شاعری

چاند کا بچہ

وہ دیکھو وہ نکلا چاند اماں تم نے دیکھا چاند یہ بھی کیا بچہ ہے اماں چھوٹا سا منا سا چاند اتنا دبلا اتنا پتلا کب ہوتا ہے ایسا چاند اماں اس دن جو نکلا تھا وہ تھا گول بڑا سا چاند بادل سے ہنس ہنس کر اس دن کیسا کھیل رہا تھا چاند چھپ جاتا تھا نکل آتا تھا کرتا تھا یہ تماشا چاند اپنے بچے کو ...

مزید پڑھیے

مچھر اور مچھرانیاں

ٹوٹی پھوٹی موری میں اک مچھر صاحب رہتے ہیں شاید وہ گھر میں بھی اپنے مچھر ہی کہلاتے ہیں بیویاں ان کی چار عدد ہیں مچھرانی کہلاتی ہیں موری والے گھر میں ہی جی چاروں سے بہلاتے ہیں اک دن وہ گھر سے نکلے تو واپس آنا بھول گئے میں تو جانوں اسی طرح سے روز کہیں اڑ جاتے ہیں بیویاں ان کی چپ بیٹھی ...

مزید پڑھیے

بادل اور چاند

نیلے ساگر والے چاند مجھ کو پاس بلا لے چاند برکھا میں جاتا ہے کہاں تو لے کر شال دو شالے چاند تارے ہیں یہ آس لگائے منہ پردے سے نکالے چاند بادل کا اک ہلکا ہلکا منہ پر آنچل ڈالے چاند گنگا کے دھارے میں اتر کر پھر کچھ غوطے کھا لے چاند ابر سیہ میں لپٹ کر نکلا کالی کملی والے چاند لے آیا ہے ...

مزید پڑھیے

وطن کا راگ

بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے ہر رت ہر اک موسم اس کا کیسا پیارا پیارا ہے کیسا سہانا کیسا سندر پیارا دیس ہمارا ہے دکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہے بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے نیارا ہے سارے جگ کے پہاڑوں میں بے مثل پہاڑ ہمالہ ہے پربت سب سے اونچا ہے ...

مزید پڑھیے

سنگم

پریاگ پہ بچھڑی ہوئی بہنیں جو ملی ہیں پانی کی زمیں پر بھی تو کلیاں سی کھلی ہیں کچھ گنگا کا رکنا کچھ جمنا کا جھکنا پھر دونوں کا ملنا وہ پھول سے کھلنا کس شوق سے اٹھلاتی ہوئی ساتھ چلی ہیں یہ عشق و محبت کے نظارے ازلی ہیں کہتے ہیں کہ جنت سے بھی آئی ہے بہن ایک گو تینوں کا ہی اصل میں گھر ...

مزید پڑھیے

جیسا میرا دیس

پھولوں کا ہر سمت مہکنا کلیوں کا ہر روز چٹکنا باغوں میں بلبل کا چہکنا میووں کا شاخوں سے نکلنا جیسا میرا دیس ہے افسرؔ ایسا کوئی دیس نہیں کیسے کیسے اچھے دریا وہ ان کا اٹھلا کے چلنا دو بہنیں ہیں گنگا جمنا دنیا میں ثانی نہیں ان کا جیسا میرا میرا دیس ہے افسر ایسا کوئی دیس نہیں شبنم نے ...

مزید پڑھیے

چاند میں پریاں رہتی ہیں

اماں باجی کہتی ہیں چاند میں پریاں رہتی ہیں رات کو پر پھیلاتی ہیں اور اتر کر آتی ہیں سب بچوں کو سلاتی ہیں اور پھر خواب دکھاتی ہیں اماں باجی کہتی ہیں چاند میں پریاں رہتی ہیں میں تو آج نہ سوؤں گا رات گئے تک جاگوں گا باہر باغ میں بیٹھوں گا چاند کی پریاں دیکھوں گا اماں باجی کہتی ...

مزید پڑھیے

گرمی کی چھٹیاں

مشکل سے پھر اسکول نہ جانے کے دن آئے بے فکری سے پھر وقت گنوانے کے دن آئے پھر رات کو چھپ چھپ کے ڈرانے کے دن آئے سہمے ہوئے لوگوں کو بنانے کے دن آئے پھر بیٹھ کے طبلہ سا بجانے کے دن آئے پھر لیٹ کے تنہائی میں گانے کے دن آئے ہر صبح کو پھر باغ میں جانے کے دن آئے تو کہہ کے وہ کوئل کو چڑھانے ...

مزید پڑھیے

بہار کے دن

آیا ہے بہار کا زمانہ باغوں کے نکھار کا زمانہ کلیاں کیا کیا چٹک رہی ہیں ساری روشیں مہک رہی ہیں ہلکی ہلکی یہ ان کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے چمن میں ہر سو چڑیاں گاتی ہیں گیت پیارے سنتے ہیں چمن میں پھول سارے شاخوں کا بنا لیا ہے جھولا پھولوں سے لدا ہوا ہے جھولا کونپل ہر اک ہے کیسی ...

مزید پڑھیے

کنکوا بن جاؤں

تارا سا لہراؤں کنکوا بن جاؤں جب اماں تم آؤ چھت کو خالی پاؤ چپ کی چپ راہ جاؤ سارے میں ڈھنڈواؤ پھر بھی میں تو نہ آؤں کنکوا بن جاؤں ڈور کو جب تم پاؤ کھینچو اور کھنچواؤ اور ہنستی بھی جاؤ اور پھر مجھ کو بلاؤ تب میں گھر میں آؤں کنکوا بن جاؤں

مزید پڑھیے
صفحہ 5614 سے 5858