رخ روشن کو بے نقاب نہ کر
رخ روشن کو بے نقاب نہ کر دل کی دنیا میں انقلاب نہ کر آئنہ رکھ نہ سامنے اس کے حسن خودبیں کو لا جواب نہ کر چار سو جلوہ گر تو ہی تو ہے آئنہ خانہ میں حجاب نہ کر میرے نغموں میں کیف غم بھر دے مجھ کو منت کش رباب نہ کر میری اختر شماریاں مت پوچھ اپنے وعدوں کا کچھ حساب نہ کر بخت دازوں کو ...