شاعری

سرکس میں نوکری کا آخری دن

لے چبا یہ سر جو اب جبڑوں میں ہے تیرے اگر تو واقعی میں شیر ہے تو شیر بن کر آج دکھلا دے مجھے جوکر سمجھتا تھا ارے میں تو فقط اس پیٹ کی خاطر ہنسانے کے لیے سب کو تیرے جبڑوں میں سر دینے سے پہلے بھاگ جاتا تھا مجھے اس کھیل کی تنخواہ ملتی تھی یہی کردار سرکس میں مرے حصے میں آیا تھا مگر میں آج ...

مزید پڑھیے

کتیا

خالد جاوید کے نام مگر بلی کو رونا چاہیئے تھا مجھے ہوشیار کر کے ہی اس رات سونا چاہیئے تھا کہ وہ گھر میں ہے وہ یعنی مری موت اسے کچھ بھی نہیں کرنا پڑا مجھے تو صرف لمحے بھر کی اس شرمندگی نے مار ڈالا وہ میرے حال پر منہ پھاڑ کر جب ہنس رہی تھی کہ جب وہ سامنے آئی مری آنکھوں میں خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

جنت سے دور

گواہی حشر کے دن تمام اعضا کے ساتھ ہم انسانوں کی خالی جیب کی بھی مان لی جائے تو ممکن ہے کہ بیڑا پار ہو جائے رضا اور صبر کی تاکید پر وہ صرف اور صرف خالی جیب ہے انسان کی جو بہت کھل کر خدا سے بات کر سکتی ہے شاید وہی ہے جو فرشتوں کی لکھی سیدھی سپاٹ اعمال کی روداد میں بھی نئے کچھ رنگ بھر ...

مزید پڑھیے

وہ سارے لفظ جھوٹے تھے

محبت کی کمی لفظوں سے پوری کر رہا تھا میں مگر جب آج میں سچ مچ میں اس کو چاہتا ہوں اسے مجھ سے شکایت ہے خموشی کی کوئی بتلائے اس کو یہ خموشی ہی تو سچی ہے وہ سارے لفظ جھوٹے تھے

مزید پڑھیے

جنازے میں تو آؤ گے نہ میرے

کبھی میں زندگی کی ناز برداری نہ کر پایا ہمیشہ بیچ میں حائل رہا اک خواب پاگل خواب سوتے جاگتے جو دیکھتا ہوں میں کہ سر ہی سر جنازے میں ہیں میرے اور میں بانوں کی نئی اک چارپائی پر سکوں کے ساتھ لیٹا ہنس رہا ہوں اک ایسی بھیڑ پر جو مجھ کو کاندھا دینے کے لیے آپس میں جھگڑا کر رہی ہے مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

عجب مشکل ہے میری

مری دنیا بہت تیزی سے خالی ہو رہی ہے عجب مشکل ہے میری کسی کی آنکھ میں ہے کون سا چہرہ مرا یہ بھول جاتا ہوں مگر الزام دینا حافظے کو بھی غلط ہوگا یہ ممکن ہی نہیں ہے کوئی اپنے سارے چہرے یاد رکھ پائے نتیجہ یہ کہ ہر جاتے ہوئے لمحے کے ہمراہ مری تنہائی بڑھتی جا رہی ہے میں اپنا ایک چہرہ ...

مزید پڑھیے

عبادت کے وقت میں حصہ

عبادت میں خدا کے وقت میں حصے کی خواہش نہ جانے کیوں سبھی یادوں میں ہوتی ہے کھڑا رہتا ہوں میں بس ہاتھ باندھے اک کنارے سے مگر وہ قافلہ یادوں کا جیسے ختم ہونے میں نہیں آتا کہاں سجدہ کروں میں؟ بھول جاتا ہوں کہ رکعت کون سی ہے مصیبت ہے گوارا ہی نہیں ان کو مرا مسجد میں آنا مرا جنت میں ...

مزید پڑھیے

اپنے تماشے کا ٹکٹ

یہ خواہش تو ہمارے شہر کے چڑیا گھروں کے شیر بھی شاید نہیں کرتے کہ ساتھی شیر ان کو دیکھنے آئیں ٹکٹ لے کر تماشے کی طرح تماشا بن کے یہ جینے کی مجبوری کہیں شرمندگی کی شکل میں منہ پر چھپی رہتی ہیں ان کے مگر انسان؟ اس کا بس نہیں چلتا کہ سر کے بل کھڑے ہو کر توجہ کھینچ لے سب کی وہی انساں جو ...

مزید پڑھیے

نظم

اک برس اور کٹ گیا شارقؔ روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا کمال ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

مزید پڑھیے

جیت گیا جیت گیا

آؤ اب ڈھونڈو مجھے پھسڈی کہہ کے مجھ کو چھیڑنے والو ہراؤ اب مجھے ہاں مجھے بھی کھیل لگتا تھا یہ سب کچھ ابتدا میں مگر یہ بھی تو سوچو مسلسل ہار کوئی کھیل ہے جو کھیل اس کو مان لیتا میں کہاں تک ہارتا میں؟ مرے چھپنے کے سب کونے اجاگر ہو گئے تھے بہت آسان ہوتا جا رہا تھا ڈھونڈنا مجھ کو مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 771 سے 5858