شاعری

کیفے

دو ہی کپ منگاتا ہوں آج بھی میں کافی کے دیکھ کر یہ کیفے میں لوگ رونے لگتے ہیں کوئی ایک وہ ٹیبل بک کبھی نہیں کرتا جس پہ میں نے چابی سے ایک دل بنایا تھا اور دو نام لکھے تھے ہو گیا پرانا پر آج تک نہیں بدلا میز کا وہ اک گلدان پہلے وصل پر جس میں تم نے پھول رکھے تھے مجھ سے کوئی ویٹر اب ٹپ ...

مزید پڑھیے

ترے فراق کے لمحے گزر ہی جائیں گے

ترے فراق کے لمحے گزر ہی جائیں گے کبھی تو زخم مرے دل کے بھر ہی جائیں گے ابھی تو جوش میں ہے ذوق جادہ پیمائی کبھی جو ہوش میں آئے تو گھر ہی جائیں گے تری جدائی کے لمحے عذاب ہیں لیکن ترے بغیر بھی یہ دن گزر ہی جائیں گے خیال تھا کہ نہ آتے تمہاری محفل میں اب آ گئے ہیں تو کچھ بات کر ہی ...

مزید پڑھیے

اسے کہتے ہیں اپنی ذات میں مستور ہو جانا

اسے کہتے ہیں اپنی ذات میں مستور ہو جانا ترے نزدیک آنا اور خود سے دور ہو جانا علاج تشنگی یہ ہے کہ آنسو پی لئے جائیں کسی مے کش کا جیسے بے پیے مخمور ہو جانا ہمارا اختیار بے طلب جبر مشیت ہے وفا کے سلسلے میں فطرتاً مجبور ہو جانا کرشمہ ہے یہ حق گوئی کا ورنہ کیسے ممکن تھا مرے دل کا ...

مزید پڑھیے

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے

میں کیا بتاؤں کہ مقصود جستجو کیا ہے مری نگاہ کو صدیوں سے آرزو کیا ہے یہ راز مجھ کو بتایا تری نگاہوں نے جو خامشی ہے تکلم تو گفتگو کیا ہے جو کوئی پوچھے تو میں خود بتا نہیں سکتا مرے شعور میں مفہوم رنگ و بو کیا ہے کسے خبر ہے کہ کب اس نے بولنا سیکھا کوئی بتائے کہ تاریخ گفتگو کیا ...

مزید پڑھیے

زومبی

میں اک زومبی کے جیسا ہوں بظاہر تو میں زندہ ہوں مگر اندر سے مردہ ہوں کوئی احساس انسانی نہیں اب میری مٹی میں نہ ہنستا ہوں نہ روتا ہوں نہ کوئی زخم دکھتا ہے نہ مجھ کو درد ہوتا ہے میری سانسیں تو چلتی ہیں مگر ان کو نہیں محسوس کر سکتا میرے سینہ میں دل تو ہے مگر دھڑکن ندارد ہے میں اک زومبی ...

مزید پڑھیے

روگ

مجھے معلوم ہے مجھ سے میرے اس روگ سے میرے سبھی اپنے پریشاں ہیں میری تیمار داری سے میری بیوی میرے بچے بہت تنگ آ چکے ہیں اب یہ بالکل صاف لکھا ہے سبھی چہروں پہ کے وہ اب بہت بے ربط ہیں مجھ سے مگر یہ فرض آخر ہے نبھانا ہے زمانہ ہے دکھانا ہے سبھی تیاریاں لگ بھگ مکمل ہو چکی ہوں گی دواؤں کے ...

مزید پڑھیے

نوستالجیا

وہ جب ناراض ہوتی تھی تو اپنے گارڈن میں جا کے مجھ کو فون کرتی تھی ستانے کے لئے مجھ کو وہ کہتی تھی بہت بننے لگے ہو تم مزہ تم کو چکھاؤنگی تمہاری وہ جو گڑیا ہے مرے اندر میں اس کی انگلیوں میں سیکڑوں کانٹے چبھاؤں‌ گی رولاؤں گی میں کہتا تھا اگر تم نے مری پیاری سی گڑیا کو رلایا تو قسم سے ...

مزید پڑھیے

مصرعے

میرے خیالوں کا ایک تنکا تمہاری آنکھوں میں گر گیا ہے برا نا مانو اگر جو تم تو قریب آؤں تمہاری آنکھوں سے مجھ کو مصرعے نکالنا ہے

مزید پڑھیے

بے روزگار

تو اور اک بار پھر میرا سلیکشن ہو نہیں پایا میری ہر ایک ناکامی پہ رسی مسکراتی ہے خوشی سے اینٹھتی ہے اور نئے بل پڑتے جاتے ہیں مجھے اپنا گلا گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے میں اپنی چھت سے جب نیچے گلی میں جھانکتا ہوں تو یہ لگتا ہے سڑک مجھ کو اچھل کر کھینچ لے جائے گی اپنے سنگ ڈرا دیتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

محاذ

میں ظالموں کے خلاف مٹی کا جسم لے کر کھڑا رہوں گا ضمیر جن کو بھی بیچنا ہے وہ بیچ دیں میں نہیں بکوں گا اڑا رہوں گا میں جانتا ہوں یہ بھیڑ مجھ کو تو ایک لمحے میں روند دے گی تو روند دے پھر کسے پڑی ہے ذرا سی ہمت بھی ہے اگر تو وہ بزدلی سے بہت بڑی ہے ہر ایک در بند ہو بھی جائے بھلے دریچوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 651 سے 5858