شاعری

مجرم ہونے کی مجبوری

وضو جائے تو جائے فرشتے کچھ بھی لکھ لیں نامۂ اعمال میں میرے مگر منہ سے مرے گالی تو نکلے گی اگر اس تولیے میں چیونٹیاں ہوں گی تھکن سے چور ہو کر جس سے ماتھے کا پسینہ پونچھتا ہوں میں

مزید پڑھیے

مجھے ہنسنا پڑا آخر

مجھے ہنسنا پڑا آخر انہیں باتوں پہ جن پر میں بہت ناراض تھا اس سے یہ اک طرفہ محبت یوں بھی اتنا درد دیتی ہے کہ اس میں بیچ کا رستہ کبھی ممکن نہیں ہوتا وہی جھکتا ہے جس کو دوسرا درکار ہوتا ہے کسی قیمت پہ چاہے جو بھی ہو جائے

مزید پڑھیے

بیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا

پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کو ڈوب مروں میں اور سب اس منظر سے اپنا دل بہلائیں بچوں کو کاندھوں پر لے کر اچک اچک کر مجھ کو دیکھیں ہنسی اڑائیں لاکھ مری اپنی وجہیں ہوں جاں دینے کی لیکن پھر بھی دل میں میرے بھی ہے وہ بے معنی خواہش جاتے جاتے سب کی آنکھیں نم کرنے کی میری سمجھ سے اتنا حق تو ہے جاں ...

مزید پڑھیے

روتا ہوا بکرا

وہی بکرا مرا مریل سا بکرا جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے دہاڑیں مار کر روتا ہوا اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں خطا میری تھی میں نے ہی لڑایا تھا اسے ببلو کے بکرے سے اسے معلوم تھا پٹنا ہے اس کو مگر پھر بھی وہ اس موٹے سے جا کر بھڑ ...

مزید پڑھیے

ایک کینسر کے مریض کی بڑبڑ

گلے پر لگا کر نشاں جس گھڑی ڈاکٹر نے یہ مجھ سے کہا اور تو سارے پرہیز ختم آپ کے آج سے شیو مت کیجئے گا جب تلک یہ گلے کی سکائی چلے شیو مت کیجئے گا تو ساری مشیت خدا کی سمجھ میں مرے آ گئی ارے مجھ کو داڑھی سے انکار کب تھا جو یہ رخ نکالا گیا میں تو خود شیو کے نام سے یوں بدکتا رہا آج تک جیسے ...

مزید پڑھیے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے ہمیں اک دوسرا اچھا لگا ہے سمجھنا ہے اسے نزدیک جا کر جسے مجھ سا برا اچھا لگا ہے یہ کیا ہر وقت جینے کی دعائیں یہاں ایسا بھی کیا اچھا لگا ہے سفر تو زندگی بھر کا ہے لیکن یہ وقفہ سا ذرا اچھا لگا ہے مری نظریں بھی ہیں اب آسماں پر کوئی محو دعا اچھا لگا ...

مزید پڑھیے

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے

کوئی کچھ بھی کہتا رہے سب خاموشی سے سن لیتا ہے اس نے بھی اب گہری گہری سانسیں لینا سیکھ لیا ہے پیچھے ہٹنا تو چاہا تھا پر ایسے بھی نہیں چاہا تھا اپنی طرف بڑھنے کے لیے بھی اس کی طرف چلنا پڑتا ہے جب تک ہو اور جیسے بھی ہو دور رہو اس کی نظروں سے اتنا پرانا ہے کہ یہ رشتہ پھر سے نیا بھی ہو ...

مزید پڑھیے

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا

تن سے جب تک سانس کا رشتہ رہے گا میرے اشکوں میں ترا حصہ رہے گا دور تک کوئی شناسا ہو نہیں ہو بھیڑ میں اچھا مگر لگتا رہے گا ایسے چھٹکارا نہیں دینا ہے اس کو میں اگر مر جاؤں تو کیسا رہے گا طے تو ہے الگاؤ بس یہ سوچنا ہے کون سی رت میں یہ دکھ اچھا رہے گا خود سے میری صلح ممکن ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے مگر کہے سے کہیں مسکرایا جاتا ہے ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کچھ کہوں تجھ سے کہ دیکھتا ہوں ترا گھر سجایا جاتا ہے گناہ گاروں میں بیٹھے تو انکشاف ہوا خدا سے اب بھی بہت خوف کھایا جاتا ہے نئے نئے وہ اداکار جانتے ہی نہ تھے کہ پردہ گرتے ہی سب بھول جایا جاتا ...

مزید پڑھیے

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا کانچ کی چوڑی لے کر میں جب تک لوٹا اس کے ہاتھوں میں سونے کا کنگن تھا جو بھی ملا سب بانٹ لیا تھا آپس میں ایک تھے ہم اور ایک ہی اپنا برتن تھا عکس نہیں تھا رنگوں کی بوچھاریں تھیں روپ سے اس کے سہما ہوا ہر درپن تھا رو دھو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 772 سے 5858