شاعری

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں کون سی بات کہوں کون سا قصہ لکھوں باب تحریر میں ہے لوح و قلم پر تعزیر برگ سادہ ہی پہ اب حرف تمنا لکھوں شام تو شام تھی اب صبح کا منظر دیکھو کس کی میں ہجو کہوں کس کا قصیدہ لکھوں اس ستم پیشہ کا اعجاز ستم ہی ہوگا دست قاتل کو اگر دست مسیحا لکھوں اتنی ...

مزید پڑھیے

صحرا صحرا گلشن گلشن

صحرا صحرا گلشن گلشن گرد تمنا دامن دامن نقش تحیر چہرہ چہرہ حسن کرامت جوبن جوبن ایک ہی صورت جلوہ جلوہ ایک ہی مورت درپن درپن شانہ شانہ گیسو گیسو خوشبو چندن بن چندن بن ابرو ابرو کڑی کمانیں خنجر خنجر چتون چتون کاجل کاجل جھلمل جھلمل افشاں افشاں روشن روشن روپ کی ٹھنڈک چاندی ...

مزید پڑھیے

اپنے پس منظر میں منظر بولتے

اپنے پس منظر میں منظر بولتے چیختے دیوار و در گھر بولتے کچھ تو کھلتا ماجرائے قتل و خوں چڑھ کے اوج دار پہ سر بولتے مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر بولنے والے تو کھل کر بولتے جو طلسم آذری میں بند تھے وہ صنم پتھر کے کیوں کر بولتے بہہ گیا اشکوں کا سیل خوں کہاں خشک آنکھوں کے سمندر ...

مزید پڑھیے

اور کیا روز جزا دے گا مجھے

اور کیا روز جزا دے گا مجھے زندہ رہنے کی سزا دے گا مجھے زخم ہی زخم ہوں میں داغ ہی داغ کون پھولوں کی قبا دے گا مجھے میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے بے کراں صدیوں کا سناٹا ہوں میں کون سا لمحہ صدا دے گا مجھے ٹوٹ کر لوح و قلم کی جاگیر کوئی دے گا بھی تو کیا دے گا ...

مزید پڑھیے

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے حرف نوا کو پیکر معنی میں ڈھال دے دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے سرمستیوں کی موج میں لہرا کے جھوم جا اٹھ اور ایک جام فضا میں اچھال دے اہل خرد کو سونپ نہ دنیا کی باگ ڈور کار زمانہ اہل جنوں کو سنبھال دے لذت شناس تلخیٔ ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو کتنے بکھراؤ ہیں اندر دیکھو آئنہ دیکھ کے جینے والو دور حاضر کے بھی تیور دیکھو بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو سنگ اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں صنم دور رسوائیٔ آذر دیکھو اپنا ہی عکس دگر دیکھو گے اپنے اندر سے جو باہر دیکھو ہم جہاں آبلہ ...

مزید پڑھیے

فقط حصے کی خاطر

فقط حصے کی خاطر کٹ گئی یہ زندگی میلاد سننے میں بلا جانے کہ حصہ ہے تو کیسا اور کتنا یہ سب آساں نہیں تھا گلاب اور عطر سے بھاری فضا میں سانس لینا دیر تک آساں نہیں تھا نہ آساں تھا سمجھنے کی اداکاری بھی کرنا اس زباں کو جس سے میں نا آشنا تھا اور وو بھی با ادب رہ کر بہت بھاری تھا بیلے کا وہ ...

مزید پڑھیے

چھٹی کا دن

یہ میری موت پر چھٹی کا دن ہے کلنڈر پر چھپی یہ آج کی تاریخ میری موت ہی سے لال ہو سکتی تھی شاید سویرے تک جو کالی روشنائی سے لکھی تھی مزہ ہی کچھ الگ ہے ایسی چھٹی کا اچانک جو ملی ہو یہ میرا آخری تحفہ ہے اپنے ساتھیوں کو وگرنہ پیر کا دن کتنا سر دردی بھرا ہوتا ہے دفتر کا یہ دنیا جانتی ہے

مزید پڑھیے

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے کہ مرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے وہی بکرا کھڑا رکھا گیا ہے جس کو کونے میں نگاہوں سے چھپا کر وہ جس کی زندگی ہے منحصر اس بات پر کہ ہم کھائیں گے کتنا اور کتنا چھوڑ دیں گے بس یوں ہی اپنی پلیٹوں میں ابھی کچھ دیر پہلے میں کھڑا تھا پاس جس ...

مزید پڑھیے

بہروپیا

انوکھا اور نیا غم شرط ہے کوئی تمہارے خودکشی کرنے کی تو پھر بھول جاؤ یہاں تو بس وہی غم ہیں پرانے غم کہ جن سے کام یہ دنیا چلاتی آ رہی ہے مگر تم ہو کہ ہنس دیتے ہو ان پر اگر یہ غم تمہیں غم ہی نہیں لگتے کہ محبوبہ تمہاری بے وفا ہے کہ وہ بچہ چھٹی جس کی منانا تھی تمہیں آج ناک میں ہے آکسیجن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 770 سے 5858