وقت کی پیٹھ پر
وقت کی پیٹھ پر کچے لمحوں کے دھاگوں میں لپٹا ہوا شہر کی سیڑھیوں پر سرکتا ہوا نت نئے خودکشی کے طریقوں کا موجد بنا حبشی راتوں کے جنگل میں بکھری ہوئی لمس کی ہڈیاں چن رہا ہوں نہ جانے میں کس کے لیے جب مرے نام کے لفظ تنہا تھے لوگو تمہیں سرخ ہونٹوں کی خیرات کیسے ملی یہ بتاؤ ریفریجیٹر میں ...