شاعری

وہ بڑے بنتے ہیں اپنے نام سے

وہ بڑے بنتے ہیں اپنے نام سے ہم بڑے بنتے ہے اپنے کام سے وہ کبھی آغاز کر سکتے نہیں خوف لگتا ہے جنہیں انجام سے اک نظر محفل میں دیکھا تھا جسے ہم تو کھوئے ہے اسی میں شام سے دوستی چاہت وفا اس دور میں کام رکھ اے دوست اپنے کام سے جن سے کوئی واسطہ تک ہے نہیں کیوں وہ جلتے ہے ہمارے نام ...

مزید پڑھیے

ہمیں وفاؤں سے رہتے تھے بے یقین بہت

ہمیں وفاؤں سے رہتے تھے بے یقین بہت دل و نگاہ میں آئے تھے مہہ جبین بہت وہ ایک شخص جو دکھنے میں ٹھیک ٹھاک سا تھا بچھڑ رہا تھا تو لگنے لگا حسین بہت تو جا رہا تھا بچھڑ کے تو ہر قدم پہ ترے پھسل رہی تھی مرے پاؤں سے زمین بہت وہ جس میں بچھڑے ہوئے دل لپٹ کے روتے ہیں میں دیکھتا ہوں کسی فلم ...

مزید پڑھیے

تعلق توڑ کر اس کی گلی سے

تعلق توڑ کر اس کی گلی سے کبھی میں جڑ نہ پایہ زندگی سے خدا کا آدمی کو ڈر کہاں اب وہ گھبراتا ہے کیول آدمی سے مری یہ تشنگی شاید بجھے گی کسی میری ہی جیسی تشنگی سے بہت چبھتا ہے یہ میری انا کو تمہارا بات کرنا ہر کسی سے خسارے کو خسارے سے بھروں گا نکالوں گا اجالا تیرگی سے تمہیں اے ...

مزید پڑھیے

حوصلے تھے کبھی بلندی پر

حوصلے تھے کبھی بلندی پر اب فقط بے بسی بلندی پر خاک میں مل گئی انا سب کی چڑھ گئی تھی بڑی بلندی پر پھر زمیں پر بکھر گئی آ کر دھوپ کچھ پل رہی بلندی پر کھل رہی ہے تمام خوشیوں میں اک تمہاری کمی بلندی پر ہم زمیں سے یہی سمجھتے تھے ہے بہت روشنی بلندی پر گر گئی ہیں سماج کی قدریں چڑھ ...

مزید پڑھیے

ترے احساس میں ڈوبا ہوا میں

ترے احساس میں ڈوبا ہوا میں کبھی صحرا کبھی دریا ہوا میں تری نظریں ٹکی تھیں آسماں پر ترے دامن سے تھا لپٹا ہوا میں کھلی آنکھوں سے بھی سویا ہوں اکثر تمہارا راستہ تکتا ہوا میں خدا جانے کے دلدل میں غموں کے کہاں تک جاؤں گا دھنستا ہوا میں بہت پر خار تھی راہ محبت چلا آیا مگر ہنستا ہوا ...

مزید پڑھیے

یہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتا

یہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتا میری جاناں ہمیں بچھڑے تو کتنے دن مہینے سال گزرے ہیں مگر یہ چوٹ گہری ہے مگر یہ زخم تازے ہیں یہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتا میری جاناں اگر میں ساتھ دو پنچھی بھی بیٹھے دیکھتا ہوں تو میرے ماضی کا ہر منظر میری آنکھوں کے ڈوروں میں ابھرتا ہے تڑپتا ہے میری آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

بے روزگار 2

میں اپنی جانب سے پوری کوشش تو کر رہا ہوں مگر نتیجہ خلاف آئیں تو کیا کروں میں مجھے پتہ ہے کہ جاب پر ہی ہمارا فیوچر ٹکا ہوا ہے مگر یہ رستہ تو دن بہ دن اب طویل ہوتا ہی جا رہا ہے جو ڈر تمہارا ہے میرے ڈر سے الگ نہیں ہے ہو تم پریشاں تو میں بھی جاناں سکوں میں کب ہوں میں اپنی جانب سے پوری ...

مزید پڑھیے

یہ جو کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے

یہ جو کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے کسی کی زلف لہرائی ہوئی ہے نظر ان کی بھری محفل میں آ کر نہ جانے کس سے شرمائی ہوئی ہے غضب ہے دل کشی حسن و ادا کی جوانی جوش پر آئی ہوئی ہے تمہاری یاد بھی آتی نہیں اب نہ جانے کس کی بہکائی ہوئی ہے ہجوم یاس سے تنگ آ کے رفعتؔ تمنا میری مرجھائی ہوئی ہے

مزید پڑھیے

نظر سے دور رہے یا نظر کے پاس رہے

نظر سے دور رہے یا نظر کے پاس رہے ہمیشہ عشق کے موسم بہت ہی خاص رہے میں تیرے ذکر کی وادی میں سیر کرتا رہوں ہمیشہ لب پہ ترے نام کی مٹھاس رہے یہ اضطراب جنوں کو بہت اکھرتا ہے کہ تم قریب ہو تن پر کوئی لباس رہے وہ رو بہ رو تھے تو آنکھوں سے دور چل نکلے کھلی نہ بوتلیں خالی سبھی گلاس ...

مزید پڑھیے

جنون سر سے اتر گیا ہے

جنون سر سے اتر گیا ہے وجود لیکن بکھر گیا ہے بہت خسارہ ہے عاشقی میں تمام علم و ہنر گیا ہے میں اور ہی شخص ہوں کوئی اب جو شخص پہلے تھا مر گیا ہے بہت کڑا تھا وہ وقت مجھ پر وہ وقت لیکن گزر گیا ہے سراجؔ اک خوش مزاج چہرہ مجھے اداسی سے بھر گیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 652 سے 5858