پیدا ہوا یہ حباب کیسا
پیدا ہوا یہ حباب کیسا دریا میں ہے پیچ و تاب کیسا اب فصل جنوں کہاں ہے باقی پھر دیکھ رہا ہوں خواب کیسا تھا دست ہنر میں موم سا جو پتھرا گیا وہ شباب کیسا سم سم کی صدا پہ کھل رہا تھا تھا حلقۂ در سراب کیسا ایک ایک ورق پڑھا ہوا سا ہے نسخۂ انتخاب کیسا پرتو سے ترے وجود میرا آغوش میں لے ...