شاعری

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں لیکن گزر اس گھر میں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے ایسا رابطہ رکھ دوستی قائم رہے

مجھ سے ایسا رابطہ رکھ دوستی قائم رہے پیاس یوں بجھتی رہے کہ تشنگی قائم رہے میری پلکوں کے تلے اب جو دیے جلنے لگے ان دیوں کی ہر طرح سے روشنی قائم رہے تجھ سے ملنے کی تڑپ بھی دل سے نہ ہو کم کبھی تو ہو میرے سامنے اور بے خودی قائم رہے میری آنکھوں میں رہے قائم ہجوم التفات تیری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

تیرا نقش کف پا تھا کیا تھا

تیرا نقش کف پا تھا کیا تھا راہ میں پھول کھلا تھا کیا تھا کچھ نہ ہونے کا گماں تھا پھر بھی کچھ تو ہونے کو ہوا تھا کیا تھا جھوٹ تھا جو بھی کیا تھا میں نے اور جو تم نے کہا تھا کیا تھا کیا تھا ہم راہ خیالوں کی طرح سایہ سا ساتھ چلا تھا کیا تھا حسن تعبیر کے آئینے میں خواب کیا دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

صدیوں صدیوں لمحہ بکھرا

صدیوں صدیوں لمحہ بکھرا کتنا پھیلا کتنا بکھرا راہوں راہوں راہی بکھرے منزل منزل رستہ بکھرا کوچہ کوچہ وحشت پھیلی بستی بستی صحرا بکھرا جسم و جان کے رشتے ٹوٹے درپن درپن چہرا بکھرا نغمہ نغمہ یادوں کی لے ٹوٹ کے ساز تمنا بکھرا محفل محفل توبہ ٹوٹی ریزہ ریزہ شیشہ بکھرا کس کو ...

مزید پڑھیے

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا بستۂ وہم و گماں بھاگتا خوابوں میں رہا دل کی آوارہ مزاجی کا گلا کیا کیجے خانہ برباد رہا خانہ خرابوں میں رہا ایک وہ حرف جنوں نقش گر لوح و قلم ایک وہ باب خرد بند کتابوں میں رہا بے حسی وہ ہے کہ اس دور میں جینے کا مزا نہ گناہوں میں رہا اور نہ ...

مزید پڑھیے

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے بلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے دل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں یاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے آج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے دیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے کیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ آنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے جاں ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نہ تیرے صدمہ سے باد خزاں گرا

کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گرا گل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گرا لکھنے لگی قضا جو ہماری فتادگی سو بار ہاتھ سے قلم دو زباں گرا جب پہنچے ہم کنارۂ مقصود کے قریب تب ناخدا جہاں سے اٹھا بادباں گرا موباف سرخ چوٹی سے کیا ان کی کھل پڑا ایک صاعقہ سا دل پہ مرے ناگہاں گرا تا آسماں پہنچ ...

مزید پڑھیے

نہ کہو اعتبار ہے کس کا

نہ کہو اعتبار ہے کس کا بے وفائی شعار ہے کس کا اے اجل شام ہجر آ پہنچی اب تجھے انتظار ہے کس کا عشق سے میں خبر نہیں یا رب داغ دل یادگار ہے کس کا دل جو ظالم نہیں تری جاگیر تو یہ اجڑا دیار ہے کس کا محتسب پوچھ مے پرستوں سے نام آمرزگار ہے کس کا بزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ دیکھنا ...

مزید پڑھیے

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر سخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کر شام سے تا صبح فرقت صبح سے تا شام ہجر ہم چلے کیا کیا نہ لطف زندگانی دیکھ کر یوں تو لاکھوں غمزدہ ہوں گے مگر اے آسماں جب تجھے جانوں کہ لا دے میرا ثانی دیکھ کر اب تپ فرقت سے یہ کچھ ضعف طاری ہے کہ آہ دنگ رہ ...

مزید پڑھیے

کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے

کسی کی آنسوؤں سے تر بتر داڑھی کے کچھ ٹوٹے ہوئے بال آج بھی ممکن ہے مل جائیں بڑے صندوق میں رکھے مرے بد رنگ سے اک سویٹر پر اسی دن کا کوئی ہم شکل دن ہے کسی تانگے میں پھر سامان رکھا جا رہا ہے وہی دہلیز ہے لیکن مرے داڑھی نہیں ہے مرا لڑکا گلے سے لگ کے میرے تھپک کر پیٹھ میری بزرگوں کی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 769 سے 5858