شاعری

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے

یہ دست ناز میں خط ترجمان کس کا ہے اگر نہیں ہے تمہارا بیان کس کا ہے بساط ارض بسیط آسمان کس کا ہے ہمارے دل میں نہاں یہ جہان کس کا ہے یہ پھوٹ پھوٹ کے روتے ہیں کیوں در و دیوار مکین کون تھا اس میں مکان کس کا ہے جہاں تمہارے نشان قدم نہیں ملتے مرا نہیں ہے اگر وہ مکان کس کا ہے کلی کلی لب ...

مزید پڑھیے

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں

شدت درد جگر ہو یہ ضروری تو نہیں اور پھر آنکھ بھی تر ہو یہ ضروری تو نہیں بے خودی باعث کلفت بھی تو ہو سکتی ہے ہر نفس کیف اثر ہو یہ ضروری تو نہیں خود کو پامال ہی کرنا ہے تو اے جوش جنوں وہ تری راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں نشۂ خواب چرا لائے تری آنکھوں سے نالۂ شب میں اثر ہو یہ ضروری تو ...

مزید پڑھیے

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئے

یہ رات کتنی بھیانک ہے بام و در کے لئے کہاں سے لاؤں سراج منیر گھر کے لئے طلب کی راہ سلامت مقام شوق بہت تکلفات ضروری نہیں سفر کے لئے جمال یار سزاوار جہت خاص نہیں عجیب مرحلہ در پیش ہے نظر کے لئے غریب شہر تمنا اسیر دام فراق تڑپ رہا ہے سر جادہ ہم سفر کے لئے بصیرت لب و لہجہ نہ زندگی ...

مزید پڑھیے

مولانا محمد علی مرحوم جوہرؔ

سحر کے جھٹپٹے میں گا رہی تھی رات کی لیلیٰ چمن میں بج رہا تھا سطوت رفتہ کا اک تارہ منقش تھیں فضا میں جا بجا انوار کی شکلیں مجھے پیغام جلوہ دے رہی تھیں سرمگیں آنکھیں فلک پر لکۂ ابر سبک رفتار رقصاں تھا بہشت‌ حسن تھا دنیا کی برنائی کا ہر ذرہ ابھی چھیڑا نہ تھا دل نے مرے افسانۂ ...

مزید پڑھیے

یہ بتا مجھے تیرا ہم سفر نہیں ہے کیا

یہ بتا مجھے تیرا ہم سفر نہیں ہے کیا کوئی بھی زمانے میں معتبر نہیں ہے کیا چند روز رہنا ہے پھر یہاں سے جانا ہے زندگی تو ہے لیکن مختصر نہیں ہے کیا جو ہماری چوکھٹ پر آج تک نہیں بیٹھا یہ بتائیے ہم کو در بدر نہیں ہے کیا مت سناؤ تم اس کو حال دل مرا کوئی وہ مری محبت سے با خبر نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اے میرے عشق مجھے اور بیقرار نہ کر

اے میرے عشق مجھے اور بیقرار نہ کر وہ بے وفا ہے محبت کی حد کو پار نہ کر بغور دیکھ مجھے تو اے سنگ دل دنیا میں ایک پھول ہوں اس طرح سنگسار نہ کر وہ بے وفا ہے نہیں جب اسے کوئی پرواہ تو اپنے ذہن پہ تو بھی اسے سوار نہ کر عجب یہ دل ہے نہیں مانتا مرا کہنا میں اس سے روز یہ کہتا ہوں انتظار نہ ...

مزید پڑھیے

بہت سکون سے دل میں بسا کے لے آئے

بہت سکون سے دل میں بسا کے لے آئے ہم آج ان کو انہیں سے چرا کے لے آئے وہ وار کرتے رہے مسکرا کے نظروں کا ہم اپنی جان سلامت بچا کے لے آئے ہمیں خبر تھی کہ آئینے کی طرح ہے وہ دل تھا پتھروں میں مگر ہم اٹھا کے لے آئے سوال یہ تھا کہ ثابت کرو وفاداری تو ہم ہتھیلی پہ یہ سر سجا کے لے آئے جہاں ...

مزید پڑھیے

عجیب راہ گزر ہے بہت اکیلا ہوں

عجیب راہ گزر ہے بہت اکیلا ہوں مجھے بھٹکنے کا ڈر ہے بہت اکیلا ہوں کوئی نظر نہیں آتا ہے ہم مزاج مجھے یہی تو درد جگر ہے بہت اکیلا ہوں وہ ایک شخص جو بچھڑا ہے اک زمانے سے اسے بھی اس کی خبر ہے بہت اکیلا ہوں یہ اور بات کھڑا ہوں ہزاروں لوگوں میں یقین دل کو مگر ہے بہت اکیلا ہوں وہ دیکھ ...

مزید پڑھیے

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے

در سے مایوس ترے طالب اکرام چلے کیسی امید لئے آئے تھے ناکام چلے او مری بزم تمنا کے سجانے والے لطف کر لطف کہ دنیا میں ترا نام چلے چھین لے چرخ ستم گار سے انداز خرام کچھ اگر زور ترا گردش ایام چلے ایک وہ ہیں کہ ترا لطف و کرم ہے جن پر ایک ہم ہیں کہ تری بزم سے ناکام چلے عزم راسخ نے بھی ...

مزید پڑھیے

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے

درد میں جب کمی سی ہوتی ہے دل تڑپتا ہے آنکھ روتی ہے وصل کی رات رات ہوتی ہے قلب بیدار آنکھ سوتی ہے سامنے ان کے لب نہیں کھلتے بند گویا زبان ہوتی ہے ایک قطرہ ہے ان کی مژگاں پر یا کوئی لا جواب موتی ہے بحر الفت میں کشتئ دل کو موج امید ہی ڈبوتی ہے آنکھ کہتی ہے غم کے افسانے ایک ایسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 783 سے 5858