تھی آرزو عروج پر اور رو بہ رو تھی رات
تھی آرزو عروج پر اور رو بہ رو تھی رات کوئی مرے قریب تھا تھی آرزو کی رات انجانے میں اسیر ہوئی تھی نظر مگر تسکین دل کو دے گئی وہ مختصر سی رات جھپکی پلک گزر گئی چاہے طویل تھی دل کو پناہ دے گئی آوارگی کی رات کس کو خبر تھی تڑپیں گے فرقت میں عمر بھر ان لمحوں کے گزارنے کے فکر میں تھی ...