شاعری

منزلوں کا نشان کب دے گا

منزلوں کا نشان کب دے گا آہ کو آسمان کب دے گا عظمتوں کا نشان کب دے گا میرے حق میں بیان کب دے گا ظلم تو بے زبان ہے لیکن زخم کو تو زبان کب دے گا صبح سجدے سمیٹے سوئی ہے پر اندھیرا اذان کب دے گا ان ٹھٹھرتے ہوئے اجالوں کو دھوپ سا سائبان کب دے گا موج ماہی نگل نہ جائے کہیں نوح سا نگہبان ...

مزید پڑھیے

نگاہوں پر نگہبانی بہت ہے

نگاہوں پر نگہبانی بہت ہے نوازش ظل سبحانی بہت ہے یہاں ایسے ہی ہم کب بیٹھ جاتے ترے کوچہ میں ویرانی بہت ہے ابھی قصد سفر کا قصہ کیسا ابھی راہوں میں آسانی بہت ہے تری آنکھیں خدا محفوظ رکھے تری آنکھوں میں حیرانی بہت ہے لب دریا زباں سے تر کریں گے ابھی تلوار میں پانی بہت ہے مبارک ان ...

مزید پڑھیے

وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے

وہ گنگناتے راستے خوابوں کے کیا ہوئے ویرانہ کیوں ہیں بستیاں باشندے کیا ہوئے وہ جاگتی جبینیں کہاں جا کے سو گئیں وہ بولتے بدن جو سمٹتے تھے کیا ہوئے جن سے اندھیری راتوں میں جل جاتے تھے دیے کتنے حسین لوگ تھے کیا جانے کیا ہوئے خاموش کیوں ہو کوئی تو بولو جواب دو بستی میں چار چاند سے ...

مزید پڑھیے

بوند بن بن کے بکھرتا جائے

بوند بن بن کے بکھرتا جائے عکس آئینے کو بھرتا جائے بن کے کل کل جو گزرتا جائے اپنے وعدے سے مکرتا جائے ایک ہی لے میں بہے جاتا ہے اور لگتا ہے ٹھہرتا جائے شہر ساگر کا بھی ہم زاد کہاں موج در موج بپھرتا جائے عکس معکوس ہوا ہے جب سے اپنی نظروں سے اترتا جائے ایک ندی ہے کہ رکتی ہی ...

مزید پڑھیے

اک سائیں سائیں گھیرے ہے گرتے مکان کو

اک سائیں سائیں گھیرے ہے گرتے مکان کو اور آنکھیں تاکتی ہیں چمکتی چٹان کو چڑھتے ہی میرے ہو گئی دیوار سے الگ حسرت سے دیکھتا ہوں اسی نردباں کو اندیشے دور دور کے نزدیک کا سفر کشتی کو دیکھتا ہوں کبھی بادبان کو زندان روز و شب میں ہے ہم سب کو عمر قید کوئی بچائے آ کے مرے خاندان ...

مزید پڑھیے

میرے الفاظ میں اثر رکھ دے

میرے الفاظ میں اثر رکھ دے سیپیاں ہیں تو پھر گہر رکھ دے بے خبر کی کہیں خبر رکھ دے حاصل زحمت سفر رکھ دے منزلیں بھر دے آنکھ میں اس کی اس کے پیروں میں پھر سفر رکھ دے چند لمحہ کوئی تو سستا لے راہ میں ایک دو شجر رکھ دے گر شجر میں ثمر نہیں ممکن اس میں سایا ہی شاخ بھر رکھ دے کل کے اخبار ...

مزید پڑھیے

وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے

وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے میری دنیا کے غزالوں کا لہو پیتا ہے عشق نے مر کے سوئمبر میں اسے جیتا ہے دل سری رام ہے دلبر کی رضا سیتا ہے اب بھی گھنشیام ہے اس دشت کا بوٹا بوٹا برگ نے آج بھی انساں کے لیے گیتا ہے جگمگاتی رہی اشکوں سے شب تار حیات دیپ مالا کی طرح دور الم بیتا ...

مزید پڑھیے

یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا

یہ بجھے بجھے ستارے یہ دھواں دھواں سویرا کہیں آبرو کو ڈس لے نہ یہ باؤلا اندھیرا تری ناگ ناگ زلفیں کہیں رام ہو نہ جائیں کہ اٹھا ہے بین لے کے زر و مال کا سپیرا مرے شیشموں کی چھاؤں میں ہیں دھوپ کے ٹھکانے مری ندیوں کی لہروں میں ہے آگ کا بسیرا وہیں میں نے آرزوؤں کے حسیں دیئے ...

مزید پڑھیے

ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد

ٹہنیاں پھولوں کو ترسیں گی یہاں تیرے بعد وادیٔ جھنگ سے اٹھے گا دھواں تیرے بعد لاڈلے شیشموں کی بھاگ بھری شاخوں سے کونپلیں پھوٹیں گی بن بن کے فغاں تیرے بعد دھندلی دھندلی نظر آئیں گی سہانی راتیں ہچکیاں لے گا ''ترمّوں'' کا سماں تیرے بعد ناگ بن جائیں گی پانی کی شرابی لہریں آگ ...

مزید پڑھیے

مرے اندر جو اندیشہ نہیں ہے

مرے اندر جو اندیشہ نہیں ہے تو کیا میرا کوئی اپنا نہیں ہے کوئی پتا کہیں پردہ نہیں ہے تو کیا اب دشت میں دریا نہیں ہے تو کیا اب کچھ بھی در پردہ نہیں ہے یہ جنگل ہے تو کیوں خطرہ نہیں ہے کہاں جاتی ہیں بارش کی دعائیں شجر پر ایک بھی پتہ نہیں ہے درختوں پر سبھی پھل ہیں سلامت پرندہ کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 745 سے 5858