کسک
خامشی ٹوٹ چکی تھی چڑھتی عمر کا نشہ اب بولنے لگا تھا سویا نہیں تھا ابھی کمسنی کا الہڑ پن اس کے پیکر کے خطوط نفیس طبیعت نرم لہجہ بولتی آنکھیں لمبے گھنے ملائم بال اس کے کاندھوں پہ یوں بکھرتے جیسے برستی گھٹائیں فضا میں اپنا جادو جگانے کو بے قرار ہوں میرے اور اس کے ہونٹوں کا گلابی پن ...