شاعری

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی خامشی نے ہیں ...

مزید پڑھیے

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس ...

مزید پڑھیے

خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں

خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں جانے کس امید پہ یہ تعویذ دبا کے رکھتا ہوں تاکہ اک اک لفظ مرے لہجے میں تجھ سے بات کرے خط کے ہر ہر لفظ کو خط پر خوب پڑھا کے رکھتا ہوں آس پہ تیری بکھرا دیتا ہوں کمرے کی سب چیزیں آس بکھرنے پر سب چیزیں خود ہی اٹھا کے رکھتا ہوں ایک ذرا سا درد ...

مزید پڑھیے

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے ہم سے پوچھو!! ان آنکھوں کا ایک زمانہ دیکھا ہے تم نے کیسے مان لیا وہ تھک کر بیٹھ گیا ہوگا تم نے تو خود اپنی آنکھوں سے وہ دیوانا دیکھا ہے منزل تک پہنچیں کہ نہ پہنچیں راہ مگر اپنی ہوگی تو رہنے دے واعظ تیرا راہ بتانا دیکھا ہے دھول کا اک ...

مزید پڑھیے

عرض کچھ کرنا تھا فرصت ہو اگر

عرض کچھ کرنا تھا فرصت ہو اگر بول دوں تم سے محبت ہو اگر قدموں پر تیرے دوبارہ ہوں فدا جسم میں تھوڑی بھی حرکت ہو اگر وصل‌ و فرقت کی حدوں سے تو نکل بس محبت ہو محبت ہو اگر کچھ نہ ہو دل میں نہ یادیں ہوں نہ آس ایسے رخصت ہو تو رخصت ہو اگر یاد آتا بھی نہیں اب میں تمہیں یاد آ جاؤں اجازت ہو ...

مزید پڑھیے

نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا

نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا نہ وہ در بچا نہ وہ گھر بچا تیرے بعد کوئی نہ آ سکا نہ وہ حس کسی میں نہ تاب ہے مرا غم تو خیر اٹھائے کون وہ جو مصرعہ غم کا تھا ترجماں کوئی اس کو بھی نہ اٹھا سکا کبھی خوف تھا ترے ہجر کا کبھی آرزو کے زوال کا رہا ہجر و وصل کے درمیاں تجھے کھو ...

مزید پڑھیے

نہ دل کی بے بسی دیکھی نہ آنکھوں کی زباں سمجھے

نہ دل کی بے بسی دیکھی نہ آنکھوں کی زباں سمجھے مرے شکوے کو تم بھی صرف انداز بیاں سمجھے محبت اور کوئی بات سننے ہی نہیں دیتی کسی کی گفتگو نکلی ہم ان کی داستاں سمجھے ہمارے دل سے اٹھتا ہے دھواں بجلی کہیں ٹوٹے چمن کے گوشے گوشے کو ہم اپنا آشیاں سمجھے محبت میں نہ دامن کا بھروسہ ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے خواب تنہا ہیں ہمارے غم اکیلے ہیں

ہمارے خواب تنہا ہیں ہمارے غم اکیلے ہیں گھرے ہیں کتنے ہنگاموں میں پھر بھی ہم اکیلے ہیں تمہارے پاس بھی سوکھے ہوئے کچھ پھول ہیں تنہا ہمارے ساتھ بھی کھوئے ہوئے موسم اکیلے ہیں چلے آؤ کہ دل کی دھڑکنوں میں نغمگی بھر دیں تمہارا ساز تنہا ہے مرے سرگم اکیلے ہیں بھری محفل میں یہ احساس ...

مزید پڑھیے

ہماری پیاس افسانہ بنی ہے

ہماری پیاس افسانہ بنی ہے یہی موضوع مے خانہ بنی ہے ہمارے دل کی حالت کون جانے ہماری وضع شاہانہ بنی ہے محبت نے بھرے دل میں وہ شعلے ذرا سی خاک پروانہ بنی ہے لٹا دی جس پہ دنیا وہ نظر بھی ہمارے غم سے بیگانہ بنی ہے اسی دنیا کے اک گوشے میں یا رب مری دنیا جداگانہ بنی ہے کھنکتی گونجتی ...

مزید پڑھیے

دور دور منزل کا کچھ پتا نہیں ملتا

دور دور منزل کا کچھ پتا نہیں ملتا رات کے مسافر کو راستہ نہیں ملتا وہ ترا ستم جس پر دل کو پیار آتا ہے یہ مری وفا جس کا کچھ صلہ نہیں ملتا درد کے سمندر میں دل کی ناؤ ڈوبی تھی تم کہاں تھے ایسے میں کچھ پتہ نہیں ملتا سب غم محبت کا جبر سہہ نہیں سکتے سب کو زہر پینے کا حوصلہ نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5423 سے 5858