شاعری

یہ حسیں ہوں گے مہرباں مرے بعد

یہ حسیں ہوں گے مہرباں مرے بعد انڈے دیں گی یہ مرغیاں مرے بعد میں تو مر جاؤں گا مگر سوچو کیا کریں گی تمہاری ماں مرے بعد خوب ابھی قہقہہ لگا لو تم بھوں بھوں روؤگے مہرباں مرے بعد جب نہ دیکھے گا وہ بہار چمن مر ہی جائے گا باغباں مرے بعد بڑھ گئی ہے جو آج کل مرے دوست کھینچی جائے گی وہ ...

مزید پڑھیے

منزل ہے کٹھن کم زاد سفر معلوم نہیں کیا ہونا ہے

منزل ہے کٹھن کم زاد سفر معلوم نہیں کیا ہونا ہے اور لنگڑا اپاہج ہے رہبر معلوم نہیں کیا ہونا ہے خائف نہ ہو کیوں ہر فرد بشر معلوم نہیں کیا ہونا ہے ہے وقت کے ہاتھوں میں ہنٹر معلوم نہیں کیا ہونا ہے دیکھا ہے یہ اکثر شام و سحر رہ رو تو ہے رہ رو خود رہبر ہر گام پہ کھاتے ہیں ٹھوکر معلوم ...

مزید پڑھیے

عقل کی کچھ کم نہیں ہے رہبری میرے لیے

عقل کی کچھ کم نہیں ہے رہبری میرے لیے ہر طرف لائٹ ہے ہر سو روشنی میرے لیے اب کہاں ہے حسن میں وہ دل کشی میرے لیے رہ گئی ہنڈیاں میں خالی کھرچنی میرے لیے آتش قہر خدا دم بھر میں کر دیتی ہے گل ہے مری تر دامنی اے ''آر پی'' میرے لیے ان کے تیور مہرباں ان کی نگاہیں ملتفت دے رہی ہے زور پوری ...

مزید پڑھیے

نئی بزم عیش و نشاط میں یہ مرض سنا ہے کہ عام ہے

نئی بزم عیش و نشاط میں یہ مرض سنا ہے کہ عام ہے کسی لومڑی کو ملیریا کسی مینڈکی کو زکام ہے یہ عجیب ساقیٔ ماہ وش ترے مے کدے کا نظام ہے ہوا جیسے تو بھی دیوالیہ نہ تو خم نہ مے ہے نہ جام ہے یہاں ذکر آب و طعام کیا یہاں کھانا پینا حرام ہے یہاں برت رکھتے ہیں روز سب یہاں روز ماہ صیام ہے نہ ...

مزید پڑھیے

زلف دراز سے یہ نمایاں ہے غالباً

زلف دراز سے یہ نمایاں ہے غالباً بھالو کی شکل کا کوئی انساں ہے غالباً قول و عمل میں جس کے نظر آئے کچھ تضاد وہ مولوی نہیں کوئی شیطاں ہے غالباً گلشن میں تو گلوں کا کہیں نام تک نہیں یہ باغباں کے ہاتھ میں گھوئیاں ہے غالباً ہوتا ہے اس کی شوخئ گفتار پر گماں لہبڑ نہیں ہے یہ کوئی ٹوئیاں ...

مزید پڑھیے

گر بت کم سن دام بچھائے

گر بت کم سن دام بچھائے بلبلیں کیا ہیں ہاتھی پھنسائے ان سے نگاہیں کون ملائے تیوری چڑھی ہے منہ ہیں پھلائے مسند زر پہ بیٹھا ہے واعظ کھینسیں نکالے چندیا گھٹائے اس سے وہ ملتے رہتے ہیں اکثر روز انہیں جو چائے پلائے محو خرام ناز ہے کوئی زلفوں میں کڑوا تیل لگائے رات کو اکثر شیخ حرم ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہیں جب کبھی ایمان میں نقصان شیخ

دیکھتے ہیں جب کبھی ایمان میں نقصان شیخ اونے پونے بیچ ڈالا کرتے ہیں ایمان شیخ بعد مدت کے جہاں میں رہزنوں کے دن پھرے سنتے ہیں پھر ہو گئے ہیں اب پولس کپتان شیخ ہر زباں پر ذکر حق اور دل میں ہے یاد بتاں یہ نہیں کھلتا کہ ہیں انسان یا شیطان شیخ اہل شر تو آپ کو کہتے ہیں عم محترم اور ...

مزید پڑھیے

ایمان کی لغزش کا امکان ارے توبہ

ایمان کی لغزش کا امکان ارے توبہ بد چلنی میں زاہد کا چالان ارے توبہ اٹھ کر تری چوکھٹ سے ہم اور چلے جائیں انگلینڈ ارے توبہ جاپان ارے توبہ ہے گود کے پالوں سے اب خوف دغا بازی یہ اپنے ہی بھانجوں پر بہتان ارے توبہ انسانوں کو دن دن بھر اب کھانا نہیں ملتا مدت سے فروکش ہیں رمضان ارے ...

مزید پڑھیے

نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے

نہ دے ساقی مجھے کچھ غم نہیں ہے یہ کلہڑ کوئی جام جم نہیں ہے وہ روئے خشمگیں کچھ کم نہیں ہے نہ ہو گر ہاتھ میں بلم نہیں ہے بس اک بہر بنی آدم نہیں ہے جہاں میں ورنہ گیہوں کم نہیں ہے نقاب الٹی ہے یہ کہہ کر کسی نے کہ اب تو کوئی نامحرم نہیں ہے ہزاروں چاہنے والے ہیں ان کے کم ان کی آج کل ...

مزید پڑھیے

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ

خوف اک دل میں سمایا لرز اٹھا کاغذ کانپتے ہاتھوں سے ظالم نے جو موڑا کاغذ نہ تو نیلا نہ تو پیلا نہ تو اجلا کاغذ چاہئے ان کے تلون کو ترنگا کاغذ صفحۂ دل پہ نظر آتے ہیں اب داغ ہی داغ گود ڈالا کسی کمبخت نے سارا کاغذ باغباں کے ستم و جور جو لکھتے بیٹھے لگ گیا رم کا رم اور دستہ کا دستہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 765 سے 5858