حسن بت مر مر ہے کہ تن چاندی کا
حسن بت مر مر ہے کہ تن چاندی کا یہ خواب ہے یا اصل بدن چاندی کا بیٹھا ہی تھا دم بھر ترے پہلو میں سراجؔ پہنا دیا موت نے کفن چاندی کا
حسن بت مر مر ہے کہ تن چاندی کا یہ خواب ہے یا اصل بدن چاندی کا بیٹھا ہی تھا دم بھر ترے پہلو میں سراجؔ پہنا دیا موت نے کفن چاندی کا
اشعار میں ہنگامۂ کل باندھ دیا ہم نے صف انجم رگ گل باندھ دیا جب تک جئے دنیا تو برا کہتی تھی موت آئی تو تعریف کا پل باندھ دیا
سبھی کو یوں تو دنیا میں ہزاروں لوگ ملتے ہے مگر اس بھیڑ میں مجھ کو نظر تم ہی نہیں آتے تمہیں میں ڈھونڈتی پھرتی ہوں صحراؤں میں گلشن میں چمن میں اور بیاباں میں جہاں تک روشنی سورج کی پہونچی ہے وہاں تک بھی جہاں تک فکر کی پرواز پہنچی ہے وہاں تک بھی تمہیں ڈھونڈا ندی کے پانیوں کی ان رواں ...
تو نے آنے نہ دیا دنیا میں میں ترے جسم کا ہی حصہ تھی اس طرح کیوں مٹا دیا مجھ کو میں محبت کا تیرے قصہ تھی مجھ کو حصوں میں بانٹ ڈالا تھا کتنے ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا تھا میرے ہونے سے ہوتا کیا نقصان نوچ لی کیوں یہ تم نے ننھی جان میرے ہونے سے کیا کمی ہوتی میں ترے گھر کی لکشمی ہوتی کچھ مقدر ...
کاش تو آ کے دیکھ سکتا کبھی آج کتنی بدل گئی ہوں میں چار دن کی تری جدائی میں کس قدر اب سنبھل گئی ہوں میں اک زمانہ تھا جب ترا سایہ میرے سر پر تھا برگدوں کی طرح کتنی بے فکر زندگی تھی مری ہوش اپنا نہ تھا کسی کا خیال اپنے کمرے میں بس پڑے رہنا رات دن صرف شاعری کرنا وقت سے سونا جاگنا ...
جیسے ماحول میں انساں کا گزر ہوتا ہے اس کے کردار میں ویسا ہی اثر ہوتا ہے جن کو قابو نہیں ہوتا ہے زباں پر اپنی پار کرتے ہیں حدیں وہم و گمان پر اپنی صرف لفظوں پہ وفا کا جو بھرم رکھتے ہیں عملی دنیا میں وہ کب اپنے قدم رکھتے ہیں حق کے اظہار پہ ہر وقت جو انکار کریں ہر کسی بات پہ جو طنز ...
کہاں ہے نیند آنکھوں میں پٹکتی سر اداسی ہے ستم کی خاک سے لپٹی تھکن ہے بد حواسی ہے مرے آنسو بھگوتے ہیں مرا تکیہ مرا بستر تمہارے بعد سے اب تک یہ میرا حال ہے بد تر چلے یہ نبض بھی مدھم توازن میں نہیں دھڑکن لگے یہ سانس بھی بھاری کی اب دنیا لگے بندھن نہیں ہو ساتھ تم میرے مجھے ہر پل لگے ...
یہ کون بغل گیر ہوا خوشبو کی طرح آنکھوں کے گہر جاگ اٹھے جگنو کی طرح احساس کی اس بارہ دری پر اب تک اک چاند سلگ رہا ہے آنسو کی طرح
مجھے لوٹا سکو گے تم مری چھوٹی سی وہ دنیا مرے احساس کی شدت مرے الفاظ کی حرمت گزارے سنگ جو لمحے مری خواہش مرے سپنے وہ بے چینی وہ بیتابی مری آنکھوں کی بے خوابی لبوں کی وہ ہنسی میری نگاہوں کی چمک میری امنگوں سے بھری باتیں حسیں وہ دن جواں راتیں وہ رنگوں سے بھری شامیں بس اک دوجے کو ہم ...
تن پہ اوڑھے ہوئے چادر غم تنہائی کی آج بیمار میں بستر پہ پڑی سوچتی ہوں حال ناساز ہے میرا یہ بتاؤں کس کو اپنی تکلیف پریشانی سناؤں کس کو جب سہا جاتا نہیں درد تو اٹھ جاتی ہوں اور پھر اٹھ کے دوا زہر سی میں کھاتی ہوں کوئی ہم درد تو ہوتا کہیں نزدیک میرے دیکھ کر درد مرا وہ بھی پریشاں ...