شاعری

پس فصیل زمانوں کا انتظار نہ ہو

پس فصیل زمانوں کا انتظار نہ ہو یہ شہر اور کسی شہر کا غبار نہ ہو یہ خواب بھی نہ کسی خواب کا اشارہ ہو یہ نیند اور کسی نیند کا خمار نہ ہو یہ دشت اور کسی دشت کا سراب سہی یہ باغ اور کسی باغ کی بہار نہ ہو بہت دنوں سے یہی سوچ کر پریشاں ہوں کہ تو بھی میرے گماں ہی کا اعتبار نہ ہو کوئی تو ...

مزید پڑھیے

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو یادوں جیسی تیز ہوا ہو درد سے گہرا پانی ہو ایک ستارہ روشن ہو جو کبھی نہ بجھنے والا ہو رستہ جانا پہچانا ہو رات بہت انجانی ہو وہ اک پل جو بیت گیا اس میں ہی رہیں تو اچھا ہے کیا معلوم جو پل آئے وہ فانی ہو لافانی ہو منظر دیکھنے والا ہو پر کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں تو اے عزیز ہم اکثر اسی سے ملتے ہیں خدا گواہ کہ ان میں وہی ہلاکت ہے یہ تیغ و تیر یہ خنجر اسی سے ملتے ہیں وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہ سو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں بچھا ہوا ہے وہ گویا بساط کی صورت یہ سب سفید و سیہ گھر اسی سے ملتے ...

مزید پڑھیے

میں زیر سایہ کہیں محو خواب تھا بھی نہیں

میں زیر سایہ کہیں محو خواب تھا بھی نہیں کہ آ کے دھوپ جگاتی میں جاگتا بھی نہیں حریم ناز مری دسترس سے دور تو ہے مرے جہان تخیل سے ماورا بھی نہیں یہی ہے عدل تو ایسے نظام عدل پہ خاک ہے فرد جرم بھی عائد مری خطا بھی نہیں ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنا دوست کہیں ہمارے پاس کوئی اور راستہ ...

مزید پڑھیے

گڑیا ایک بنا دو

اچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دو ننھی منی پیاری امی گڑیا ایک بنا دو گورا گورا مکھڑا ہو اور کالی کالی آنکھیں لمبے لمبے بال سنہری مر مر جیسی باہیں سکھیاں دیکھیں دیکھ کے بھرتی رہ جائیں بس آہیں اچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دو ننھی منی پیاری پیاری گڑیا ایک بنا دو نیلے رنگ کی پہنی ...

مزید پڑھیے

رو رو کے بیاں کرتے پھرو رنج و الم خوب

رو رو کے بیاں کرتے پھرو رنج و الم خوب حاصل نہیں کچھ بھی جو نہ ہو رنگ قلم خوب بازار میں اک چیز نہیں کام کی میرے یہ شہر مری جیب کا رکھتا ہے بھرم خوب منزل تو کسی خاص کو ہی ملتی ہے، ورنہ دیکھے تو سبھی نے ہیں مرے نقش قدم خوب یہ ٹھیک ہے رشتے میں بندھا رہتا ہے اب دل اس کعبے میں ہوتا تھا ...

مزید پڑھیے

الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں

الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں عشق میں ٹپکیں تو ہیں موتی، نفرت میں انگارے ہیں تم سے مل کر کھل اٹھتا تھا، تم سے چھوٹ کے پھیکا ہوں اے رنگریز مرے چہرے کے سارے رنگ تمہارے ہیں گرمی کی لو میں تپنے کے بعد ہی پانی کا ہے مزہ تجھ کو جیتنا آساں تھا، ہم جان کے تجھ کو ہارے ...

مزید پڑھیے

دکھے دلوں پہ جو پڑ جائے وہ طبیب نظر

دکھے دلوں پہ جو پڑ جائے وہ طبیب نظر تو باغ دل میں بھی آ جائیں عندلیب نظر ہر ایک صبح وضو کرتی ہیں مری آنکھیں کہ شاید آج تو آ جائے وہ حبیب نظر اسی طرح سے رہ یار کو تکے جانا حد نظر کو گرا دے گی عن قریب نظر تو انتظار سے چھٹ کر ہے خوش مگر مجھ کو گھڑی جدائی کی آنے لگی قریب نظر بجھا دو ...

مزید پڑھیے

اتنا کرم اتنی عطا پھر ہو نہ ہو

اتنا کرم اتنی عطا پھر ہو نہ ہو تم سے صنم وعدہ وفا پھر ہو نہ ہو یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو شاید یہ منظر اس کے آنے تک ہی ہو آنکھوں میں دم اٹکا ہوا پھر ہو نہ ہو منزل تک اپنا ساتھ ہے، گاتے چلیں تو ہم قدم تو ہم نوا پھر ہو نہ ہو آگے تھکن کر دے نہ کم ...

مزید پڑھیے

گل تھا بلبل تھی گلستاں میں مگر تو ہی نہ تھا

گل تھا بلبل تھی گلستاں میں مگر تو ہی نہ تھا کیا گلستاں وہ گلستاں تھا اگر تو ہی نہ تھا شور و ہنگامہ تو عاشق کو نہیں دیتا ہے زیب سب ہی زخمی تھے وہاں زیر و زبر تو ہی نہ تھا رنگ کتنے تھے مگر تجھ کو نہ تھا شوق حیات ہم سفر کتنے تھے مشتاق سفر تو ہی نہ تھا چاہ شہرت کہ نہ کر پر تو یوں رسوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5422 سے 5858