شاعری

رنگ لائے گی التجا میری

رنگ لائے گی التجا میری سن ہی لے گا کبھی خدا میری ضبط غم کو دعائیں دیتا ہوں رہ گئی گھٹ کے ہر صدا میری اس کی بندہ نوازیاں دیکھو بخش دیتا ہے ہر خطا میری سننے والوں کے دل تڑپ اٹھے ساز غم بن گئی صدا میری وصل ممکن نہیں وصال سہی اب تو کچھ اور ہے دعا میری بے سہاروں کا آسرا تو ہے کون ...

مزید پڑھیے

ہر نظر آشنا نہیں ہوتی

ہر نظر آشنا نہیں ہوتی لطف میں کیا جفا نہیں ہوتی وصل کی بھی دعا نہیں ہوتی ہم سے اب التجا نہیں ہوتی ساری دنیا کے کام آتے ہیں ایک تم سے وفا نہیں ہوتی دل میں اک آرزو ہے برسوں سے لفظ بن کر ادا نہیں ہوتی عشق تو ایک ہی سے ہوتا ہے ساری دنیا خدا نہیں ہوتی ٹھوکروں میں تری قیامت تھی اب ...

مزید پڑھیے

سوز دل سے پر نم ہو گئی

سوز دل سے پر نم ہو گئی اب تو یہ آتش بھی شبنم ہو گئی جب طبیعت خوگر غم ہو گئی رفتہ رفتہ ہر خلش کم ہو گئی زخم دل کے ہو چکے تھے لا علاج اک نگاہ لطف مرہم ہو گئی ہے محبت کا یہ معراج کمال زندگی خود تشنۂ غم ہو گئی کر چکے ہیں ان سے ہم عہد و وفا اور یہ زنجیر محکم ہو گئی غم پہ تھا سارا مدار ...

مزید پڑھیے

آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی

آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی ملتفت آپ کی نظر نہ ہوئی شاخ امید بارور نہ ہوئی ہم نے دن جس جگہ گزار دیا رات اپنی وہاں بسر نہ ہوئی عیب اوروں کے ڈھونڈتے ہیں ہم اپنے افعال پر نظر نہ ہوئی قصۂ غم اگر نہ تھا کوتاہ زندگانی بھی مختصر نہ ہوئی رہ گئی دل میں داغ دل بن ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں تری رنگینئ شباب نہیں

کہاں کہاں تری رنگینئ شباب نہیں مرا مذاق نظر پھر بھی کامیاب نہیں کسی نظر میں تمہیں دیکھنے کی تاب نہیں نقاب رخ بھی الٹ دو تو بے نقاب نہیں وہ سن کے عرض تمنا کو ہو گئے خاموش مرے سوال کا شاید کوئی جواب نہیں کچھ اور مست نگاہوں سے دیکھ اے ساقی بقدر ظرف ابھی نشۂ شراب نہیں بڑے بڑوں کے ...

مزید پڑھیے

میسر عشق میں صبر و قرار دل نہیں ہوتا

میسر عشق میں صبر و قرار دل نہیں ہوتا جہاں طوفان ہوتا ہے وہاں ساحل نہیں ہوتا اگر کوشش نہ کی جائے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ بے سعیٔ عمل تعمیر مستقبل نہیں ہوتا نہیں ہوتا جسے احساس اوروں کی مصیبت کا وہ اک پتھر تو ہو سکتا ہے لیکن دل نہیں ہوتا حدیں میرے جنون شوق کی ہیں کس قدر آگے سر ...

مزید پڑھیے

کتنا دل کش فریب ہستی ہے

کتنا دل کش فریب ہستی ہے زندگی موت کو ترستی ہے یہ نشیب و فراز ہستی ہے ہر بلندی کو ایک پستی ہے دیکھ کر کیا کرو گے دل کی طرف ایک اجڑی ہوئی سی بستی ہے موت آ کر جسے اٹھائے گی زندگی وہ حجاب ہستی ہے جان دے کر ملے جو اس کی رضا پھر بھی مہنگی نہیں ہے سستی ہے رخ گھٹا کا ہے سوئے مے ...

مزید پڑھیے

ان کی صورت نظر نہیں آتی

ان کی صورت نظر نہیں آتی شب غم کی سحر نہیں آتی یوں تو گردش میں ہے نظر ان کی ہم جدھر ہیں ادھر نہیں آتی قتل بیمار کو کرو آ کر چارہ سازی اگر نہیں آتی آنے والی تو تھی مگر کب تک موت کی کچھ خبر نہیں آتی جمع ہیں میکدے میں متوالے کیوں گھٹا جھوم کر نہیں آتی کون سی وہ بلا ہے ہجر کی شب جو ...

مزید پڑھیے

مقدر اپنا برگشتہ مخالف آسماں اپنا

مقدر اپنا برگشتہ مخالف آسماں اپنا وہ کیا روٹھا کہ دشمن ہو گیا سارا جہاں اپنا الٰہی ہو گیا بے وجہ دشمن باغباں اپنا کہاں لے جائیں گلشن سے اٹھا کر آشیاں اپنا بگڑ جائے نہ گلچیں ہے زمانے کی ہوا بگڑی بنایا تو ہے بلبل شاخ گل پر آشیاں اپنا فسانہ بن کے اپنا عشق دنیا کی زباں پر ہے دیا ...

مزید پڑھیے

دل اگر داغ دار ہو جاتا

دل اگر داغ دار ہو جاتا اک سراپا بہار ہو جاتا دامن صبر ہجر کے ہاتھوں کیوں نہ یوں تار تار ہو جاتا وائے مجبوریاں محبت کی ضبط پر اختیار ہو جاتا میں نے یوں شکوۂ جفا نہ کیا وہ اگر شرمسار ہو جاتا پاس ہوتا اگر وہ جان بہار بے نیاز بہار ہو جاتا اک نگاہ کرم جو ہو جاتی پھر تو بیڑا ہی پار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 787 سے 5858