شاعری

ہم کریں کس پہ بھروسہ کہ یہاں سب جھوٹے

ہم کریں کس پہ بھروسہ کہ یہاں سب جھوٹے یہ محبت یہ محبت کے نشاں سب جھوٹے کوئی ایسا نہیں مشکل میں جو کچھ کام آئے کس کا ہم ذکر کریں جان جہاں سب جھوٹے ہم نے دیکھا ہے وہ منظر کہ لرز جاتا ہے دل کیسے کہہ دیں کہ نہیں اہل جہاں سب جھوٹے راحتیں خواب سہی تم تو حقیقت ٹھہرے بات اک سچ ہے یہی ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی مہربان رہنے دو

ہر گھڑی مہربان رہنے دو سو طرح کے گمان رہنے دو عشق کو امتحان کیا مطلب عشق میں امتحان رہنے دو میرے حصہ میں بجلیاں آئیں کون تھا باغبان رہنے دو بات ایسی کرو کہ ہو مطلب یہ زمین آسمان رہنے دو کوئی وعدہ کبھی نبھایا ہے یہ سیاسی بیان رہنے دو تم کو پرواز کی ہے فکر انجمؔ تنگ ہے آسمان ...

مزید پڑھیے

پھر میسر یہ ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

پھر میسر یہ ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو سامنے بیٹھ کے پھر بات کبھی ہو کہ نہ ہو آؤ ہم بوجھ دلوں کا ذرا ہلکا کر لیں کیا خبر اشکوں کی برسات کبھی ہو کہ نہ ہو یہ بھی ممکن ہے کہ میں آپ کا دل رکھ پاؤں پھر سے یہ عالم جذبات کبھی ہو کہ نہ ہو چھوڑنے والا تھا دل تیرے کرم کی امید ڈر تھا پھر لطف ...

مزید پڑھیے

پل میں یاری کر لیتے ہو

پل میں یاری کر لیتے ہو باتیں اچھی کر لیتے ہو کہے بنا میں رہ نہیں پاؤں قابو دل بھی کر لیتے ہو جس کے ساتھ بھی جاؤ اسی کو پرچھائیں سی کر لیتے ہو چنتے ہو تم مشکل مقصد اور حاصل بھی کر لیتے ہو دل میں کیا ہے پتہ ہے تم کو تم ان دیکھی کر لیتے ہو ہم سے کھل کر ایسی باتیں بس اک تم ہی کر لیتے ...

مزید پڑھیے

جہاں رقص کرتے اجالے ملے

جہاں رقص کرتے اجالے ملے وہیں دل کے ٹوٹے شوالے ملے نہ پوچھو بہاروں کے رحم و کرم کہ پھولوں کے ہاتھوں میں چھالے ملے مری تیرہ بختی اور ان کی ہنسی سیاہی میں کرنوں کے بھالے ملے نہ کچھ موتیوں کی کمی تھی مگر بھنور سے ہمیں صرف ہالے ملے میں وہ روشنی کا نگر ہوں جہاں چراغوں کے چہرے بھی ...

مزید پڑھیے

بے سمجھے بوجھے محبت کی اک کافر نے ایمان لیا

بے سمجھے بوجھے محبت کی اک کافر نے ایمان لیا اب آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں کیوں دل کا کہنا مان لیا ہم فکر میں تھے چھپ کر دیکھیں ان جلووں نے پہچان لیا جب تک یہ نظر اٹھے اٹھے ظالم نے پردہ تان لیا کیوں حسن گراں مایہ یہ کیا تیرے جلوے اتنے ارزاں ایک ایک خدا اپنا اپنا جس نے جسے چاہا مان ...

مزید پڑھیے

یوم آزادی

زمین ہند ہے اور آسمان آزادی یقین بن گیا اب تو گمان آزادی سنو بلند ہوئی پھر اذان آزادی سر نیاز ہے اور آستان آزادی پہاڑ کٹ گیا نور سحر سے رات ملی خدا کا شکر غلامی سے تو نجات ملی ہوائے عیش و طرب بادبان بن کے چلی زمیں وطن کی نیا آسمان بن کے چلی نسیم صبح پھر ارجنؔ کا بان بن کے چلی بہار ...

مزید پڑھیے

جلنے میں کیا لطف ہے یہ تو پوچھو تم پروانے سے

جلنے میں کیا لطف ہے یہ تو پوچھو تم پروانے سے دیوانہ پن کیا شے ہے یہ راز ملے دیوانے سے ناؤ بھنور میں آئی ہے اب بچنا ہوا محال بہت جو ہونا ہے سو ہوگا کیا ہوگا جی بہلانے سے گر اس ساری عمر میں ایک بھی لمحہ نہیں مسرت کا کیسے سوچ لیں ہو جائیں گے ختم یہ دکھ مر جانے سے اب بھی بھرا نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

دل سے اب تو نقش یاد رفتگاں بھی مٹ گیا

دل سے اب تو نقش یاد رفتگاں بھی مٹ گیا اس خرابے سے بالآخر یہ نشاں بھی مٹ گیا کس قدر خاموش تھا میداں سر شام شکست مرحبا کے ساتھ شور الاماں بھی مٹ گیا پہلے تو سایہ فگن تھا خاک ہو جانے کا خوف پھر دلوں سے رنج عمر رائیگاں بھی مٹ گیا ٹوٹتا جاتا ہے اب تاراج خوابوں کا طلسم آنکھ سے عکس ...

مزید پڑھیے

وہی ستارہ جو بجھ گیا ہم سفر تھا میرا

وہی ستارہ جو بجھ گیا ہم سفر تھا میرا اسی کی سمت ایک سبز ساحل پہ گھر تھا میرا میں اس زمیں پر بریدہ بازو سسک رہا ہوں جو اڑ رہا تھا ہوا میں وہ ایک پر تھا میرا وہ ہاتھ میرے جنہوں نے تلوار سونت لی تھی جو خاک و خوں میں لتھڑ گیا تھا وہ سر تھا میرا زمیں یہاں سے وہاں تلک سبز ہو رہی تھی مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 631 سے 5858