شاعری

فرصت ہو تو سن لیجے بیتا ہوا افسانہ (ردیف .. ا)

فرصت ہو تو سن لیجے بیتا ہوا افسانہ کیوں ہوش گنوا بیٹھا یہ آپ کا دیوانہ تم ہی تو تمنا ہو ہر شیخ و برہمن کی سجدہ تمہیں کرتے ہیں کعبہ ہو کہ بت خانہ طوفان محبت کا خاموش تھا مدت سے کیوں آج چھلک اٹھا یہ صبر کا پیمانہ ہم آتش الفت میں اس طور سے جلتے ہیں خود شمع ہیں محفل میں اور آپ ہی ...

مزید پڑھیے

میرا سر آپ کے قدموں پہ جھکا آج کے دن

میرا سر آپ کے قدموں پہ جھکا آج کے دن اپنی قسمت پہ مجھے ناز ہوا آج کے دن جھوم کر کالی گھٹا چھا گئی ہر چار طرف کس نے زلفوں کو پریشان کیا آج کے دن سارا عالم ہے مرے دیدۂ حیراں کی مثال جلوہ گر کون سر بزم ہوا آج کے دن نگہ شوق ترے رخ سے ہٹائی نہ گئی دل میں ایک درد نیا اور اٹھا آج کے دن ہو ...

مزید پڑھیے

وعدے پر اعتبار کی گھڑیاں

وعدے پر اعتبار کی گھڑیاں اضطراب و قرار کی گھڑیاں دل کی دھڑکن پہ گن رہے ہیں ہم آپ کے انتظار کی گھڑیاں کچھ یقیں کچھ گماں میں کاٹی ہیں ہم نے لیل و نہار کی گھڑیاں یاد ماضی امید مستقبل دل کے غرق اور ابھار کی گھڑیاں ہیں میسر جنوں کے صدقے میں دشت میں بھی بہار کی گھڑیاں آپ کی ایک نظر ...

مزید پڑھیے

کوئی شے ڈوبے تو دریا میں لہر جاگے ہے

کوئی شے ڈوبے تو دریا میں لہر جاگے ہے کب اذاں مرغ کے دینے سے سحر جاگے ہے کنکری مارے سے پانی میں اثر جاگے ہے اک ذرا خواہش پرواز سے پر جاگے ہے ان کو منبر کی بلندی سے تشفی نہ ہوئی جن کی آواز پہ تحریک کا سر جاگے ہے نیند کی کائی سے بوجھل ہے ہر اک آنکھ مگر سنگ کے خوف سے شیشے کا نگر جاگے ...

مزید پڑھیے

ردائے آہنی ہر آدمی کے سر پر ہے

ردائے آہنی ہر آدمی کے سر پر ہے کہ جیسے سنگ کی بارش اسی نگر پر ہے نہ کھو جو مٹھی میں انگلی کسی کی ہم سفرو ہمارا قافلہ انجانی رہ گزر پر ہے بچا رہا تھا جو کل رات کالی آندھی سے وہ پھل چڑھا ہوا ہر شخص کی نظر پر ہے وہ کون روئی تھی کاجل لگا کے آنکھوں میں یہ دھبہ دھبہ سیاہی رخ سحر پر ...

مزید پڑھیے

اپنا سایہ دیکھ کر میں بے تحاشہ ڈر گیا

اپنا سایہ دیکھ کر میں بے تحاشہ ڈر گیا ہو بہ ہو ویسا لگا جو میرے ہاتھوں مر گیا ہلکے سے حسن تبسم کا بھی اندازہ ہوا بوجھ سارے دن کا لے کر جب میں اپنے گھر گیا پھل لدے اس پیڑ پر پھر پڑ گیا پہرہ کڑا پتیوں کو چومتا جب سن سے اک پتھر گیا کچھ مکینوں میں عجب تبدیلیاں پائی گئیں اس بڑی بلڈنگ ...

مزید پڑھیے

جو چہرے کے باہر ہے وہ اندر نہ ملے گا

جو چہرے کے باہر ہے وہ اندر نہ ملے گا چٹکی میں سمندر کی سمندر نہ ملے گا دکھ ہوگا سوا دکھ کو نمائش میں سجا کے ہر چہرہ پہ ہمدردی کا لشکر نہ ملے گا سوکھے ہوئے تالاب کی کیا جیب تلاشی صدیوں کا وہ پھینکا ہوا پتھر نہ ملے گا وہ کتنی دفعہ توڑ کے پھر جوڑا گیا ہے انگشت نظر سے تمہیں چھو کر نہ ...

مزید پڑھیے

رکنے کا اب نام نہ لے ہے راہی چلتا جائے ہے

رکنے کا اب نام نہ لے ہے راہی چلتا جائے ہے بوڑھا برگد اپنے سائے میں خود ہی سستائے ہے بھینی بھینی مہوا کی بو دور گاؤں سے آئے ہے بھولی بسری کوئی کہانی نس نس آگ لگائے ہے الجھی سانسیں سرگوشی اور چوڑی کی مدھم آواز پاس کا کمرہ روز رات کی نیند اڑا لے جائے ہے کم کیا ہوتی لجا کی یہ دوری ...

مزید پڑھیے

کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ

کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ ایک اچھے بھلے شخص نے ایک اچھے بھلے شخص کو سامنے والے فٹ پاتھ پر مار ڈالا ہے اس نے کافی کی ہلکی سی چسکی بھری اور چہرے پہ حیرت کا جنگل لیے مجھ کو تکتے ہوئے چار مینار سگریٹ کا پھر سے مہورت کیا اور پھر اپنے منہ سے اگلتے ہوئے وہ دھواں مجھ سے کہنے لگا شاید اس ...

مزید پڑھیے

ہچکیاں لیتا ہوا دنیا سے دیوانہ چلا

ہچکیاں لیتا ہوا دنیا سے دیوانہ چلا جاں کنی کے وقت بھی تیرا ہی افسانہ چلا میں جنون عشق میں جانے کہاں تک آ گیا شہر کے ہر موڑ سے پتھر جداگانہ چلا خون کی گردش میں شامل ہو گئی دل کی امنگ کوئے قاتل کی طرف بے اختیارانہ چلا موسم گل زرد ہے خون تمنا کے بغیر نقد جاں لے کر چمن میں سرفروشانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 818 سے 5858