شاعری

خواب کی دنیا

کھیتوں کی پگڈنڈی پر دو ننھے ننھے پاؤں ہری گھاس سے الجھیں بھاگتے جائیں بھاگتے جائیں رک کر دیکھیں چاند نگر میں بیٹھی بڑھیا کوئی راگ الاپے چھن چھن کرتے سارے گھنگھرو ایک تال سے بولیں بوجھو بچو میری پہیلی کیا ہے اس کا بھید بادل کی کھڑکی سے سارے تارے گرتے جائیں اور جگنو بن جائیں دور ...

مزید پڑھیے

رہبر ملا نہ ہم کو کوئی رہنما ملا

رہبر ملا نہ ہم کو کوئی رہنما ملا رہزن صفت ہی جو بھی ملا ہم نوا ملا ہر شخص بے حسی ہی کا اک آئنہ ملا ہر روز اس نگر میں نیا سانحہ ملا تم بے وفا ہوئے تو زمانہ ملا تمہیں ہم با وفا ہوئے تو نیا عارضہ ملا فیشن میں غرق ہیں وہ ترقی کے نام پر نام و نمود کو بھی نیا زاویہ ملا دو دوستوں میں ...

مزید پڑھیے

نندیا آئی دور سے

اک جھیل کے کنارے سہمے ہوئے تھے تارے جگنو چمک رہے تھے جھم جھم جھمک رہے تھے اک عکس کھو گیا تھا وہ بچہ سو گیا تھا امی کی لوریوں میں ریشم کی ڈوریوں میں جب نیند آ رہی تھی چپ چاپ گا رہی تھی ریشم کے پالنے میں پینگیں اچھالنے میں

مزید پڑھیے

کٹھ پتلی نے پودے لگائے

آنگن میں کٹھ پتلی نے پودے لگائے اس میں نکلے پھول رنگ برنگے اودے پیلے نیلے لال گلابی رنگوں کی ورشا سے جاگے اس کے گھر کا آنگن پائل کی ہو چھن چھن گملوں کا بازار لگا ہے گھر دیکھو پھولوں سے سجا ہے گڈو راجا اپنے ہاتھ سے کلیوں کو یوں توڑیں موڑیں پھول میں باقی جان نہ چھوڑیں کٹھ پتلی جب ...

مزید پڑھیے

پریہ درشنی اندرا گاندھی

اک لڑکی تھی کتنی پیاری اندرا اس کا نام اس کا بچپن نٹ کھٹ چنچل شور مچاتا گزرا اس کا عزم قدم قدم پر لاوا بن کا بپھرا اک لڑکی تھی کتنی پیاری اندرا اس کا نام اس کے اندر کتنے طوفانوں کی رنگ بھری شکتی تھی اس کے اندر مانوتا کی آگ ابلتی رہتی تھی اک لڑکی تھی کتنی پیاری اندرا اس کا ...

مزید پڑھیے

آؤ چلیں ہم چاند پر

تاروں بھری اک رات ہو قصوں میں کوئی بات ہو اک بڑھیا روئی کاتتی اور گھی کے لڈو بانٹتی پیتل کی گھنٹی بولتی کانوں میں رس ہے گھولتی گھنگھرو کھنک کر رہ گئے تارے چھٹک کر رہ گئے جب نیند آئے دور سے ہم کو منائے دور سے آؤ چلیں ہم چاند پر تاروں بھری اک رات میں

مزید پڑھیے

عید گاہ

آج خوشی سے ناچتے بچے کرتے ہیں سب کام خوشیوں سے بھرپور عید گاہ میں شور ہے کتنا میلے کا ہنگام غم سے چکنا چور اچھے اچھے کپڑے پہنے بچوں کی اک فوج موسم ہے رنگین چلتا پھرتا ایک سمندر موج سے ملتی موج بچے بجائیں بین سارے کھیل کھلونے سطوتؔ گڈمڈ ہوتے جائیں مل کر سب چلائیں ان سارے چہروں میں ...

مزید پڑھیے

رنگ لایا دوانہ پن میرا

رنگ لایا دوانہ پن میرا سی رہے ہیں وہ پیرہن میرا میں نوید بہار لایا تھا تذکرہ ہر چمن چمن میرا شبنم فکر و گلستان سخن جگمگاتا ہے پھولبن میرا لالہ و گل کھلے ہیں کانٹوں پر ان میں الجھا تھا پیرہن میرا یہ بھی اب تک نہیں ہوا معلوم میں سجن کا ہوں یا سجن میرا جو بھی ہے سب تری عنایت ...

مزید پڑھیے

ترے آتے ہی سب دنیا جواں معلوم ہوتی ہے

ترے آتے ہی سب دنیا جواں معلوم ہوتی ہے خزاں رشک بہار جادواں معلوم ہوتی ہے جنون سجدہ ریزی کا یہ عالم ہے معاذ اللہ ہر اک چوکھٹ ترا ہی آستاں معلوم ہوتی ہے اسے ہر اہل دل پہروں مزے لے لے کے سنتا ہے مری بپتا حدیث دلبراں معلوم ہوتی ہے کٹے ہیں دن بلاؤں کے سہارے جن اسیروں کے انہیں بجلی ...

مزید پڑھیے

نہیں چلتی کوئی تلوار پانی پر

نہیں چلتی کوئی تلوار پانی پر کہ خالی جاتا ہے ہر وار پانی پر تجھے ملنے کی خاطر شوق سے اے جاں میں چل کر آتا تھا ہر بار پانی پر ہماری رنجشوں نے دل کے آنگن میں بنا رکھی ہے اک دیوار پانی پر مجھے وہ جھیل پر ملنے کو آیا پھر مجھے ہونے لگا دیدار پانی پر گلے ملنے لگیں پرچھائیاں دونوں ملن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 647 سے 5858