شاعری

اکیلے اکیلے ہی پا لی رہائی

اکیلے اکیلے ہی پا لی رہائی مجھے مارے جاتی ہے تیری جدائی یہ آہنگ نغمہ یہ رنگ تغزل ہر اک چیز تیری ہی خاطر رچائی مری جاں یہ کیسا ستم وقت کا ہے ہے میری ہی قسمت میں نوحہ سرائی ستاروں کی گردش دلوں کا بچھڑنا یہ کیسے خدا کی ہے کیسی خدائی نہ پوچھو ابھی حال آہنؔ کا یارو کبھی جاں بہ لب ہے ...

مزید پڑھیے

جلا کے دل کو رکھا صبح و شام روز و شب (ردیف .. ن)

جلا کے دل کو رکھا صبح و شام روز و شب مرا کمال کمال چراغ ہے کہ نہیں رہا ہے مشت تراب ازل مرا منبع مری یہ خاک کمال ایاغ ہے کہ نہیں مجھے بنایا سراپا سوال اب تو بتا مری تلاش کمال سراغ ہے کہ نہیں غم وجود کا ماتم کروں تو کیسے جیوں مگر خدا ترے دامن پہ داغ ہے کہ نہیں جو کھو گیا ترا آہنؔ ...

مزید پڑھیے

میں محفل حیات میں حیران سا رہا

میں محفل حیات میں حیران سا رہا ہر ایک کی نگاہ میں انجان سا رہا کچھ کر سکا نہ شام تلک راہ شوق میں ہر پل ہر ایک گام پہ بے جان سا رہا پلکیں اٹھا کے دیکھ سکا میں نہ ایک بار میرا خرد جنوں کا نگہبان سا رہا راہ حیات میں نہ ملی ایک پل خوشی غم کا یہ بوجھ دوش پہ سامان سا رہا بوے گل و سمن کی ...

مزید پڑھیے

تری آشنائی سے تیری رضا تک

تری آشنائی سے تیری رضا تک مری بات پہنچی ہے اب انتہا تک وہ پہلی نظر جس سے گھائل ہوا تھا وہ پہلی خطا تھی جو پہنچی خطا تک تری شوخیوں نے بھی جرأت بڑھا دی یوں ہی ہاتھ میرے نہ پہنچے ردا تک کہاں تک تعاقب میں پھرتا رہا میں نشاں تک زباں تک ادا تک لقا تک وہ جادو ادائیں اداؤں میں جادو یہ ...

مزید پڑھیے

یہ غازہ ہے کاجل ہے ابٹن ہے کیا ہے

یہ غازہ ہے کاجل ہے ابٹن ہے کیا ہے یہ رنگ حنا داغ دامن ہے کیا ہے لٹک ہے مٹک ہے جھٹک ہے ادا ہے کھٹک ہے دھڑک ہے کہ دھڑکن ہے کیا ہے حیا کی بہاریں ہیں رعنائیوں پر یہ جلوہ ہے مستی ہے جوبن ہے کیا ہے یہ پھیلی ہوئی خوشبوؤں کی گھٹائیں یہ گیسو ہے کاکل ہے الجھن ہے کیا ہے تبسم کی بجلی قیامت ...

مزید پڑھیے

لگا کے آگ بجھانے کی بات کرتے ہو

لگا کے آگ بجھانے کی بات کرتے ہو پھپھولے دل میں سجانے کی بات کرتے ہو نہیں سمجھتے مری حالت دروں کو تم فقط جو کرتے بہانے کی بات کرتے ہو سناؤں میں جو کبھی حال اپنی الفت کا ثبوت مجھ سے دکھانے کی بات کرتے ہو گزار کر میں یہاں آیا ہوں شب ظلمت کرم نہ کر کے جلانے کی بات کرتے ہو جو پوچھتا ...

مزید پڑھیے

ہم آج بزم رقیباں سے سرخ رو آئے

ہم آج بزم رقیباں سے سرخ رو آئے یہ ہے عجیب کہ اب وہ بھی ہو بہ ہو آئے ہے کون یاں جو نہیں جام و مے کا شیدائی یہ کب ہو آپ ہی چل کر کہیں سبو آئے سبھی نے جان دی تیری گلی میں اے ہمدم کسے مجال کہ اب تیرے رو بہ رو آئے ترے فراق میں ہم نے بہائے اشک جگر یہ سب نے چاہا مگر آئے تو لہو آئے ہے اب ...

مزید پڑھیے

یہ ترے لمس کا احساس جواں تر ہو جائے

یہ ترے لمس کا احساس جواں تر ہو جائے یہ ترے قرب میں ہر سانس جواں تر ہو جائے چاہ اک دیر سے اک راہ تکا کرتی ہے آؤ پہلے کہ وہاں گھاس جواں تر ہو جائے ہیں کئی چہرے گزرتے ہوئے راہ دل سے دیکھیے کون سا الماس جواں تر ہو جائے رسم دنیا کے سلاسل میں گرفتاری ہے مت ٹھہرنا کہ کہیں پھانس جواں تر ...

مزید پڑھیے

آوارگی

خشک پتوں کی سیج پر سرد راتوں کے درمیاں تیری یادوں کی چھاؤں میں لرزاں لرزاں ترساں ترساں ماضی کا کوئی لمحہ حال کی دہلیز پر آہستہ آہستہ غلطاں غلطاں قدم رکھتا ہے تو یخ بستہ جنوں پا بجولاں رو بہ رو دوڑ جاتا ہے

مزید پڑھیے

محبوبہ اور موت

محبوبہ اور موت میں اک مماثلت ہے کہ مجھے دونوں سے محبت ہے اے موت کیا بتاؤں کہ تیرے جیسا کون ہے کہ جس سے مجھ کو پیار ہے کہ اس پہ سب نثار ہے میں چاہتا ہوں اس کو بھی تیری طرح تیری طرح ہاں وہ بھی تیرے جیسی ہے میں ڈھونڈھتا ہوں دونوں کو خلاؤں میں فضاؤں میں اے موت اب کہاں ہے تو کدھر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5424 سے 5858