شاعری

دکھائی دیں گے جو گل میز پر قرینے سے

دکھائی دیں گے جو گل میز پر قرینے سے ہوائیں چھیڑیں گی آ کر کھلے دریچے سے خلا میں آج سکوں اپنا ڈھونڈھتا ہے وہی بہل گیا تھا جو بچہ کبھی کھلونے سے تمہارے دل میں ہے اک کرب سا کسی کے لیے یہ بات ہم نے پڑھی ہے تمہارے چہرے سے جلے دل تو یقیناً لبوں پہ ہوگی کراہ دھواں تو پھیلے گا جنگل میں ...

مزید پڑھیے

جب آفتاب کی آگ اس زمیں کو چاٹے گی

جب آفتاب کی آگ اس زمیں کو چاٹے گی مکاں کی کھوج میں سڑکوں پہ بھیڑ بھاگے گی میں دیکھتا ہی رہوں گا ترے سراپا کو جب آنکھ سوئے گی میری نگاہ جاگے گی جو ڈس رہی ہے ابھی جاگتی نگاہوں کی سویرا ہوتے ہی وہ رات زہر کھائے گی جو سونا چاہو تو دروازے بند کر لینا کھلا رہے گا یہ کمرہ تو دھوپ ...

مزید پڑھیے

جلتی رت میں وہ پھیلتا سایہ رکھ دے گا

جلتی رت میں وہ پھیلتا سایہ رکھ دے گا میری آنکھ پہ دھوپ کا چشمہ رکھ دے گا پیاس کو میرے لب سے چمٹتے دیکھ کے وہ پاؤں میں میرے جھیل کا رستہ رکھ دے گا جانے نہ دو گل دانوں تک اس بچے کو توڑ کے ہر گملے کا غنچہ رکھ دے گا جس سے مجھے ہے انس پرانی قدروں سا میرے نصیب میں اس کا صدمہ رکھ دے ...

مزید پڑھیے

ایک مجرب نسخہ

آپ کو میرا ممنون احسان ہونا چاہیئے کہ میں آپ کے لیے ایک ایسا مجرب نسخہ تجویز کر رہا ہوں جو آپ کی زندگی میں ایک خوش گوار انقلاب برپا کر سکتا ہے عین ممکن ہے میرے تجویز کردہ نسخے کو طباعتی اور برقی ذرائع ابلاغ کے ادارے اپنے خلاف ایک کاروباری سازشیں سمجھیں اور مجھ پر ہرجانے کا ...

مزید پڑھیے

کیونکہ ہم خاص لوگ ہیں

وقتاً فوقتاً ہماری تعریف کی جائے ہمیں شاباشی دی جائے کیونکہ ہم خاص لوگ ہیں ہمارا خدا ایک خاص دروازے سے ہمیں اپنی جنت میں داخلے کا اعزاز بخشے گا ہمارا مقابلہ عام آدمیوں سے نہ کیا جائے ہمیں مطلق اظہار رائے کی آزادی دی جائے ہمارے طرز عمل پر کوئی قدغن نہ لگائے تسلیم کیا جائے کہ ...

مزید پڑھیے

مشوروں سے بھری الماری

میرے دوست، میرے خیر خواہ میرے اصلاح کی غرض سے وقتاً فوقتاً اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں وہ یہ کام پوری ذمہ داری سے رضاکارانہ بنیاد پر کرتے ہیں اگر میں ان کے مشوروں پر عمل شروع کر دوں تو ممکن ہے یہ لوگ مجھے مشورے دینے سے باز آ جائیں میں اپنے خیر خواہوں کے دیے ہوئے مشوروں ...

مزید پڑھیے

سمجھا جا سکتا ہے آسانی سے

نہیں سمجھا جا سکتا آسانی سے کام کو، کیے بغیر راستے کو، چلے بغیر منزل کو، پہنچے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا آسانی سے دن کو، گزارے بغیر شام کو، پکارے بغیر رات کو، ستارے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا آسانی سے بوجھ کو، اٹھائے بغیر زخم کو، کھائے بغیر گیت کو، گائے بغیر سمجھا جا سکتا ہے آسانی ...

مزید پڑھیے

موت کا فرشتہ

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جوان بیٹے کی موت کس طرح واقع ہوئی سوئمنگ پول میں ڈوب جانے سے، دماغ کے سرطان سے یا تیز رفتار موٹر سائیکل کے سامنے دیوار کے آ جانے سے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مرنے والا زندگی سے نبرد آزما کسی شاعرہ یا شاعر کا بیٹا تھا یا راج پوت نسل کا کوئی ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں ورنہ بنیاد خزاں اے بے خبر گہری نہیں وصل شیریں ہے نہ جوئے شیر ہے تیرے نصیب ضرب اے فرہاد تیشے کی اگر گہری نہیں یہ بھی ممکن ہے کہ خود تیری نوا ہو نرم خیز نیند لوگوں کی تو اے مرغ سحر گہری نہیں زندگی کی آج قدریں ہیں فقط گملوں کے پھول ان میں ...

مزید پڑھیے

کتنے نازک کتنے خوش گل پھولوں سے خوش رنگ پیالے

کتنے نازک کتنے خوش گل پھولوں سے خوش رنگ پیالے اک بدمست شرابی نے میخانے میں ٹکڑے کر ڈالے موسمیات کے ماہر ہونے کے تو دعویدار سبھی ہیں ہم سمجھیں جو حبس گھٹائے ہم مانیں جو جھکڑ ٹالے مصنوعی نیلونی پھولوں سے گلدان سجائے جائیں اور قربنیقوں کا لقمہ بن جائیں خوشبوؤں والے فرعونوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 792 سے 5858