شاعری

پھول سب کے لیے مہکتے ہیں

پھول سب کے لیے مہکتے ہیں لوگ لیکن کہاں سمجھتے ہیں زندگی جی رہے ہیں ہم لیکن زندگی کے لیے ترستے ہیں وقت کا ایک نام اور بھی ہے لوگ مرہم بھی اس کو کہتے ہیں روز ملتے نہیں ہیں ہم خود سے روز خود سے مگر بچھڑتے ہیں پھول جیسے جو کھل نہیں پاتے پھول جیسے وہی بکھرتے ہیں وقت میں خاصیت ہے ...

مزید پڑھیے

اس کو میرا ملال ہے اب بھی

اس کو میرا ملال ہے اب بھی چلیے کچھ تو خیال ہے اب بھی روز یادوں کی تہہ بناتا ہے اس کا جینا محال ہے اب بھی تم نے اتر بدل دئے ہر بار میرا وہ ہی سوال ہے اب بھی جس نے دشمن سمجھ لیا ہے ہمیں اس سے ملنا وصال ہے اب بھی دفن ہو کر بھی سانس باقی ہے کوئی رشتہ بحال ہے اب بھی

مزید پڑھیے

ایک اک قطرہ جوڑ کر رکھا

ایک اک قطرہ جوڑ کر رکھا خون سارا نچوڑ کر رکھا رنگ تو اور بھی تھے جیون میں کیوں اداسی کو اوڑھ کر رکھا کیونکہ آئینہ سچ بتا دے گا اس لیے اس کو توڑ کر رکھا جو بھی لمحے تمہارے ساتھ کٹے میں نے ان سب کو جوڑ کر رکھا وہ ورق جس میں تیرا نام آیا میں نے ان سب کو موڑ کر رکھا خود پہ جب بھی کیا ...

مزید پڑھیے

شاید تجھ سے ملنے کی گنجائش ہے

شاید تجھ سے ملنے کی گنجائش ہے سناٹا ہے خاموشی ہے بارش ہے میری آنکھیں خواب ترے ہی دیکھیں گی ان میں بیگانے خوابوں کی بندش ہے اب جا کر کے دل کو یہ احساس ہوا تیرا پیار بھی پیار نہیں اک سازش ہے تجھ کو دیکھ کے ایسا کیوں محسوس ہوا خوش ہے تو یا خوش ہونے کی کوشش ہے رشتوں کی قبروں پر مٹی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 639 سے 5858