والد کے انتقال پر
وہ چالیس راتوں سے سویا نہ تھا وہ خوابوں کو اونٹوں پہ لادے ہوئے رات کے ریگزاروں میں چلتا رہا چاندنی کی چتاؤں میں جلتا رہا میز پر کانچ کے اک پیالے میں رکھے ہوئے دانت ہنستے رہے کالی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے پھر موتیے کی کلی سر اٹھانے لگی آنکھ میں تیرگی مسکرانے لگی روح کا ہاتھ چھلنی ...