شاعری

انساں ہوس کے روگ کا مارا ہے ان دنوں

انساں ہوس کے روگ کا مارا ہے ان دنوں بے لوث ربط کس کو گوارا ہے ان دنوں دل اب مرا دماغ کے تابع ہے اس لئے جینا ترے بغیر گوارا ہے ان دنوں محرومیوں کو مان کے تقدیر کا لکھا دل سے غموں کا بوجھ اتارا ہے ان دنوں موزوں ہے وقت آمد طوفان کے لئے کشتی سے میری دور کنارا ہے ان دنوں کوچے میں ...

مزید پڑھیے

رہبر جادۂ منزل پہ ہنسی آتی ہے

رہبر جادۂ منزل پہ ہنسی آتی ہے لڑکھڑاتے ہوئے اس دل پہ ہنسی آتی ہے حسرت قربت منزل پہ ہنسی آتی ہے اب تو دیوانگئ دل پہ ہنسی آتی ہے یاد کر کے تری صورت تری باتیں اکثر یوں تڑپتا ہے کہ اس دل پہ ہنسی آتی ہے عمر گم کر کے فراہم کیا سامان‌‌ حیات اب مجھے زیست کے حاصل پہ ہنسی آتی ہے قلزم غم ...

مزید پڑھیے

اب خزاں آئے یا بہار آئے

اب خزاں آئے یا بہار آئے کوئی موسم تو سازگار آئے ہم نے ہاری تھی عشق کی بازی لوگ تو حوصلے بھی ہار آئے رکھ کے اس در پہ سر اٹھاتے کیا آج یہ بوجھ بھی اتار آئے اب وہ لمحے ہیں راستوں کے چراغ تیری دھن میں جو ہم گزار آئے ہے یہ شعلہ تو کوئی بات نہیں دل اگر ہے تو پھر قرار آئے سوزؔ پل پل ...

مزید پڑھیے

کرم فرما تری یادوں کے لشکر ٹوٹ جاتے ہیں

کرم فرما تری یادوں کے لشکر ٹوٹ جاتے ہیں نگاہوں میں جو رہتے ہیں وہ منظر ٹوٹ جاتے ہیں خوشی کو بانٹنے والے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں حدود ضبط سے آگے سمندر ٹوٹ جاتے ہیں اگر خاموش رہتے ہیں تو دل پر بوجھ رہتا ہے اگر ہم بولتے ہیں کچھ تو کہہ کر ٹوٹ جاتے ہیں محبت ہو تو رشتے اور بھی مضبوط ہو ...

مزید پڑھیے

میں جاگتا ہوں

میں جاگتا ہوں کوئی نظم سر اٹھائے تو اسے میں سینۂ قرطاس پر رقم کر دوں مرے دکھوں کی صلیبوں پہ کیسے کیسے بدن لٹک رہے ہیں نمائش کو ایک مدت سے میں ایک سانس میں کیسے جیا ہوں کیسے مرا ہو میرے ہاتھ کی تحریر میں لکھا شاید کوئی شکن مرے ماضی کی عکس ہو شاید میں اپنا ایک ستم کارساز کرنے ...

مزید پڑھیے

وصل کے بعد

درد دل سو بھی چکا ڈھل بھی چکا وصل کا چاند انجم صبح کھلا ختم ہوا شب کا سفر تیر کرنوں کے چلے زخم ہوئے پھر گہرے لگ گئی لیلئ شب کو بھی ستاروں کی نظر جل بجھے پیار کی خوش رنگ تمنا کے چراغ پھر سلگنے لگا ہر سانس میں آہوں کا دھواں پھر تصور کے جزیرے کی فضا ہے مغموم پھر در و بام پہ چھایا ہے ...

مزید پڑھیے

رات

دیار شب ہے کہ اک پیڑ کالے پتوں کا کہ جس کے سائے تلے صبح سے بھٹکتے بدن دکھوں کی چادروں میں خواب بو کے سوئے ہیں وہ خواب جن کی تعبیروں پہ دسترس ہی نہیں وہ خواب جو کہ فقط سیاہیوں میں پلتے ہیں وہ خواب جو کہ ہر اک صبح و شام ساتھ چلیں وہ خواب جو کہ ہر اک صبح و شام ساتھ رہیں مرے وہ خواب ...

مزید پڑھیے

اے میرے پیارے وطن

تیرے گلشن کی ہر اک رنگین ڈالی کو سلام تیری خوشبو تیری کلیوں تیرے مالی کو سلام شب کی زلف عنبریں کو دن کی لالی کو سلام اے مرے محسن ترے حسن مثالی کو سلام ریشمیں کرنوں میں لپٹی تیری صبحوں کو سلام نور میں ڈوبی ہوئی پونم کی راتوں کو سلام روپ کے سہرے سجاتی تیری کرنوں کو سلام اے مرے محسن ...

مزید پڑھیے

تو کون ہے ری

تو کون ہے ری تو کون ہے ری تو کون ہے بتا کن خوابوں سے تو بچھڑی ہے خوشبو کی طرح جو بکھری ہے کس کارن مجھ سے ملی ہے تو کس کارن مجھ سے بچھڑے گی کب بچھڑے گی کیوں بچھڑے گی کس رت کی آوارہ یہ پون میری راہوں میں رقص کرے مری سوچ کا آنچل اوڑھ کے جو سانسوں کی اگن میں چمک بھرے کس گیت کنول کی ...

مزید پڑھیے

جیون کی بگیا سے ہم کو کیا سندر سوغات ملی

جیون کی بگیا سے ہم کو کیا سندر سوغات ملی پھولوں کا سہرا باندھا تو شعلوں کی بارات ملی چاند بھٹکتا دیکھا سب نے میرے شہر کی گلیوں میں تنہائی کا بھیس بدل کر یاد تری جس رات ملی ہم بھی کتنے خوش قسمت ہیں ہمیں تمہارے آنگن سے سورج کی خیرات ملی تو کالی رات بھی ساتھ ملی اس کو کوئی کھیل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 629 سے 5858