کہ جس کا کوئی ساحل ہی نہیں میں سفینے کی طرح ڈوب گیا ہوں تجھ میں میرا دعویٰ ہے کہ تو نے بھی نہ دیکھے ہوں ...

مزید پڑھیے

آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے

آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے مدتوں بعد تری راہ گزر آئی ہے زندگی کا کوئی احساس ہی باقی نہ رہا زندگی لے کے مجھے آج کدھر آئی ہے آپ دیکھیں تو ذرا خون تمنا کی بہار کتنی سرخی مری آنکھوں میں اتر آئی ہے کس کے پیراہن رنگیں کی مہک ہے اس میں آج یہ باد صبا ہو کے کدھر آئی ہے تو نے خود ترک ...

مزید پڑھیے

ہمارے ساتھ جسے موت سے ہو پیار چلے

ہمارے ساتھ جسے موت سے ہو پیار چلے کوئی چلے نہ چلے ہم تو سوئے دار چلے نہ دور جام نہ اب قصۂ بہار چلے انہیں کا ذکر چلے اور بار بار چلے رخ زمانہ بدلنے چلے تھے دیوانے ترے حضور مگر کس کا اختیار چلے حیات عشق کا حاصل تھے بس وہی لمحے جو تیری انجمن ناز میں گزار چلے ادھر منائے گئے خوب ...

مزید پڑھیے

اک کھلونے کی طرح

اک کھلونے کی طرح چاہتوں کی بیڑی کے زور پر روتے بابا لوگوں کو منایا تھا ہنسایا تھا کل وہ جن کو ہم نے اپنے پیروں سے چلایا تھا ہاتھوں سے اٹھایا تھا آنکھوں سے دکھایا تھا آج ان کی انگلیاں پکڑ کے چل رہے ہیں ہم

مزید پڑھیے

آ ہی جاتی ہے کبھی اپنے سکون دل کی یاد

آ ہی جاتی ہے کبھی اپنے سکون دل کی یاد درمیان قعر دریا جیسے ہو ساحل کی یاد دل کو کچھ الفت سی ہے ماضی کے صبح و شام سے اپنی تنہائی کی ہو یا آپ کی محفل کی یاد رخ پہ زلفیں ہیں پریشاں کچھ فسردہ سے ہیں وہ آ گئی ہے بھول کر شاید کسی بسمل کی یاد مٹ گئے ہم جس نگاہ ناز کے اک وار سے دل میں ...

مزید پڑھیے

فسانۂ غم دل آپ کو سنا دیتے

فسانۂ غم دل آپ کو سنا دیتے غرور حسن کو ہم اور کچھ بڑھا دیتے نگاہ شوق پہ الزام حشر آ جاتا جو آپ حشر سے پہلے نقاب اٹھا دیتے نگاہ ناز سے اک بار دیکھ لیتے ادھر تمہاری نظروں کو ہم عمر بھر دعا دیتے خطا معاف نہ ہوتی یہ گرمی محفل ہم اپنا دل نہ اگر شمع ساں جلا دیتے متاع زیست اسی درد کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 817 سے 5858