مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم
مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم کیوں تنگ ہوں گے کشمکش زندگی سے ہم کوہ الم اٹھا ہی لیا راہ عشق میں اپنی خوشی کو چھوڑ کے تیری خوشی سے ہم لب ہائے یار نے تو گلستاں پرو لئے خوشبو جو پا رہے ہیں تری پنکھڑی سے ہم اپنی بہار دیکھ کے حیران رہ گئے واقف ہوئے ہیں جب سے رموز خودی سے ہم میری ...