شاعری

ہونے لگتی ہے دل و جاں میں جلن رات ڈھلے

ہونے لگتی ہے دل و جاں میں جلن رات ڈھلے جب بھی لو دیتے ہیں خوابوں کے بدن رات ڈھلے ہنستی کلیوں نے تو سنگار کیا تھا لیکن جل بجھا کیوں ترے وعدوں کا چمن رات ڈھلے نور ہے دیدۂ دل میں تو ذرا غور سے دیکھ زخم کے چاند کو لگتا ہے گہن رات ڈھلے چاندنی رات کے تابوت میں رکھ دے اس کو دل نے پہنا ہے ...

مزید پڑھیے

نئے سال کی صبح

روح انساں کی جواں تشنہ لبی کی خاطر زنگ آلود تمناؤں کی زنجیر لیے پھر سحر رات کے زنداں سے نکل آئی ہے صبح لائی ہے اجالوں کا چھلکتا ہوا جام رات کی آنکھوں سے ٹپکا ہے ستاروں کا لہو تیرہ و تار فضا ڈوب گئی ہے خود میں دور سورج کی سلگتی ہوئی آہوں سے پرے میری ہر فکر کی ہر سوچ کی راہوں سے ...

مزید پڑھیے

وہ روشنی

پلکوں سے میری پھر وہی الجھی ہے روشنی وہ روشنی جو ایک صبح چل دی تیاگ کر میرے حصار غم کے شکستہ مکان کو میرے دیار جسم کے ہر رنگ و بو سے دور وہ روشنی جو دھویں کی چادر میں کھو گئی وہ روشنی جو آگ کی لپٹوں میں تھی رواں سمٹی تو راکھ بن گئی میرے نصیب کی وہ راکھ جو کہ دفن ہے گنگا کی گود میں

مزید پڑھیے

صلیبیں

زمانے کی رفتار سے تنگ آ کر صلیبیں اٹھائے سبھی چل رہے ہیں غموں کی صلیبیں دکھوں کی صلیبیں صلیبیں اٹھائے سبھی جی رہے ہیں کہ زہر حقیقت سبھی پی رہے ہیں مگر حیف صد حیف سارے جہاں میں کوئی بھی کسی کا مسیحا نہیں ہے زمانے کے حالات سے کیا لڑیں گے دلوں پہ جفاؤں کے کوڑے پڑیں گے نگاہوں سے ...

مزید پڑھیے

چاند تو کھل اٹھا ستاروں میں

چاند تو کھل اٹھا ستاروں میں ہم سلگتے رہے شراروں میں دل وحشت زدہ کا حال نہ پوچھ پھول مرجھا گئے بہاروں میں آنسوؤں کے چراغ روشن ہیں دیکھ پھر تیری رہ گزاروں میں کائنات اور بھی نکھر جائے رنگ بھر دو اگر نظاروں میں پھول کھلتے ہیں ہر برس ان پر دفن ہے کون ان مزاروں میں میرے سارے خلوص ...

مزید پڑھیے

اک روشنی کا زہر تھا جو آنکھ بھر گیا

اک روشنی کا زہر تھا جو آنکھ بھر گیا ہر دائرہ وہ سوچ کا مفلوج کر گیا تھی عاقبت کی خامشی تنہائیوں کی چیخ دنیا یہ کہہ رہی تھی مرا وقت مر گیا جو شہر درد میں تھا گھنی چھاؤں کا شجر کچھ دھوپ تھی کڑی کہ خلا میں اتر گیا کیا لطف تشنگی تھا مجھے کچھ خبر نہیں کتنے سمندروں سے میں پیاسا گزر ...

مزید پڑھیے

محبت کیا صلیب زندگی ہے

محبت کیا صلیب زندگی ہے دل رسوا کا حاصل خودکشی ہے خود اپنی خواہشوں کے آستاں پر پریشاں حال کتنا آدمی ہے شب دیر و حرم سے میکدے تک مرے ہی آنسوؤں کی روشنی ہے پلائی عمر بھر ساقی نے لیکن مری قسمت میں اب تک تشنگی ہے ہم اپنے آپ کے قاتل بنے ہیں یہ کس تہذیب کی جادوگری ہے سنو آواز تم میرے ...

مزید پڑھیے

کلیوں میں تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں

کلیوں میں تازگی ہے نہ خوشبو گلاب میں پہلی سی روشنی کہاں جام شراب میں پوچھو نہ مجھ سے عشق و محبت کے سلسلے لذت سی مل رہی ہے مجھے ہر عذاب میں یہ راز جانتی نہ تھی تاروں کی روشنی کتنا حسین چاند چھپا تھا نقاب میں دو کانپتے لرزتے لبوں کی نوازشیں لہرا کے ڈھل گئیں مرے جام شراب میں ہم ...

مزید پڑھیے

وہ نغمگی کا ذائقہ اس کی صدا میں تھا

وہ نغمگی کا ذائقہ اس کی صدا میں تھا پھیلا ہوا وہ نور سا ساری فضا میں تھا چپ چاپ بے زباں کوئی میری انا میں تھا ورنہ کہاں یہ حوصلہ میری بنا میں تھا وہ میرے سانس کی دھنک میں جھولتا تھا کون کس کا تھا رنگ روپ جو حسن خلا میں تھا جو چھو رہا تھا میرے بدن ہی کو بار بار تیرے خلوص کا کوئی ...

مزید پڑھیے

تن پر تیری پیاس اوڑھ کے گاتی ہوں

تن پر تیری پیاس اوڑھ کے گاتی ہوں میں تیری مسکان لئے مسکاتی ہوں میرے نینن تیرے چاند ستارے ہیں تیری سوچ کو نیل گگن پہناتی ہوں تیرے گیتوں کی مدماتی مدرا کو دن رینا پیتی ہوں اور پلاتی ہوں تن درپن کا پانی اور دمک اٹھے جب میں تیرے نین سے نین ملاتی ہوں تنہائی جب نام ترا دہراتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 630 سے 5858