منزلوں کا نشان کب دے گا
منزلوں کا نشان کب دے گا آہ کو آسمان کب دے گا عظمتوں کا نشان کب دے گا میرے حق میں بیان کب دے گا ظلم تو بے زبان ہے لیکن زخم کو تو زبان کب دے گا صبح سجدے سمیٹے سوئی ہے پر اندھیرا اذان کب دے گا ان ٹھٹھرتے ہوئے اجالوں کو دھوپ سا سائبان کب دے گا موج ماہی نگل نہ جائے کہیں نوح سا نگہبان ...