زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا
زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی خامشی نے ہیں ...