شاعری

میں یوں تو خواب کی تعبیر سوچتا بھی نہیں

میں یوں تو خواب کی تعبیر سوچتا بھی نہیں مگر وہ شخص مرے رت جگوں کا تھا بھی نہیں مرا نصیب وہ سمجھا نہ بات اشاروں کی مرا مزاج کہ میں صاف کہہ سکا بھی نہیں بڑی گراں ہے مری جاں یہ کیفیت مت پوچھ کہ ان لبوں پہ گلہ بھی نہیں دعا بھی نہیں یہ زندگی کے تعاقب میں روز کا پھرنا اگرچہ اس طرح جینے ...

مزید پڑھیے

مجھے ملال میں رکھنا خوشی تمہاری تھی

مجھے ملال میں رکھنا خوشی تمہاری تھی مگر میں خوش ہوں کہ وابستگی تمہاری تھی بچھڑ کے تم سے خزاں ہو گئے تو یہ جانا ہمارے حسن میں سب دل کشی تمہاری تھی بہ نام شرط محبت یہ اشک بہنے دو ہمیں خبر ہے کہ جو بے بسی تمہاری تھی وہ صرف میں تو نہیں تھا جو ہجر میں رویا وہ کیفیت جو مری تھی وہی ...

مزید پڑھیے

اس کا غم ہے کہ مجھے وہم ہوا ہے شاید

اس کا غم ہے کہ مجھے وہم ہوا ہے شاید کوئی پہلو میں مرے جاگ رہا ہے شاید جاگتے جاگتے پچھلی کئی راتیں گزری چاند ہونا مری قسمت میں لکھا ہے شاید دوڑ جاؤں ہر اک آہٹ پہ کواڑوں کی طرف اور پھر خود کو ہی سمجھاؤں ہوا ہے شاید اس کی باتوں سے وہ اب پھول نہیں جھڑتے ہیں اس کے ہونٹوں پہ ابھی میرا ...

مزید پڑھیے

غم سے فرصت نہیں کہ تجھ سے کہیں

غم سے فرصت نہیں کہ تجھ سے کہیں تجھ کو رغبت نہیں کہ تجھ سے کہیں ہجر پتھر گڑا ہے سینے میں پر وہ شدت نہیں کہ تجھ سے کہیں آرزو کسمسائے پھرتی ہے کوئی صورت نہیں کہ تجھ سے کہیں خامشی کی زباں سمجھ لینا اپنی عادت نہیں کہ تجھ سے کہیں درد حد سے سوا تو ہے لیکن ایسی حالت نہیں کہ تجھ سے ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں

زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں زہر خود میں نے پیا ہے کوئی افسوس نہیں میں نے مجرم کو بھی مجرم نہ کہا دنیا میں بس یہی جرم کیا ہے کوئی افسوس نہیں میری قسمت میں لکھے تھے یہ انہیں کے آنسو دل کے زخموں کو سیا ہے کوئی افسوس نہیں اب گرے سنگ کہ شیشوں کی ہو بارش فاکرؔ اب کفن اوڑھ لیا ...

مزید پڑھیے

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی محلے کی سب سے ...

مزید پڑھیے

مری زباں سے مری داستاں سنو تو سہی

مری زباں سے مری داستاں سنو تو سہی یقیں کرو نہ کرو مہرباں سنو تو سہی چلو یہ مان لیا مجرم محبت ہیں ہمارے جرم کا ہم سے بیاں سنو تو سہی بنوگے دوست مرے تم بھی دشمنو اک دن مری حیات کی آہ و فغاں سنو تو سہی لبوں کو سی کے جو بیٹھے ہیں بزم دنیا میں کبھی تو ان کی بھی خاموشیاں سنو تو سہی

مزید پڑھیے

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو مجھ کو مجھ سے ابھی جدا نہ کرو my sorrows no one should allay keep not me from my self away ناخدا کو خدا کہا ہے تو پھر ڈوب جاؤ خدا خدا نہ کرو if captain to be Lord you think don’t call to God, tis better sink یہ سکھایا ہے دوستی نے ہمیں دوست بن کر کبھی وفا نہ کرو friendship has taught this to me in friendship don’t bear loyalty عشق ہے ...

مزید پڑھیے

اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے

اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے لیلیٰ مجنوں کی مثالوں پہ ہنسی آتی ہے I scoff at stories of sincerity I mock the models of fidelity جب بھی تکمیل محبت کا خیال آتا ہے مجھ کو اپنے ہی خیالوں پہ ہنسی آتی ہے when thoughts of love's fulfillment arise my thoughts are a source of mirth to me لوگ اپنے لئے اوروں میں وفا ڈھونڈتے ہیں ان وفا ڈھونڈنے ...

مزید پڑھیے

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں زندگی کو بھی صلہ کہتے ہیں کہنے والے جینے والے تو گناہوں کی سزا کہتے ہیں فاصلے عمر کے کچھ اور بڑھا دیتی ہے جانے کیوں لوگ اسے پھر بھی دوا کہتے ہیں چند معصوم سے پتوں کا لہو ہے فاکرؔ جس کو محبوب کی ہاتھوں کی حنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 636 سے 5858