نقش یقیں ترا وجود وہم بجھا گماں بجھا
نقش یقیں ترا وجود وہم بجھا گماں بجھا کار حبیب کے طفیل روزن رائیگاں بجھا فرد سیاہ کو مری نوک سناں پہ لائے تھے ان کی نگاہ پڑ گئی عرصۂ امتحاں بجھا مست روی کے درمیاں کون قدم قدم گنے مشعل دل کہاں جلی شعلۂ جاں کہاں بجھا میرے جنوں کا سلسلہ مرحلہ وار ہو گیا پہلے زمین بجھ گئی بعد میں ...