شاعری

آرزو تھی ایک دن تجھ سے ملوں

آرزو تھی ایک دن تجھ سے ملوں مل گیا تو سوچتا ہوں کیا کروں جسم تو بھی اور میں بھی جسم ہوں کس طرح پھر تیرا پیراہن بنوں راستہ کوئی کہیں ملتا نہیں جسم میں جنموں سے اپنے قید ہوں تھی گھٹن پہلے بھی پر ایسی نہ تھی جی میں آتا ہے کہ کھڑکی کھول دوں خودکشی کے سینکڑوں انداز ہیں آرزو ہی کا نہ ...

مزید پڑھیے

دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لئے دے

دروازہ کوئی گھر سے نکلنے کے لئے دے بے خوف کوئی راستہ چلنے کے لیے دے آنکھوں کو عطا خواب کئے شکریہ لیکن پیکر بھی کوئی خوابوں میں ڈھلنے کے لیے دے پانی کا ہی پیکر کسی پربت کو عطا کر اک بوند ہی ندی کو اچھلنے کے لیے دے سہمی ہوئی شاخوں کو ذرا سی کوئی مہلت سورج کی سواری کو نگلنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گلا ہوگا

وہی نہ ملنے کا غم اور وہی گلا ہوگا میں جانتا ہوں مجھے اس نے کیا لکھا ہوگا کواڑوں پر لکھی ابجد گواہی دیتی ہے وہ ہفت رنگی کہیں چاک ڈھونڈھتا ہوگا پرانے وقتوں کا ہے قصر زندگی میری تمہارا نام بھی اس میں کہیں لکھا ہوگا چبھن یہ پیٹھ میں کیسی ہے مڑ کے دیکھ تو لے کہیں کوئی تجھے پیچھے سے ...

مزید پڑھیے

بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں

بجلیاں پی کے جو اڑ جاتے ہیں وہ قیامت سے بھی لڑ جاتے ہیں قلب انساں کی جواں حدت سے آگ پر آبلے پڑ جاتے ہیں عشق جب وقت کو جھنجھوڑتا ہے حادثے کانپ کے جھڑ جاتے ہیں مقتل زیست سے محشر کی طرف رقص کرتے ہوئے دھڑ جاتے ہیں آہ کی زلزلہ اندازی سے عرش کے پائے اکھڑ جاتے ہیں ہم وہ انساں ہیں جو ...

مزید پڑھیے

اس کو اپنی ذات خدا کی ذات لگی ہے

اس کو اپنی ذات خدا کی ذات لگی ہے میرے دل کو پاگل کی یہ بات لگی ہے کلجگ ہے اور پھر دکھڑوں کی برسات لگی ہے نوح کی کشتی میرے گھر کے ساتھ لگی ہے میرے پاس تہی دستی ہے درویشی ہے یہ دولت کب شہزادوں کے ہات لگی ہے گوری چٹی دھوپ نہ جوبن پر اترائے دن کے پیچھے کالی کالی رات لگی ہے ایک حسیں ...

مزید پڑھیے

دار ہے مرد انا الحق کا وطن (ردیف .. ر)

دار ہے مرد انا الحق کا وطن عرش ہے مرد خدا کی جاگیر روک لے ابر کرم گستر کو کھینچ کر برق تپاں کی زنجیر عقل کی پنجۂ بیعت سے نکل تیرا مرشد ترا مولا ہے ضمیر اس کے لکھے کو بدل سکتا ہے عشق جس کی تقدیر ہو پتھر پہ لکیر اس کا گھر پوچھتی پھرتی ہے رضا شیر افضلؔ ہے انا مست فقیر

مزید پڑھیے

آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج

آسمانوں سے اتر کر مری دھرتی پہ براج میں تجھے دوں گا پنپتے ہوئے گیتوں کا خراج دل کے صحرا پہ برس چیت کے بادل کی طرح خشک ٹیلے کو بھی دے پھولتی سرسوں کا مزاج نبض حالات میں اب رینگ کے چلتا ہے لہو کاش رکھ لے تو اترتے ہوئے دریا کی لاج چاند بن کر ذرا انسان کے ماتھے پہ ابھر تیرے جلووں کو ...

مزید پڑھیے

قدر کی رات بڑی پیاری ہے

قدر کی رات بڑی پیاری ہے دن اسی رین کا درباری ہے مری آواز پہ مرکی مرکی لحن داؤد کی سرداری ہے رنگ لائے گی یہ اک دن آخر مری فریاد بھی پچکاری ہے اس ببر مرد کی اللہ رے قضا جس پہ اللہ نے رضا واری ہے طور بجلی کی جواں سال کڑک نور کی ریشمیں کلکاری ہے داغ کہتے ہیں جسے کملے کوی وہ تو ...

مزید پڑھیے

نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے

نطق پلکوں پہ شرر ہو تو غزل ہوتی ہے آستیں آگ سے تر ہو تو غزل ہوتی ہے ہجر میں جھوم کے وجدان پہ آتا ہے نکھار رات سولی پہ بسر ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی دریا میں اگر کچے گھڑے پر تیرے ساتھ ساتھ اس کے بھنور ہو تو غزل ہوتی ہے مدت عمر ہے مطلوب ریاضت کے لیے زندگی بار دگر ہو تو غزل ہوتی ...

مزید پڑھیے

ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے

ندی کنارے جو نغمہ سرا ملنگ ہوئے حباب موج میں آ آ کے جل ترنگ ہوئے ارم کے پھول ازل کا نکھار طور کی لو سخی چناب کی وادی میں آ کے جھنگ ہوئے کبھی جو ساز کو چھیڑا بہار مستوں نے تو گنگ گنگ شجر ہم زبان چنگ ہوئے عطا کیا ترے ماتھے نے جن کو عید کا چاند نثار ان پہ ستاروں کے راگ رنگ ہوئے شب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 746 سے 5858