کب خاک کا مقصود تھا حیراں ہونا
کب خاک کا مقصود تھا حیراں ہونا فن کف آذر سے پریشاں ہونا تخلیق کا آخر یہ مقدر ٹھہرا مخلوق کا ہنس کھیل کے ویراں ہونا
کب خاک کا مقصود تھا حیراں ہونا فن کف آذر سے پریشاں ہونا تخلیق کا آخر یہ مقدر ٹھہرا مخلوق کا ہنس کھیل کے ویراں ہونا
سنبھلے نہ سنبھالے نوجوانی کی دھوپ پیری میں نکھارے سے نکھرتا نہیں روپ کر عہد جوانی کو ضعیفی میں نہ یاد اللہ کی قدرت کبھی چھاؤں کبھی دھوپ
پھول سب کے لیے مہکتے ہیں لوگ لیکن کہاں سمجھتے ہیں زندگی جی رہے ہیں ہم لیکن زندگی کے لیے ترستے ہیں وقت کا ایک نام اور بھی ہے لوگ مرہم بھی اس کو کہتے ہیں روز ملتے نہیں ہیں ہم خود سے روز خود سے مگر بچھڑتے ہیں پھول جیسے جو کھل نہیں پاتے پھول جیسے وہی بکھرتے ہیں وقت میں خاصیت ہے ...
اس کو میرا ملال ہے اب بھی چلیے کچھ تو خیال ہے اب بھی روز یادوں کی تہہ بناتا ہے اس کا جینا محال ہے اب بھی تم نے اتر بدل دئے ہر بار میرا وہ ہی سوال ہے اب بھی جس نے دشمن سمجھ لیا ہے ہمیں اس سے ملنا وصال ہے اب بھی دفن ہو کر بھی سانس باقی ہے کوئی رشتہ بحال ہے اب بھی
ایک اک قطرہ جوڑ کر رکھا خون سارا نچوڑ کر رکھا رنگ تو اور بھی تھے جیون میں کیوں اداسی کو اوڑھ کر رکھا کیونکہ آئینہ سچ بتا دے گا اس لیے اس کو توڑ کر رکھا جو بھی لمحے تمہارے ساتھ کٹے میں نے ان سب کو جوڑ کر رکھا وہ ورق جس میں تیرا نام آیا میں نے ان سب کو موڑ کر رکھا خود پہ جب بھی کیا ...
شاید تجھ سے ملنے کی گنجائش ہے سناٹا ہے خاموشی ہے بارش ہے میری آنکھیں خواب ترے ہی دیکھیں گی ان میں بیگانے خوابوں کی بندش ہے اب جا کر کے دل کو یہ احساس ہوا تیرا پیار بھی پیار نہیں اک سازش ہے تجھ کو دیکھ کے ایسا کیوں محسوس ہوا خوش ہے تو یا خوش ہونے کی کوشش ہے رشتوں کی قبروں پر مٹی ...
عقبیٰ کی خلش سینۂ دنیا کی خراش آئینۂ شاعر میں ہر اک راز ہے فاش وہ ذہن دو عالم سے اتر جاتا ہے جو شخص نہیں پیکر احساس تراش
افسانۂ ظلم اپنا مکمل کر دو گلزار محبت کو جنگل کر دو غم باندھ لیا دل سے تمہاری خاطر اب چہرہ دکھا کر مجھے پاگل کر دو
یہ رزم گہہ فن یہ بلاغت کا محاذ گفتار سنبھل کہ ہے فصاحت کا محاذ آسان سمجھئے نہ رباعی کہنا مقتل گہہ شاعر ہے شہادت کا محاذ
ٹھوکر مجھے در در کی کھلا کے چھوڑا تقدیر نے یوں ہوش اڑا کے چھوڑا یہ قصر دل و جاں تھا حسیں لیکن اسے اک روز اجل نے بھی مٹا کے چھوڑا