شاعری

پتیاں ہو گئیں ہری دیکھو

پتیاں ہو گئیں ہری دیکھو خود سے باہر بھی تو کبھی دیکھو پھر کھلی کیا کوئی کلی دیکھو شور ہے کیوں گلی گلی دیکھو یاد اور یاد کو بھلانے میں عمر کی فصل کٹ گئی دیکھو مار کوئی شکار پر نکلا دشت میں روشنی ہوئی دیکھو رات کی راکھ منہ پہ مل مل کر صبح کتنی سنور گئی دیکھو صبح کی فکر بعد میں ...

مزید پڑھیے

کئی شکلوں میں خود کو سوچتا ہے

کئی شکلوں میں خود کو سوچتا ہے سمندر پیکروں کا سلسلہ ہے بدلتی رت کا نوحہ سن رہا ہے ندی سوئی ہے جنگل جاگتا ہے بکھرنے والا خود منظر بہ منظر مجھے کیوں ذرہ ذرہ جوڑتا ہے سنو تو پھر ہوا کا تیز جھونکا کسے آواز دیتا جا رہا ہے ہوا کا ہاتھ تھامے اڑ رہا ہوں ہوا فاصل ہوا ہی فاصلا ہے حدود ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا یعنی سحر سے پہلے چراغ سحر گیا اس فکر ہی میں اپنی تو گزری تمام عمر میں اس کو تھا پسند تو کیوں چھوڑ کر گیا آنسو مرے تو میرے ہی دامن میں آئے تھے آکاش کیسے اتنے ستاروں سے بھر گیا کوئی دعا کبھی تو ہماری قبول کر ورنہ کہیں گے لوگ دعا سے اثر گیا نکلی ...

مزید پڑھیے

آج ہر سمت بھاگتے ہیں لوگ

آج ہر سمت بھاگتے ہیں لوگ گویا چوراہا ہو گئے ہیں لوگ ہر طرف سے تڑے مڑے ہیں لوگ جانے کیسے ٹکے ہوئے ہیں لوگ اپنی پہچان بھیڑ میں کھو کر خود کو کمروں میں ڈھونڈتے ہیں لوگ بند رہ رہ کے اپنے کمروں میں ٹیبلوں پر کھلے کھلے ہیں لوگ لے کے بارود کا بدن یارو آگ لینے نکل پڑے ہیں لوگ راستہ کس ...

مزید پڑھیے

منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے

منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے دے رات کی ٹھنڈک کو پگھلنے کی دعا دے اے ساعت ویران کے بے خواب فرشتے اب چیخ کو سینے سے نکلنے کی دعا دے پتے کو پرندوں کی پناہوں پہ لگا دے پیڑوں کو یہاں پھولنے پھلنے کی دعا دے پڑھ ایسا وظیفہ کہ یہ کہسار نہ اجڑے چشموں کو پہاڑوں سے ابلنے کی دعا دے اب ...

مزید پڑھیے

پاؤں میں دور کا سفر چمکے

پاؤں میں دور کا سفر چمکے رات بستی میں جب کھنڈر چمکے گر دعا ہے تو پھر اثر چمکے شاخ پر ایک تو ثمر چمکے ایک آسیب ہے ہر اک گھر میں ایک ہی چہرہ در بدر چمکے ظلمتوں کی زمین پر دیکھیں کس طرح نور کا نگر چمکے ان چمکتے ہوئے اندھیروں میں ایک تو حرف معتبر چمکے روشنی ہو تو روح تک لرزے اور ...

مزید پڑھیے

کسی کے ساتھ اب سایہ نہیں ہے

کسی کے ساتھ اب سایہ نہیں ہے کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے مرے اندر جو اندیشہ نہیں ہے تو کیا میرا کوئی اپنا نہیں ہے کوئی پتہ کہیں پردہ نہیں ہے تو کیا اب دشت میں دریا نہیں ہے تو کیا اب کچھ بھی در پردہ نہیں ہے یہ جنگل ہے تو کیوں خطرہ نہیں ہے کہاں جاتی ہیں بارش کی دعائیں شجر پر ایک بھی ...

مزید پڑھیے

عکس نے آئینے کا گھر چھوڑا

عکس نے آئینے کا گھر چھوڑا ایک سودا تھا جس نے سر چھوڑا بھاگتے منظروں نے آنکھوں میں جسم کو صرف آنکھ بھر چھوڑا ہر طرف روشنی سی پھیل گئی سانپ نے جب کبھی کھنڈر چھوڑا دھول اڑتی ہے دھوپ بیٹھی ہے اوس نے آنسوؤں کا گھر چھوڑا کھڑکیاں پیٹتی ہیں سر شب بھر آخری فرد نے بھی گھر چھوڑا کیا ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی آتشیں آب و ہوا ہو جاؤں گا

کیا خبر تھی آتشیں آب و ہوا ہو جاؤں گا خاک و خوں کا مستقل میں سلسلہ ہو جاؤں گا ابتدا ہوں آپ اپنی انتہا ہو جاؤں گا بارشوں کا قرب پا کر پھر ہرا ہو جاؤں گا جھاڑیوں کی انگلیاں لپکیں گی گردن کی طرف پہلی شب کے آخری پل کی دعا ہو جاؤں گا آسماں کی سمت اٹھیں گے بگولے اور میں رفتہ رفتہ اک ...

مزید پڑھیے

چال ہم سب سے چل گیا سورج

چال ہم سب سے چل گیا سورج کتنا آگے نکل گیا سورج جلتے جلتے پگھل بھی سکتا ہے جب سنا تو دہل گیا سورج روز کی طرح کل بھی آؤں گا آج بھی سب کو چھل گیا سورج سر چھپانے کو جب جگہ نہ ملی کتنے چہروں میں ڈھل گیا سورج ایک بدلی جو پاس سے گزری رنگ کتنے بدل گیا سورج تہ کرو خواب شب سمیٹو اب پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 744 سے 5858