شاعری

یاروں کے یارانے دیکھے

یاروں کے یارانے دیکھے دنیا کے فرزانے دیکھے وقت ضرورت جو کام آئے ایسے بھی بیگانے دیکھے دل دے کر پائے ہیں آنسو عشق کے یہ نذرانے دیکھے موجوں میں لے جائیں کشتی ایسے بھی دیوانے دیکھے باغ ملے اس قسمت کو ہم نے تو ویرانے دیکھے حل کرتے ہیں مطلب اپنا مطلب کے دیوانے دیکھے ایک ذرا سی ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں میں ہم نے حیا دیکھ لی ہے

ان آنکھوں میں ہم نے حیا دیکھ لی ہے نرالی سی طرز جفا دیکھ لی ہے تمہارے نہیں بس میں کچھ اے طبیبو دوا ہم نے صبر آزما دیکھ لی ہے نہ آئے گا کوئی نظر میں حسیں اب ترے حسن کی انتہا دیکھ لی ہے کروں ناز قسمت پہ جتنا بھی کم ہے کنکھیوں کی تیری ادا دیکھ لی ہے خزاں میں قفس سے ملی کیا ...

مزید پڑھیے

شخصیت جس کی انا الحق کی سزا وار لگے

شخصیت جس کی انا الحق کی سزا وار لگے ہر طرف اس کے نہ کیوں فلسفۂ دار لگے سانس میں روکوں تو رک جائے نظام عالم نبض ہاتھوں کی مرے وقت کی رفتار لگے خبر حال چمن کیوں نہ ملے ناظر کو ورق چہرۂ گل صفحۂ اخبار لگے ہو گئی عام اندھیرے کی خبر چھپ نہ سکی صبح ہر چہرے ہمیں رات کے اخبار لگے جس کی ...

مزید پڑھیے

ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں

ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں کہ اک کنارا ہوں دریا کا کٹ رہا ہوں میں مرے وجود کو وسعت نہیں کسی بھی طرح ہر ایک سمت سے ہر روز گھٹ رہا ہوں میں اثر پذیر ہوں اک زلزلے سے ہستی کے زمیں کے جیسے ہر اک سانس پھٹ رہا ہوں میں ہیں میرے واسطے خنجر شعاعیں سورج کی کھلی سڑک پہ ہوں ہر لمحہ کٹ ...

مزید پڑھیے

خود کو انعام کے پا لینے کا دھوکا دے کر

خود کو انعام کے پا لینے کا دھوکا دے کر ڈاکیہ چہرے کو پڑھتا ہے لفافہ دے کر ریل ہر سمت سے روز آ کے گزر جاتی ہے شہر کو میرے کئی رنگ کا چہرہ دے کر کس نے بچوں کی طرح تالی بجائی ہوگی کس کو خوش اس نے کیا ہے مجھے دنیا دے کر خضر ہونے کا جو دعویٰ ہے تو سیدھا کر دو کسی گرتی ہوئی دیوار کو ...

مزید پڑھیے

وہ جس طرف بھی مخاطب دکھائی دیتا ہے

وہ جس طرف بھی مخاطب دکھائی دیتا ہے تمام شہر اسی جانب دکھائی دیتا ہے نہ جانے کرب ہے کیسا میرے تکلم میں اداس میرا مخاطب دکھائی دیتا ہے تعلقات کی دیوار کیسے پختہ ہو خلوص ایک ہی جانب دکھائی دیتا ہے ملا ہے جس کی جبیں پر نشان خاک وہ شخص عروج ذات کا طالب دکھائی دیتا ہے

مزید پڑھیے

اس کو جس سے خون کا رشتہ نہ تھا

اس کو جس سے خون کا رشتہ نہ تھا کیسے ہم کہتے کہ وہ اپنا نہ تھا تشنہ لب تھے لوگ دریا کے قریب دشت میں لیکن کوئی پیاسا نہ تھا ہر نفس اک کرب ہے دل میں لیے آدمی اتنا کبھی ٹوٹا نہ تھا درد کی اک بھیڑ تھی میرے قریب زندگی میں میں کبھی تنہا نہ تھا ریت کی تحریر تھی میرا وجود یاد رکھنا میں ...

مزید پڑھیے

خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو

خواب ایسا بھی نظر آیا ہے اکثر مجھ کو لگا جبریل کا شہ پر مرا بستر مجھ کو اپنے مقصد کے لیے لفظ بنا کر مجھ کو کوئی دوڑاتا ہے کاغذ کی سڑک پر مجھ کو ڈس نہ لے دیکھو کہیں دھوپ کا منظر مجھ کو تم نے بھیجا تو ہے بل کھاتی سڑک پر مجھ کو سب کو میں ان کی کتابوں میں نظر آتا ہوں لوگ پڑھتے ہیں ترے ...

مزید پڑھیے

آپ کی تنقیص پر تیکھے ہوئے

آپ کی تنقیص پر تیکھے ہوئے ورنہ ہم بھی تھے کبھی سلجھے ہوئے تم بھی ہو میری طرح بکھرے ہوئے کہہ رہے ہیں آئنے ٹوٹے ہوئے جن کے سایہ میں ہو تم بیٹھے ہوئے وہ شجر وہ پیڑ ہیں سوکھے ہوئے رک چکی ہے سانس اب کاہے کی آس زندگی کے ختم سب قصے ہوئے ہو گیا سورج غروب اور آئی رات راستے سب گاؤں کے ...

مزید پڑھیے

دیکھ نہ پایا جس پیکر کو وعدوں کی انگنائی میں

دیکھ نہ پایا جس پیکر کو وعدوں کی انگنائی میں ڈھونڈ رہا ہوں اس کا چہرہ خوابوں میں تنہائی میں کیسے ہو معلوم یہ آخر پروائی کے جھونکوں کو پھولوں پر کیا بیت چکی ہے شاخوں کی انگڑائی میں ڈھلتے سورج کی آنکھوں نے آخر مجھ کو ڈھونڈ لیا چھپ نہ سکا میں بھی پیپل کے سائے کی لمبائی میں پا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 791 سے 5858