دکھائی دیں گے جو گل میز پر قرینے سے
دکھائی دیں گے جو گل میز پر قرینے سے ہوائیں چھیڑیں گی آ کر کھلے دریچے سے خلا میں آج سکوں اپنا ڈھونڈھتا ہے وہی بہل گیا تھا جو بچہ کبھی کھلونے سے تمہارے دل میں ہے اک کرب سا کسی کے لیے یہ بات ہم نے پڑھی ہے تمہارے چہرے سے جلے دل تو یقیناً لبوں پہ ہوگی کراہ دھواں تو پھیلے گا جنگل میں ...